صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا: باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ ، قَالَ سَهْلٌ : تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ " .عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، اس دن ان کی بیوی خدمت بجا لا رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں۔ سہل نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا؟ اس نے رات کو پتھر کے ایک بڑے برتن میں پانی کے اندر کچھ کھجوریں ڈال دی تھیں، جب آپ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (مشروب) پلایا۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ : أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ .یعقوب بن عبدالرحمن نے ابوحازم سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں نے یہ نہیں کہا: جب آپ نے کھانا تناول فرما لیا اس نے وہ (مشروب) پلایا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالَ : فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ .محمد ابوغسان نے کہا: مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا: (اس نے) پتھر کے ایک بڑے پیالے میں (نبیذ بنائی)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس (ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دلہن) نے اس (پھل کو جو پانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا) پانی میں گھلایا اور آپ کو پلایا، آپ کو خصوصی طور پر (پلایا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت سہل بن سعد ساعدی وفات نبوی کے وقت 15 سال کے تھے۔
91ھ میں مدینہ میں وفات پائی۔
مدینہ میں فوت ہونے والے یہ آخری صحابی ہیں۔
بعض اہل علم نے کھجوروں سے تیار کی ہوئی نبیذ کو مکروہ خیال کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید میں یہ عنوان قائم کیا ہے۔
جن حضرات نے اسے ناپسند کیا ہے وہ اس امر پر محمول ہو گا کہ جس میں کافی تغیر آ چکا ہو اور نشہ آور ہونے کے قریب ہو۔
بہرحال کھجوروں کا نبیذ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو۔
اگرچہ حدیث میں اس کے نشہ آور ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں، تاہم رات کے آغاز سے لے کر دوپہر دن تک اس میں کسی قسم کا جوش نہیں آتا اور نہ اس میں ترشی ہی پیدا ہوتی ہے، لہذا اس قسم کا مشروب پینے کی شرعاً اجازت ہے۔
(فتح الباري: 79/10)
(1)
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کا نام مالک بن ربیعہ ہے جو ساعدہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
بدری صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے آخر میں فوت ہوئے۔
ان کی بیوی کا نام سلامہ بنت وہب ہے۔
مذکورہ واقعہ نزول حجاب، یعنی پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
(2)
دعوت ولیمہ قبول کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہاں کوئی غیر شرعی کام نہ ہوں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ایک دعوت میں گئے، وہاں انھوں نے جانداروں کی تصاویر دیکھیں تو واپس آ گئےاور شرکت نہ کی۔
(عمدة القاري: 133/14)
کھانے میں اور شربت بنانے میں اکثر اسی کا استعمال ہوتا تھا جیسا کہ حدیث ہذا سے ظاہر ہے۔
(1)
عنوان میں نقیع کے بعد شراب کا ذکر کیا گیا ہے جو فقہی اصطلاح میں عام کا خاص پر عطف ہے۔
(2)
مشروب کے لیے شرط ہے کہ اس میں نشہ نہ ہو کیونکہ نشہ آور کوئی بھی مشروب استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
(3)
یاد رہے کہ نقیع وہ کھجوریں ہیں جو پانی میں ڈال دی جائیں تاکہ ان کی مٹھاس نکل آئے،جسے ہماری زبان میں کھجور کا جوس (نبیذ)
کہتے ہیں۔
(4)
عربوں کےہاں کھجور ایک مرغوب اور بکثرت ملنے والا میوہ ہے۔
کھانے میں اور شربت بنانے میں عرب اسی کو استعمال کرتے تھے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
والله اعلم
معلوم ہوا کہ دلہن بھی فرائض میزبانی ادا کر سکتی ہے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت پردے کے ساتھ عورت ایسے سارے کام کاج کر سکتی ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت دلہن بھی فرائض میزبانی ادا کر سکتی ہے اور پردے کے ساتھ وہ گھر میں کام کاج کر سکتی ہے۔
اس میں کوئی حرج نہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے بیوی کا خاوند اور مہما نوں کی خدمت کرنا ثابت ہوتا ہے، خاوند کے علاوہ دوسرے لوگوں کی خدمت اس وقت جائز ہے جب کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور عورت بھی پردے کی پابندی کرے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے اس طرح کی خدمت لے سکتا ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 312/9)
(1)
کھجور کو پانی میں بھگو کر اسے مل چھان کر شربت بنانا نبیذ کہلاتا ہے۔
یہ ایک مقوی اور فرحت بخش مشروب ہے۔
عربی زبان میں اسے نقیع کہتے ہیں۔
جب اس میں ترشی پیدا ہو جائے اور جوش مارنے لگے تو اس کا پینا جائز نہیں۔
(2)
اس قسم کا نبیذ سردیوں میں تین دن تک اور گرمیوں میں صرف ایک دن تک قابل استعمال رہتا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کا نبیذ بنایا جاتا تو آپ اسے اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن، یعنی تیسرے دن کی شام تک استعمال کرتے تھے، پھر آپ حکم دیتے کہ خادموں کو پلا دیا جائے یا اسے بہا دیا جائے۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5226 (2004)
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خادموں کو پلانے سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے اسے استعمال کر لیا جائے، اس کے بعد اسے استعمال نہ کیا جائے۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3713)
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1912]
فوائد و مسائل:
(1)
ولیمے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیے۔
اگر کوئی شخص معمولی دعوت ہی کر سکتا ہو تو اس کو قرض لے کر پر تکلف دعوت کرنے کی ضرورت نہیں۔
(2)
ہرشخص کی دعوت قبول کرنی چاہیے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر۔
(3)
عورت مہمانوں کی خدمت کر سکتی ہے اگرچہ وہ محرم نہ ہوں بشرطیکہ شرعی پردے کا خیال رکھا جائے۔
(4)
کجھوروں کو پانی میں بھگو کر جو شربت بنایا جاتا ہے اسے نبیذ کہتے ہیں۔
اس میں نشہ نہیں ہوتا اس طرح کا شربت منقی پانی میں رات بھر بھگو کر بھی بنایا جاتا ہے۔
اگر اسے مناسب مدت سے زیادہ رکھا جائے تو اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اس وقت اس کا پینا حرام ہے۔
اس کی علامت یہ ہے کہ شربت پر جھاگ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کا ذائقہ میٹھے کے بجائے کڑوا ہو جاتا ہے۔