حدیث نمبر: 2004
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ ، وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى ، وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ " .

معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے یحییٰ بن عبید ابوعمر بہرانی سے روایت بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے ابتدائی حصے میں (کھجوریں) پانی میں ڈال دی جاتی تھیں، جب آپ صبح کرتے تو اسے (پیتے) اور جو رات آتی (اس میں) پیتے اور صبح کو اور اگلی رات کو اس کے بعد کا دن عصر تک، اگر کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے (تا کہ ختم ہو جائے) یا (اگر کوئی پینے والا نہ ہوتا یا بچ جاتی تو) اس کو گرا دینے کا حکم دیتے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ : ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : مِنْ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ صَبَّهُ " .

یحییٰ بہرانی بیان کرتے ہیں، لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس نبیذ کا ذکر چھیڑا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ بنایا جاتا تھا، شعبہ کہتے ہیں، سوموار کی رات، تو آپ اسے سوموار کی صبح سے منگل کی عصر تک پیتے، اگر اس سے کچھ بچ جاتا، خادم کو پلا دیتے، یا انڈیل دیتے۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهَرَاقُ " .

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقہ پانی میں ڈالا جاتا، تو آپ اسے دن بھر پیتے، اگلا دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے، پھر اس کو پلانے یا بہانے کا حکم دیتے۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَاءِ ، فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ ، فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ وَسَقَاهُ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ أَهَرَاقَهُ " .

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں منقہ کا نبیذ بھگویا جاتا، تو آپ دن بھر پیتے، اگلا دن پیتے، تیسرے دن پیتے اور جب شام ہو جاتی، خود پیتے، پلاتے، اگر کچھ بچ جاتا، تو اسے بہا دیتے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَي أَبِي عُمَرَ النَّخَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ قَوْمٌ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وَشِرَائِهَا وَالتِّجَارَةِ فِيهَا ، فَقَالَ : أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهَا وَلَا شِرَاؤُهَا وَلَا التِّجَارَةُ فِيهَا ، قَالَ : فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ رَجَعَ ، وَقَدْ نَبَذَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّاءٍ ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ فَجُعِلَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَصْبَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الْمُسْتَقْبَلَةَ وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى أَمْسَى ، فَشَرِبَ وَسَقَى فَلَمَّا أَصْبَحَ أَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْهُ فَأُهْرِيقَ " .

زید نے ابوعمر یحییٰ نخعی سے روایت کی، کہا: کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب بیچنے، خریدنے اور اس کی تجارت کے متعلق سوال کیا۔ تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگ مسلمان ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شراب کا بیچنا، خریدنا اور اس کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے۔ پھر انہوں نے نبیذ کے متعلق سوال کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تشریف لے گئے پھر آپ کی واپسی ہوئی۔ آپ کے ساتھیوں نے سبز گھڑوں، کریدی ہوئی لکڑی اور کدو کے برتنوں میں نبیذ بنائی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گرا دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکیزہ لانے کا حکم دیا، اس میں کشمش اور پانی ڈال دیے گئے، یہ (نبیذ) رات کو بنائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو اس دن اس کو پیا، اگلی رات کو پیا، پھر اگلے دن شام تک پیا، پیا اور پلایا، جب اگلی صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بچ گیا تھا اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے گرا دیا گیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2004
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2004 | سنن ابي داود: 3713 | سنن ابن ماجه: 3399 | سنن نسائي: 5740 | سنن نسائي: 5741 | سنن نسائي: 5743

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے آغاز میں پانی میں کھجوریں ڈالی جاتیں، جب صبح ہوتی، آپ اس کو پی لیتے، دن بھر پیتے، بعد والی رات پیتے، اگلا دن پیتے، اگلی رات پیتے، اس سے اگلا دن عصر تک پیتے، اگر کچھ بچ جاتا، اسے خادم کو پلا دیتے، یا اس کو انڈیل دینے کا حکم دے دیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5226]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دو، تین دن تک پانی میں بھگوئی ہوئی کھجوروں یا منقہ سے نشہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے جب تک نشہ کا خطرہ نہ ہوتا آپ اسے پیتے رہتے، جب نشہ کا احتمال پیدا ہو جاتا تو ابتدا میں آپ اسے خادم کو پلا دیتے، لیکن اگر نشہ کا کوئی اثر معلوم ہوتا تو گرانے کا حکم دے دیتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5226 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3713 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نبیذ کا وصف کہ وہ کب تک پی جائے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3713]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نبیذ سردیوں میں تین دن تک اور گرمیوں میں صرف ایک دن تک قابل استعمال ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3713 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3399 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3399]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
سردی کےموسم میں جلدی نشہ پیدا نہیں ہوتا اس لئے اگر کھجوریں وغیرہ مناسب مقدار میں ڈالی گئی ہوں تو نبیذ دو تین دن تک بھی قابل استعمال رہتی ہے۔
تاہم جب یہ محسوس ہوکہ اب اس میں کچھ نشہ آگیا ہوگا تو اسے پھینک دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3399 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5740 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ۱؎، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5740]
اردو حاشہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک دن رات کا ذکر ہے۔ ممکن ہے کہ گرمی کے موسم میں جب اس کے نشہ آور ہونے کا خطرہ ہوتا تھا تو صرف ایک دن رات پر اکتفا فرماتے ہوں گےاور سردیوں وغیرہ میں دودن یا تین دن تک پی لیتے ہوں گے نیز یہ نبیذ چمڑے کے مشکیزے میں بنایا جاتا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے اس لیے زیادہ دیر سے رہنے سے بھی نشے کا خطرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ترش ہوسکتا تھا لہٰذا دونوں روایات درست ہیں۔ مقصود نشے سے بچاؤ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5740 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5741 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5741]
اردو حاشہ: "پی لیا کرتے تھے" بشرطیکہ نشے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ جب نشے کا خطرہ ہوتا تو اسے بہا دیتے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5741 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5743 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں: ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5743]
اردو حاشہ: (1) "تلچھٹ وغیرہ" یعنی سابقہ نبیذ کے میل کچیل کو دھو ڈالتے تھے اور نئی نبیذ میں اسے شامل نہیں کرتے تھے کیونکہ اس میں زیادہ دیر پڑے رہنے کی وجہ سے نشے کا امکان ہوسکتا تھا جبکہ نشہ پسند افراد تو خصوصاً اسے شامل رکھتے ہیں تاکہ اچھی طرح تیزی آئے۔
(2) "شہد جیسی" یعنی خالص میٹھی ہوتی تھی۔ اس میں کوئی ترشی نہیں ہوتی تھی۔ ظاہر ہے ایک رات یا ایک دن میں ترشی پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں ہوتا اگرچہ مطلق ترشی نبیذ کو حرام نہیں کرتی جب نشہ نہ ہو آخر سرکہ بھی و ترش ہی ہوتا ہے۔ اور وہ بالاتفاق حلال و جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5743 سے ماخوذ ہے۔