صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الإِنَاءِ: باب: نبیذ پینے اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ ، فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ : فَشَرِبَ .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپﷺ نے پانی مانگا، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔‘‘ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک نبیذ کا پیالہ لے آیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ خواہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔‘‘ پھر آپﷺ نے پی لیا۔
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " .حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ابوحمید نامی آدمی نقیع جگہ سے دودھ کا پیالہ لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ خواہ اس پر چوڑائی میں لکڑی رکھ دیتے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
مخمر: ڈھانپا گیا، شراب کو اس لیے خمر کہتے ہیں کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور عورت کے دوپٹہ کو خمار کہتے ہیں کہ وہ اس کے سر کوڈھانپ لیتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر گھر سے باہر کوئی کھانے پینے کی چیز لے جانی ہو تو اسے کسی چیز سے ڈھانپ لینا چاہیے، اگر اس کو مکمل طور پر ڈھانپا نہ جا سکے تو اس پر کوئی لکڑی وغیرہ ہی رکھ لینی چاہیے، جو درحقیقت اس بات کی یاد دہانی کرائے گی کہ ڈھانپتے وقت بسم اللہ پڑھ لو تاکہ یہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) “ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3734]
فائدہ: کھانے پینے کی اشیاء کو جب کچھ دوری تک ادھر ادھر لے جانا ہو تو مناسب یہ ہے کہ ڈھانپ کرلے جایا جائے۔