صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا اپنی امت کے لئے اور رونا ان کے حال پر شفقت سے۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ : رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي سورة إبراهيم آية 36 الآيَةَ ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، وَبَكَى ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ ، وَهُوَ أَعْلَمُ ، فَقَالَ اللَّهُ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، فَقُلْ : إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ " .حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ’’اے پروردگار! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے، ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا ان میں سے) لہٰذا جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قول: «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو بلاشبہ تو ہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: ”اے اللہ! میری امت، میری امت“ اور (بے اختیار) رو پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ’’اے جبریل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننے والا ہے، ان سے پوچھو کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے؟‘‘ جبریل آپ کے پاس آئے اور (وجہ) پوچھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی تھی ان کو بتائی، جبکہ وہ (اللہ اس بات سے) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے جبریل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور ہم آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اکرم ﷺ اپنی امت کے لیے انتہائی رحیم وشفیق ہیں اوراپنی امت کی نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضورگریہ وزاری فرماتے تھے۔
(2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ ﷺ کا مقام ومرتبہ انتہائی بلندوبالاہے۔
جب آپ ﷺ امت کے گناہوں کے مواخذہ کے تصور سے روئے، تو فوراً حضرت جبریل ؑ کو آپ کی خدمت میں رونے کا سبب پوچھنے کے لیے بھیجا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو سبب کا خوب علم تھا۔
(3)
آداب دعا میں ہاتھ اٹھانابھی داخل ہے۔
(4)
امت کے گناہ گاروں کے لیے انتہائی امید افزا بات ہے، بلکہ عظیم بشارت ہے کہ آیت مبارکہ ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ﴾ ’’اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔
‘‘ کاتعلق آخرت سےبھی ہے، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں صرف راضی ہی نہیں فرمائےگا، بلکہ آپ ﷺ کو رنج وغم سےمحفوظ فرمائے گا، اور یہ تبھی ہو گا جب آپ کی امت کے تمام افرادنجات پا جائیں۔
اگر آپ ﷺ کی امت کا کوئی فرد اپنے گناہوں کی پاداش میں جہنم میں رہ جائے گا، تو یہ تو آپ کے لیے رنجیدگی کا باعث رہے گا۔