صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا: باب: کھانے، پینے اور سونے کے آداب کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " .سفیان بن عینیہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (منہ لگا کر پینے کے لیے) مشکوں کو الٹانے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا " .یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کو الٹنے سے (یعنی براہ راست) ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَاخْتِنَاثُهَا أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ .معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، البتہ انہوں نے کہا: ان (مشکوں) کا اختناث یہ ہے کہ مشک کا منہ الٹ کر اس میں سے (براہ راست) پانی پیا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اختناث: منہ موڑنا یا اس کا سرا موڑنا۔
یعنی بقول خطابی لفظ ''اختناث'' کی تفسیر زہری کا کلام ہے۔
مسند ابو بکر بن ابی شیبہ میں ہے کہ ایک شخص نے مشک سے منہ لگا کر پانی پیا اس کے پیٹ میں مشک سے ایک چھوٹا سانپ داخل ہو گیا، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔
جن روایتوں سے جواز ثابت ہوتا ہے ان کو اس واقعہ نے منسوخ قرار دیا ہے۔
(فتح الباری)
یہ تشریح گذشتہ حدیث سے متعلق ہے۔
(19 مشکیزے کے منہ سے یا نل کو منہ لگا کر پانی پینا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔
ممکن ہے کہ مشکیزہ خراب ہو، اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے اندر کوئی موذی چیز داخل ہو گئی ہو اور پینے والے کو اس کی خبر نہ ہو اور تکلیف پہنچے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات کے وقت مشکیزے کا منہ الٹایا تو اس سے سانپ نکل آیا۔
(سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3419) (2)
انسان کو چاہیے کہ حتی الوسع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کرے، بصورت دیگر نقصان کا اندیشہ ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1890]
وضاحت:
1؎:
اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: (1)
مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتاہے۔
(2)
اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو۔
(3)
مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا، اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جا سکتا ہے کہ جس میں اُچھو آنے کا خطرہ ہوتاہے جو نقصان دہ ہوسکتاہے۔
(4) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے۔
(5) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے۔
(6) عذرکی صورت میں جائز ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3720]
فائدہ۔
اس سے اگلی حدیث (3721) میں اس کے جواز کا بیان ہے۔
لیکن وہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اس لئے ممانعت ہی کو ترجیح ہے۔
تاہم یہ ممانعت بطور تنزیہی ہے۔
جیسا کہ اس سے پہلے حدیث (3719) کے فوائد میں وضاحت کی گئی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3722]
1۔
حدیث میں قوسین والے الفاظ صاحب بزل المجہود نے حاشیے میں زکرکرتے ہوئے ان کی بابت لکھا ہے۔
کہ سنن ابودائود کے بعض نسخوں میں یہ موجود ہیں۔
ہم نے عوام کے استفادے کےلئے انہیں تحریر کردیا ہے۔
2۔
پیالے یا پلیٹ میں ٹوٹی ہوئی جگہ کی بالمعوم کما حقہ صفائی نہیں ہوتی، اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ جگہ ہونٹوں کو زخمی کردے۔
یا پیتے وقت مشروب ہونٹوں سے باہر گرنے لگے جو کسی طرح مناسب نہیں۔
ایسے ہی پانی چائے دودھ یا دوسری خوراک میں پھونک مارنا کسی طرح جائز نہیں۔
مگر دم کےلئے پھونک مارنے میں اختلاف ہے۔
کچھ علماء عموم کے تحت اسے بھی ناجائز کہتے ہیں۔
جب کہ کچھ علماء کا موقف ہے کہ دم میں سورۃ فاتحہ اور مسنون دعایئں پڑھنے کی وجہ اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لئے دم کرکے پھونک مارنا جائز ہے۔
(تفصیلی دلائل کےلئے ملاحظہ ہو۔
ہفت روزہ الاعتصام لاہور یکم اگست 2003۔
جلد 555 شمارہ 3) خیال رہے کہ علماء کرام کا اس قسم کی احادیث میں ان منہیات کو نہی تنزہیی یا مکروہ تنزیہی کہنے کا مفہوم یہ ہوتا ہے۔
کہ اگر کبھی ایسا ہوجائے تو اس کے مرتکب کو مرتکب کبیرہ نہ سمجھا جائے۔
ارشادرسولﷺ بہرحال واجب التعمیل ہوتا ہے۔
اگر کوئی اسے لایعنی جانے یا تحقیر کرتے ہوئے عمداً مخالفت کرے تو یہ کفر ہے۔