صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب الأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلاَقِ الأَبْوَابِ وَذِكْرِ اسْمِ اللَّهِ عَلَيْهَا وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ: باب: سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، مشکیزوں کے منہ باندھنے، دروازوں کو بند کرنے،، چراغ بجھانے، بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکلالنے کے استحباب کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " غَطُّوا الْإِنَاءَ ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ ، وَأَغْلِقُوا الْبَابَ ، وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً ، وَلَا يَفْتَحُ بَابًا ، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا ، وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ ، فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَة فِي حَدِيثِهِ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتنوں کو ڈھانک دو، مشکوں کا منہ بند کردو، دروازہ بند کردو، اور چراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا، وہ دروازہ (بھی) نہیں کھولتا، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو اس کے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے، یا اس پر اللہ کا نام (بسم اللہ) پڑھ دے تو (یہی) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر (یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں) ان کا گھر جلادیتی ہے۔“ قتیبہ نے اپنی حدیث میں: ”اور دروازہ بند کردو“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَعْرِيضَ الْعُودِ عَلَى الْإِنَاءِ .امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، مگر انہوں نے (یوں) کہا: ”برتن الٹ کر رکھ دو یا انہیں ڈھانک دو۔“ اور برتن پر چوڑائی کے رخ لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْبَابَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ ، وَقَالَ : تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ .زہیر نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ بند کردو“، پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ انہوں نے کہا: ”اور برتنوں کو ڈھانک دو“ اور کہا: ”وہ (چوہیا) گھروالوں پر ان کے کیڑے جلا دیتی ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ، وَقَالَ : وَالْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ .سفیان نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کے مانند روایت کی اور فرمایا: ”چوہیا گھروالوں کے اوپر گھر کو جلا دیتی ہے۔“
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کی تاریکی کا آغاز ہو یعنی سورج ڈوبنے لگے یا شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لو، باہر نہ نکلنے دو، کیونکہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں تو جب رات کا کچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، دروازے بسم اللہ پڑھ کر بند کر لو، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا اور بسم اللہ پڑھ کر اپنے مشکیزہ کا منہ باندھ لو اور بسم اللہ پڑھ کر اپنے برتن ڈھانپ لو، خواہ ان پر کوئی چیز ہی رکھ دو اور اپنے چراغوں کو بھجا دو۔‘‘
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَحْوًا مِمَّا أَخْبَرَ عَطَاءٌ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَقُولُ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ،امام صاحب ایک اور استاد سے بسم اللہ کے ذکر کے بغیر مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍكرواية روح .امام دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(صلی اللہ علیہ وسلم)
(1)
ایک حدیث میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کوئی چوہیا چراغ کی بتی گھسیٹ کر لے آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر دال دی جس پر آپ تشریف فرما تھے اور ایک درہم کے برابر جگہ جل گئی تو آپ نے فرمایا: ’’جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ شیطان اس جیسی مخلوق کو اس قسم کا کام سجھا دیتا ہے اور تمھارے گھروں میں آگ لگادیتا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5247) (2)
بہرحال رات کو سوتے وقت آگ، کوئلے والی انگیٹھی، گیس یا بجلی کے ہیٹر اور بتی والے چراغ وغیرہ بجھا کر سونا چاہیے ور نقصان ہوسکتا ہے، نیز اس قسم کے حادثات میں درحقیقت شیطانی حرکت کا عمل دخل ہوتا ہے، اس لیے اس کے شر سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔
واللہ المستعان
(1)
اگرچہ اللہ تعالیٰ نےشیطان کو ایسی قدرت دی ہے کہ وہ ایسی جگہوں میں داخل ہو جاتا ہے جہاں انسان نہیں جا سکتا لیکن اللہ کے ذکر سے اس کی یہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لے کر دروازہ بند کرو بلاشبہ شیطان بند دروازے نہیں کھول سکتا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5246(2012)
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان جب اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اللہ کا نام لیتا ہے اور اپنے کھانے پر بھی اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے: تمھارے لیے یہاں رات کا کوئی ٹھکانا ہے اور نہ رات کا کھانا ہے۔
اور جب انسان داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے کہ تمھیں رات کا ٹھکانا مل گیا۔
اورجب کھانے پر اللہ کا نام نہ لے تو کہتا ہے: تمھیں رات کے ٹھکانے کے ساتھ ساتھ کھانا بھی مل گیا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3765) (2)
بہرحال شیطان کے حملے انتہائی مخفی، شدید اور مسلسل ہوتے ہیں، ان سے بچاؤ کا یقینی طریقہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
واللہ المستعان
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے جتنے اوامر ہیں وہ استحباب پر محمول ہیں۔
ان پر عمل کرنے سے انسان تکلیفوں سے محفوظ رہتاہے۔
2۔
برتنوں کو ڈھانپنے کے کئی فوائد ہیں: وہ شیطاطین اور ان کی نجاستوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
ان میں کیڑے مکوڑے داخل نہیں ہوتے اور وبائی امراض بھی ان سے دور رہتی ہیں۔
اگرکوئی ڈھکن وغیرہ نہ ملے تو برتن پر کوئی لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے۔
چراغ بجھادینے کا حکم اس لیے دیا کہ چوہے کی شرارت سے گھر کے جلنے کا اندیشہ ہے۔
اگرقندیل یا بجلی کا بلب ہے جس کی وجہ سے جلنے جلانے تک معاملہ نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں۔
بہرحال بجلی کی اشیاء کو بھی بجھادینابہتر ہے کیونکہ کسی تار کے شارٹ ہونے سے آگ لگنے کا خطرہ بدستور موجود رہتا ہے۔
3۔
واضح رہے کہ جن اور شیطان کی حقیقت ایک ہے، البتہ ان کی صفات مختلف ہیں۔
روایت میں دونوں کا ذکرصحیح ہے۔
دروازے کو بند کرنے کی تاکید بھی ہے۔
(1)
خالی چھوٹا برتن الٹا کر کے رکھ دینے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے مذکورہ بالا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔
جب برتن میں کوئی چیز ہو یا برتن زیادہ بڑا ہو تو ڈھانپ دینا چاہیے۔
(2)
غور فرمائیں ہماری شریعت کس قدر کامل ہے کہ اس میں روزمرہ کی ضروریات کے متعلق پوری پوری رہنمائی ہے جن کی طرف عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔
خطرناک اشیاء سے احتیاط ضروری ہے۔
دروازہ بند کرتے وقت، برتن ڈھانکتے وقت اور مشکیزے کا منہ باندھتے وقت اگر اللہ کا نام لے لیا جائے تو اس کی برکت سے انسان شیطانی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
اگر سنت سمجھ کر ان پر عمل کیا جائے تو خارجی حفاظت کے ساتھ ساتھ یہ امور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں اور ثواب بھی ملتا ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (سوتے وقت) دروازہ بند کر لو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، (اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1812]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے: (1)
بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرنے سے بندہ جن اور شیاطین سے محفوظ ہوتا ہے۔
(2)
اور چوروں سے بھی گھر محفوظ ہوجاتاہے۔
(3)
برتن کا منہ باندھنے اور ڈھانپ دینے سے اس میں موجود چیزکی زہریلے جانوروں کے اثرات نیز وبائی بیماریوں اور گندگی وغیرہ سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
(4) چراغ اور آگ کے بجھانے سے گھر آگ کے خطرات سے محفوظ ہوتاہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3731]
1۔
شیطان کی عداوت اورشرارت بہت مخفی اور مسلسل ہوتی ہے۔
اس کا مقابلہ اللہ کے نام ہی سے ممکن ہے۔
اس لئے مناسب مواقع پر مسنون دعایئں پڑھتے رہنا چاہیے۔
بالخصوص معمول کے چھوٹے چھوٹے کاموں پربسم اللہ کہنا اپنی عادت بنالینا چاہیے۔
2۔
حفظان صحت وغیرہ کے اصولوں کی پابندی کرنافطرت ہے، لیکن اگر انسان سنن نبویہ پر عمل کرنے کی نیت سے یہ سب کچھ کرے تو یہ امورتقرب الٰہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اور ثواب بھی ملتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3410]
فوائد ومسائل: (1)
شریعت اسلامیہ اس قدر کامل ہے۔
کہ اس میں روز مرہ کے ان معاملات میں بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
جن کی طرف عام طور پرتوجہ نہیں دی جاتی۔
(2)
خطرناک اشیاء کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
(3)
یہ ہدایات رات کوسوتے وقت عمل کرنے کے لئے دی گئی ہیں۔
دیکھئے۔ (صحیح البخاري، الأشربة، باب تغطیة الإناء، حدیث: 5623)
(4)
دروازہ بند کرتے وقت برتن ڈھانکتے وقت او ر مشک کا منہ باندھتے وقت بسم اللہ کہنا چاہیے۔ (صحیح بخاری حوالا مذکورہ بالا)
اس کی برکت سے شیطان کی شرارت سے حفاظت رہتی ہے۔
(5)
سوتے وقت کمرے میں اندھیرا ہونا آرام دہ نبیذ کا باعث ہے۔
(6)
چراغ گل کرنے میں یہ حکمت ہے کہ چوہیا جلتی بتی لے کر چھت میں چلی جاتی ہے۔
جس سے لکڑی کی چھت کو آگ لگ جاتی ہے۔
اس لئے تیل کے چراغ یا موم بتی وغیرہ کو بجھا دینا ضروری ہے البتہ بجلی کا ہلکی روشنی والا بلب روشن رکھا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ نہیں۔
واللہ اعلم۔
«. . . أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”أغلقوا الباب، وأوكوا السقاء، وأكفئوا الإناء، وأطفئوا المصباح. فإن الشيطان لا يفتح غلقا، ولا يحل وكاء، ولا يكشف إناء، وإن الفويسقة تضرم على الناس بيتهم . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ بند کرو اور مشکیزے کا منہ باندھ لو، برتن کو الٹا رکھو یا اس کو ڈھانپ لو اور چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان یقیناً بند دروازے نہیں کھولتا اور نہ تسمہ کھولتا ہے، وہ ڈھانپے ہوئے برتن سے پردہ نہیں ہٹاتا اور چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 476]
[وأخرجه مسلم 2012، من حديث ما لك به ورواہ اليث بن سعدعن ابي الزبير به عند مسلم 2012/96]
تفقه
➊ اسلام مکمل دین ہے جس میں چھوٹی چیزوں سے لے کر بڑے بڑے اصول و عقائد وغیرہ سب کا بیان اور حل موجود ہے۔ اگر لوگ پوری طرح دین اسلام پر عمل کریں تو یہ دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔
➋ جلنے والے چراغ کو بجھا دینے میں حکمت ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے گھر کسی اچانک حادثے سے خاکستر ہونے سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ جلتے ہوئے چراغ کا فتیلہ کوئی چوہا لے کر کہیں پھینک دے اور گھر میں آگ لگ جائے۔
➌ شیطان (اور جنوں) کو یہ قوت نہیں دی گئی کہ وہ بند دروازے کھولتے پھریں یا برتنوں کے ڈھکن ہٹا سکیں۔
➍ پانی کا لوٹا وغیرہ جو رات کو وضو کے لئے رکھا جاتا ہے، ڈھانپنا چاہئے تاکہ شیطان کی شرارتوں، کیڑے مکوڑوں اور موذی جانوروں سے محفوظ رہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں پر بہت زیادہ مہربان اور رؤف رحیم تھے بلکہ آپ پوری انسانیت اور ساری مخلوقات کے لئے رحمت للعالمین تھے۔ آپ نے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اپنی امت کو بتا دی ہیں۔ صلی الله علیہ وآلہ وسلم
➏ اللہ کی اطاعت سے خروج کو فسق کہتے ہیں اور مسلمانوں کو تکلیف دینا اللہ کی اطاعت سے خروج ہے۔ چوہے کو اس لئے فاسق کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔