حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَال : قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ " .معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق (ہمدانی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی، انہوں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ دودھ دوہا، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا، آپ نے اسے نوش فرمایا، یہاں تک کہ میں راضی ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَتْبَعَهُ سُراقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ فَرَسُهُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ ، قَالَ : فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : " فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابواسحاق ہمدانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے (مشرکوں کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا (زمین میں) دھنس گیا (یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا)۔ وہ بولا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے، میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی (تو اس کو نجات ملی)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا ، فَقَالَ لِعَازِبٍ : ابْعَثْ مَعِيَ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي ، فَقَالَ لِي أَبِي : احْمِلْهُ فَحَمَلْتُهُ وَخَرَجَ أَبِي مَعَهُ يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي " يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا لَيْلَةَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا كُلَّهَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ ، وَخَلَا الطَّرِيقُ ، فَلَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ حَتَّى رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ بَعْدُ ، فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا ، فَأَتَيْتُ الصَّخْرَةَ ، فَسَوَّيْتُ بِيَدِي مَكَانًا يَنَامُ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّهَا ثُمَّ بَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً ، ثُمَّ قُلْتُ : نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ ، فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا ، فَلَقِيتُهُ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ ؟ ، فَقَالَ : لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قُلْتُ : أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَفَتَحْلُبُ لِي ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَخَذَ شَاةً ، فَقُلْتُ لَهُ : انْفُضْ الضَّرْعَ مِنَ الشَّعَرِ وَالتُّرَابِ وَالْقَذَى ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْفُضُ ، فَحَلَبَ لِي فِي قَعْبٍ مَعَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ ، قَالَ : وَمَعِي إِدَاوَةٌ أَرْتَوِي فِيهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْرَبَ مِنْهَا وَيَتَوَضَّأَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ مِنْ نَوْمِهِ ، فَوَافَقْتُهُ اسْتَيْقَظَ ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْرَبْ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ ، قَالَ : فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ ؟ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : وَنَحْنُ فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُتِينَا ، فَقَالَ : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَطَمَتْ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ ، فَادْعُوَا لِي ، فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ ، فَدَعَا اللَّهَ ، فَنَجَا فَرَجَعَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا ، قَالَ : قَدْ كَفَيْتُكُمْ مَا هَاهُنَا ، فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ ، قَالَ : وَوَفَى لَنَا " ،حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،:حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا،پھر(میرے والد) عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگے:اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیج دیں،وہ اس(کجاوے) کو میرے ساتھ اٹھا کر میرے گھر پہنچادے۔میرے والد نے مجھ سے کہا:اسے تم اٹھا لو تو میں نے اسے اٹھا لیا اور میرے والد اس کی قیمت لینے کے ہے ان کے ساتھ نکل پڑے۔میرے والد نے ان سے کہا:ابو بکر!مجھے یہ بتائیں کہ جس رات آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ہجرت کے لیے) نکلے تو آپ دونوں نے کیا کیا؟انھوں نے کہا:ہاں ہم پوری رات چلتے ر ہے حتیٰ کہ دوپہر کا و قت ہوگیا اور(دھوپ کی شدت سے)راستہ خالی ہوگیا،اس میں کوئی بھی نہیں چل رہا تھا،اچانک ایک لمبی چٹان ہمارے سامنے بلند ہوئی،اس کا سایہ بھی تھا،اس پر ابھی دھوپ نہیں آئی تھی۔ہم اس کے پاس(سواریوں سے) اتر گئے۔میں چٹان کے پاس آیا،ایک جگہ اپنے ہاتھ سے سنواری تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سائے میں سوجائیں،پھر میں نے آپ کے لیے اس جگہ پر ایک نرم کھال بچھادی،پھر عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!سوجائیے اور میں آپ کے اردگرد(کے علاقے) کی تلاشی لیتا ہوں (اور نگہبانی کرتا ہوں) آ پ سو گئے،میں چاروں طرف نگرانی کرنے لگا تو میں نے دیکھا ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چنان کی طرف آرہاتھا۔وہ بھی اس کے پاس اسی طرح(آرام) کرنا چاہتا تھا جس طرح ہم چاہتے تھے۔میں اس سے ملا اور اس سے پوچھا:لڑکے!تم کس کے(غلام) ہو؟اس نے کہا:مدینہ کے ایک شخص کا۔میں نے کہا:کیا تمھاری بکریوں(کے تھنوں) میں دودھ ہے؟اس نے کہا:ہاں۔میں نے کہا:کیا تم میرے لیے دودھ نکالو گے؟اس نے کہا:ہاں۔اس نے ایک بکری کو پکڑا تو میں نے اس سے کہا:تھنوں سے بال،مٹی اور تنکے جھاڑ لو۔(ابو اسحاق نے) کہا:تھنوں سے بال مٹی اور تنکے جھاڑ لو۔(ابو اسحاق نے)کہا:میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر جھاڑ رہے تھے،چنانچہ اس نے میرے لیے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ نکال دیا(حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:میرے ہمراہ چمڑے کا ایک برتن(بھی) تھا،میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی بھر کر رکھتا تھا تاکہ آپ نوش فرمائیں اور وضو کریں۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ کو جگاؤں،لیکن میں پہنچا تو آپ جاگ چکے تھے۔میں نے دودھ پر کچھ پانی ڈالا،یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ بھی ٹھنڈا ہوگیاتو میں نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!یہ دودھ نوش فرمالیں۔آپ نے نوش فرمایا،یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا۔پھر آپ نے فرمایا:"کیا چلنے کاوقت نہیں آیا؟"میں نے عرض کی:کیوں نہیں!کہا:پھر سورج ڈھل جانے کے بعد ہم روان ہوگئے اور سراقہ بن مالک ہمارے پیچھے آگیا،جبکہ ہم ایک سخت زمین میں(چل رہے) تھے۔میں نے عرض کی:ہمیں لیا گیا ہے،آپ نے فرمایا:"غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک زمین میں دھنس گئیں۔میرا خیال ہے۔اس نے کہا:مجھے پتہ چل گیا ہے تم دونوں نے میرے خلاف دعا کی ہے۔میرے حق میں دعا کرو۔(میری طرف سے) تمہارے لیے اللہ ضامن ہے کہ میں ڈھونڈنے والوں کو تمہاری طرف سے لوٹاؤں گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی تو وہ بچ گیا،پھر وہ لوٹ گیا۔جس(پچھاڑنے والے) کو ملتا اس سے یہ کہتا:میں (تلاش کرچکا ہوں) تمہاری طرف سے بھی کفایت کرتا ہوں،وہ اس طرف نہیں ہیں وہ جس کسی کو بھی ملتا اسے لوٹا دیتا۔(حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:انھوں نے ہمارے ساتھ وفا کی۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَبِي رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وقَالَ فِي حَدِيثِهِ : مِنْ رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ ، فَلَمَّا دَنَا دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاخَ فَرَسُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى بَطْنِهِ وَوَثَبَ عَنْهُ ، وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُخَلِّصَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ ، وَلَكَ عَلَيَّ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي ، فَخُذْ سَهْمًا مِنْهَا ، فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِبِلِي وَغِلْمَانِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ ، قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِي إِبِلِكَ ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلًا ، فَتَنَازَعُوا أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَنْزِلُ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ ، فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ ، فَوْقَ الْبُيُوتِ وَتَفَرَّقَ الْغِلْمَانُ ، وَالْخَدَمُ فِي الطُّرُقِ يُنَادُونَ يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .زہیر بن حرب نے مجھے یہی حدیث عثمان بن عمر سے بیان کی، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم نے یہی حدیث بیان کی، کہا: ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، ان دونوں (عثمان اور نضر) نے اسرائیل سے روایت کی، انہوں نے ابواسحٰق سے روایت کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے والد سے تیرہ درہم میں ایک کجاوہ خریدا۔ پھر زہیر کی ابواسحٰق سے روایت کردہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں انہوں نے کہا: عثمان بن عمر کی روایت میں ہے، جب وہ (سراقہ رضی اللہ عنہ) قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی، ان کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک زمین میں دھنس گئیں۔ وہ اچھل کر اس سے اترے اور کہا: اے محمد! مجھے یہ پتہ چل گیا ہے کہ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مشکل سے، میں جس میں پھنس گیا ہوں، چھٹکارہ عطا کر دے اور آپ کی طرف سے یہ بات میرے ذمے ہوئی کہ میرے پیچھے جو بھی (آپ کا تعاقب کر رہا) ہے میں اس کی آنکھوں کو (آپ کی طرف) دیکھنے سے روک دوں گا اور یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر نکال لیں، آپ فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور میرے غلاموں کے پاس سے گزریں گے، ان میں سے جس کی ضرورت ہو اسے لے لیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے تمھارے اونٹوں کی ضرورت نہیں۔“ چنانچہ ہم رات کے وقت مدینہ (کے قریب) پہنچے۔ لوگوں نے اس کے بارے میں تنازع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے ہاں اتریں گے (مہمان بنیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (اپنے دادا) عبدالمطلب کے ننھیال بنو نجار کا مہمان بن کر ان کی عزت افزائی کروں گا۔“ مرد، عورتیں گھروں کے اوپر چڑھ گئے اور غلام اور نوکر چاکر راستوں میں بکھر گئے۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے: اے محمد! اے اللہ کے رسول! (مرحبا) اے محمد! اے اللہ کے رسول! (مرحبا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
كثبة: تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: عربوں کا یہ دستور تھا کہ اگر کسی مسافر کو دودھ کی ضرورت ہوتی تو چرواہا اس کو دے سکتا تھا اور اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آپ سے محبت و عقیدت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے کہ وہ آپ کی پیاس سے بے قرار اور پریشان تھے، جب انہوں نے آپ کو دودھ پیش کیا اور آپ نے پی کر اپنی پیاس بجھائی تو ان کی بے قراری کو قرار آ گیا اور وہ راضی خوش ہو گئے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے حدیث ہجرت بیان کرنے کے بعد اس دوران میں پیش آنے والے چیدہ چیدہ واقعات بیان کرنا شروع کیے ہیں۔
ان واقعات میں ایک واقعہ حضرت سراقہ بن مالک ؓ کا ہے۔
جب انھوں نے انعام کے لالچ میں رسول اللہ ﷺکا تعاقب کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس پر بددعا کی: ’’اےاللہ! تو اپنی مرضی کے مطابق اس کی طرف سے ہمارے لیے کافی ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 301/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے بددعا کی: ’’اے اللہ! اسے زمین پر گرادے۔
‘‘ تو اس کے گھوڑے نے اسی وقت اسے زمین پر پٹخ دیا۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3911۔
)
2۔
دوسرا واقعہ چرواہے کی ایک بکری سے دودھ دوہنے کا ہے جس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔
یہاں بھی آپ کے کچھ معجزات کا ذکر ہے جس سے آپ کی صداقت اور حقانیت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
اہل بصیرت کے لیے آپ کے رسول برحق ہونے میں ایک ذرہ برابر بھی شک وشبہ کرنے کی گنجائش نہیں اور دل کے اندھوں کے لیے ایسے ہزار نشانات بھی ناکافی ہیں۔
1۔
سفر ہجرت میں رسول اللہ ﷺ سے بہت سے معجزات کا ظہور ہوا جن کی تفاصیل مختلف روایات میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث میں بھی آپ کے کچھ معجزات کاذکر ہے جن سے آپ کی صداقت اور حقانیت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
اہل بصیرت کے لیے ایک ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں البتہ عقل کے اندھوں کے لیے ایے ہزاروں،لاکھوں نشانات بھی ناکافی ہیں۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تابع کو اپنے متبوع کی خد مت کرنی چاہیے۔
3۔
دوران میں سفر چھاگل یا کوزہ وغیرہ پاس رکھنا چاہیے تاکہ پانی پینے اور وضو کرنے میں آسانی رہے نیز اس میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی فضیلت ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی عظیم شخصیت محو استرحت ہو تو اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔
4۔
اس حدیث میں بکریوں کے چرواہے کے متعلق شک ہے کہ مدینے یا مکے کا رہنے والا تھا۔
درحقیقت وہ مکہ مکرمہ کے ایک قریشی کا غلام تھا کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ یثرب کے نام سے مشہور تھا۔
رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اسے مدینہ کا نام دیا گیا نیز اتنی دور سے مسافت طے کر کے بکریاں چرانے کے لیے جانا بہت مشکل ہے ایک روایت میں صراحت ہے کہ وہ کسی قریشی کا غلام تھا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدینہ طیبہ کا نہیں تھا کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ میں کوئی قریشی رہائش پذیر نہیں تھا۔
(عمدة القاري: 351/11)
ہجرت سے متعلقہ دیگر واقعات کی تفصیل ہم حدیث 3906کے تحت بیان کریں گے۔
إن شاء اللہ۔
بعض نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی باغ پر سے گزرے یا جانوروں کے گلے پر سے تو باغ کا پھل یا جانور کا دودھ کھا پی سکتا ہے۔
گو مالک سے اجازت نہ لے، مگر جمہور علماءاس کے خلاف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بے ضرورت ایسا کرنا جائز نہیں۔
اور ضرورت کے وقت اگرکر گزرے تو مالک کو تاوان دے۔
امام احمد نے کہا اگر باغ پر حصار نہ ہو تو تر میوہ کھا سکتا ہے۔
گو ضرورت نہ ہو۔
ایک روایت یہ ہے کہ جب اس کی ضرورت اور احتیاج ہو، لیکن دونوں حالتوں میں اس پر تاوان نہ ہوگا۔
اور دلیل ان کی امام بیہقی کی حدیث ہے ابن عمر ؓ سے مرفوعاً جب تم میں سے کوئی کسی باغ پر سے گزرے تو کھا لے۔
لیکن جمع کرکے نہ لے جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج کل کے حالات میں بغیر اجازت کسی بھی باغ کا پھل کھانا خواہ حاجت ہو یا نہ ہو مناسب نہیں ہے۔
اسی طرح کسی جانور کا دودھ نکال کر از خود پی لینا اور مالک سے اجازت نہ لینا، یہ بھی اس دور میں ٹھیک نہیں ہے۔
کسی شخص کی اضطراری حالت ہو، وہ پیاس اور بھوک سے قریب المرگ ہو اور اس حالت میں وہ کسی باغ پر سے گزرے یا کسی ریوڑ پر سے، تو اس کے لیے ایسی مجبوری میں اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ بعد میں مالک اگر تاوان طلب کرے تو اسے دینا چاہئے۔
(1)
ابواب لقطہ میں اس حدیث کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ حدیث بھی احکام لقطہ پر مشتمل ہے۔
اس میں ایک ایسی چیز کا ذکر ہے جس کا حال لقطہ کے حال سے ملتا جلتا ہے، یعنی ایسی بکری کا دودھ پینا جس کا چرواہا تنہا جنگل میں ہے اور اس سے زائد دودھ یقینا بیکار ہو جائے گا، اس لیے یہ بھی ضائع ہونے والی چیز کے حکم میں ہے۔
جس طرح کوڑے اور رسی کو اٹھانا جائز ہے اسی طرح دودھ کا پینا بھی مباح اور جائز ہے کیونکہ اگر وہ پیا نہ جاتا تو وہ ضائع ہو جاتا۔
(عمدة القاري: 180/9)
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس کی توجیہ یہ ہے کہ امام بخاری ؒ بعض دفعہ تفہیم مسئلہ کے لیے کسی چیز کی ضد ذکر کر دیتے ہیں جس طرح انہوں نے کتاب الایمان میں کفرونفاق کے مسائل بیان کیے ہیں اور کتاب العلم میں جہالت کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح اس مقام پر باب بلا عنوان کے تحت اس حدیث کو بطور ضد لائے ہیں کہ وہ مال جس کا مالک معلوم ہو وہ لقطہ میں شامل نہیں۔
لیکن اس پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ چرواہا بکریوں کا مالک تو نہ تھا ان کا مالک تو وہ قریشی تھا جسے ابوبکر صدیق ؓ جانتے تھے، تو ان کے لیے اجازت کے بغیر دودھ دوہنا کیسے جائز ہوا؟ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ آپ نے عرب کے ہاں دستور کے مطابق دودھ استعمال کیا کیونکہ مالک کی طرف سے چرواہوں کو اجازت ہوتی تھی کہ اگر کوئی ضرورت مند ہو تو وہ ضرورت کے مطابق اسے دودھ دے دیا کریں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں شوہر کی طرف سے بیوی کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ دروازے پر آنے والے سائل کو مٹھی یا دو مٹھی آٹا دے دیا کریں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اسے پہچان لیا ہو کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو دودھ پینے سے منع نہیں کرے گا۔
واللہ أعلم (2)
ہمارے ہاں گمشدہ بچوں اور دیگر چیزوں کے متعلق مساجد میں اعلان کیا جاتا ہے، اس اعلان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ واضح رہے کہ گمشدہ چیز یا بچے یا جانور کا مسجد میں اعلان کرنا شرعاً درست نہیں۔
حدیث میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کوئی مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کرتا ہے یا اس کا اعلان کرتا ہے تو اسے ان الفاظ میں جواب دیا جائے: اللہ وہ چیز تجھے واپس نہ کرے کیونکہ مساجد کی تعمیر اس مقصد کے لیے نہیں ہوئی۔
‘‘ (صحیح مسلم،المساجد، حدیث: 1260(568)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ؤ نے مسجد میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو لوگوں سے اپنے گمشدہ سرخ اونٹ کے متعلق دریافت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ کرے تو اپنے اونٹ کو نہ پائے کیونکہ مساجد تعمیر کرنے کا مقصد عبادت الٰہی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1262(569)
ایک دوسری حدیث میں ان مقاصد کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے جن کے پیش نظر مساجد تعمیر کی جاتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مساجد اللہ کے ذکر، نمازوں کی ادائیگی اور تلاوت قرآن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الطھاة، حدیث: 661(285)
رسول اللہ ﷺ نے گمشدہ اشیاء (حیوانات وغیرہ)
کو مساجد میں تلاش کرنے اور ان کے متعلق دریافت کرنے سے منع فرمایا ہے، (سنن ابن ماجة، المساجد: 766)
نیز ایسے شخص کے لیے اس کی گمشدہ چیز نہ ملنے کے متعلق بددعا دینے کی تلقین کی ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ لفظ ضاله کا اطلاق گمشدہ حیوان پر ہوتا ہے، اس لیے بچوں وغیرہ کی گمشدگی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
ہمیں اس سے اتفاق نہیں کیونکہ حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں کے لیے بھی اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
بعض اہل علم نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ بقائے نفس اور احترام آدمیت کے پیش نظر گمشدہ بچوں کا اعلان مساجد میں جائز ہونا چاہیے، پھر ضروریات، ممنوع احکام کو جائز قرار دے دیتی ہیں، کے تحت لانے کی کوشش کی ہے، یقیناً یہ ضابطہ اور اصول صحیح ہے لیکن یہ اس صورت میں جب اس کا کوئی متبادل انتظام نہ ہو سکتا ہو، اگر اس کے متبادل ممکن ہو تو مساجد میں اعلان کی گنجائش نہیں۔
بہتر اور افضل یہی ہے کہ اس طرح کے اعلانات کے لیے الگ سے کوئی انتظام کیا جائے۔
یہی باب اور حدیث کا تعلق ہے۔
”. . . میں مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا غلام ہوں (مراد مدینہ سے شہر ہے یعنی مکہ والوں میں سے) میں نے کہا: تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ وہ بولا: ہاں ہے۔ میں نے کہا: تو دودھ دوہئے گا ہم کو؟ وہ بولا: ہاں۔ پھر اس نے ایک بکری کو پکڑا، میں نے کہا: اس کا تھن صاف کر لے بالوں اور مٹی اور کوڑے سے تا کہ دودھ میں یہ چیزیں نہ پڑیں۔ (راوی نے کہا:) میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتے تھے، جھاڑتے تھے۔ خیر اس لڑکے نے دودھ دوھا لکڑی کے ایک پیالہ میں تھوڑا دودھ اور میرے ساتھ ایک ڈول تھا جس میں پانی رکھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے اور وضو کرنے کے لیے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں رسول اللہ کے پاس آیا اور مجھے برا معلوم ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے جگانا لیکن میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بخود جاگ اٹھے ہیں۔ میں نے دودھ پر پانی ڈالا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ دودھ پیجئیے . . .“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7521]
نووی رحمہ اللہ نے کہا: یہ جو آپ نے اس لڑکے کے ہاتھ سے دودھ پیا حالانکہ وہ اس دودھ کا مالک نہ تھا اس کی چار توجیہیں کی ہیں ایک یہ کہ مالک کی طرف سے مسافروں اور مہمانوں کو پلانے کی اجازت تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ جانور کسی دوست کے ہوں گے جس کے مال میں تصرف کر سکتے ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ وہ حربی کا مال تھا جس کو امان نہیں ملی اور ایسا مال لینا جائز ہے۔ چوتھے یہ کہ وہ مضطر تھے۔ اول کی دو توجیہیں عمدہ ہیں۔
(1)
قام قائم الظهره: سورج سرپرکھڑا ہوگیا، عین دوپہر ہوگئی، (2)
رفعت لنا صخرة، ہمیں ایک چٹان نظرآئی، (3)
فروة: بالوں یا اون کا کمبل، پوستین جس کا اندرونی حصہ جانوروں کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔
(4)
انفض لك: میں آپ کے لیے پہرہ دیتا ہوں، اردگرد کا دیہان رکھتا ہوں۔
(5)
اهل المدينه، اہل شہر، مدينه سے یہاں شہر مراد ہے، یعنی مکہ، کیونکہ مدينه النبي تو آپ کی ہجرت کے بعد نام پڑاہے، پہلے تو اس کو یثرب کہتے تھے اور بخاری شریف کی روایت لرجل من قريش ہے اور قریشی مکہ ہی میں آبادتھے، قعب: لکڑی کا پیالہ، (6)
كثبة: کچھ، تھوڑاسا، ایک وقت نکلنےوالادودھ۔
(7)
ارتوي: میں اس میں پانی رکھتا تھا۔
(8)
ارتطمت فرسه: اس کا گھوڑا دھنس گیا۔
فوائد ومسائل: قریش نے آپ کے پکڑنے والے کے لیے سواونٹ بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا، اس لیے آپ کے تعاقب میں نکلا اور یہ واقعہ پیش آیا۔
ساخت فرسه: اس کی گھوڑی کی ٹانگیں سخت زمین میں دھنس گئیں۔
فوائد ومسائل: یہ سفر ہجرت کا واقعہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کی دشمنوں سے کس طرح حفاظت فرماتا ہے اور ان سے کسی قسم کے حیرت انگیز امور کا صدور ہوتا ہے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا کہ اب بھی مصیبت و تکلیف کے وقت ان سے دعا اور امداد کی درخواست کی جا سکتی ہے، غلط بات ہے، کیونکہ اس وقت آپ اس کے سامنے موجود تھے اور وہ آپ کو دیکھ رہا تھا اور اب یہ صورتحال ہے، ہاں کسی زندہ نیک آدمی کے پاس جا کر اس سے دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے، نیز اگر زمین آپﷺ کے تابع فرمان تھی تو پھر اللہ سے دعا کرنے کی ضرورت کیا تھی، آپ براہ راست زمین کو حکم صادر فرماتے۔