صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا: باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ ، قَالَ : لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَن النَّبِيذِ ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً ، فَقَالَتْ : سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ : " كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ " .ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرمایا: اس سے پوچھو، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس حبشی لڑکی نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں (پھل) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً ، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ ایک مشکیزہ میں بناتے، جس کے اوپر والا حصہ کا منہ باندھ دیا جاتا، اس کے نیچے سوراخ تھا، ہم اس میں صبح نبیذ بناتے، تو آپ شام تک پیتے اور رات کو بناتے تو صبح تک پیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کر دیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1871]
وضاحت: 1 ؎: غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا تھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیداہوجائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: ” دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3398]
فوائد و مسائل:
صبح سےشام تک یا شام سے صبح تک بھگونے سے پانی میں مٹھاس اچھی طرح آ جاتی ہے لیکن نشہ پیدا نہیں ہوتا اس لئے یہ مشروب بلاشبہ جائز ہے۔