مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2000
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي الْأَوْعِيَةِ ؟ ، قَالُوا : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ ، فَأَرْخَصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ " .

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعض خاص) برتنوں میں نبیذ (بنانے) سے منع فرمایا (اور مشکیزوں میں مشروب بنانے اور پینے کا حکم دیا) تو لوگوں نے کہا: ہر شخص کو (مشکیزے یا دوسرے برتن) میسر نہیں ہوتے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے ایسے گھڑوں کی اجازت دی جس میں روغن زفت ملا ہوا نہ ہو۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2000
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5593 | سنن نسائي: 5653

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا، لوگوں نے کہا: ہر انسان کے پاس (چمڑے، مشکیزے) نہیں ہیں، تو آپ نے لاکھی برتن کے سوا، عام برتنوں (گھڑوں) کی انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5210]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: پہلے آپ نے عام گھڑوں کی اجازت دی تھی، روغنی سے منع فرمایا تھا، بعد میں سب برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی، جیسا کہ حضرت بریدہ کی حدیث میں گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2000 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5593 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5593. سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشکیزوں کے سوا دوسرے مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ سے عرض کی: ہر کسی کو مشکیزہ کہاں سے مل سکتا ہے؟ تب آپ ﷺ نے تارکول کے برتن کے علاوہ مٹکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا۔ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب نبی ﷺ نے چند برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5593]
حدیث حاشیہ: لفظی ترجمہ تو یوں ہے آپ نے مشکوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا مگر یہ مطلب صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ آگے یہ مذکور ہے کہ ہر شخص کو مشکیں کیسے مل سکتی ہیں؟ اس روایت میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح یوں ہے۔
نھیٰ عن الانتباذ إلا في الأسقیة۔
بعض علماء نے ان ہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب کی حرمت نئی نئی نازل ہوئی تھی کہ کہیں شراب کے برتنوں میں نبیذ بھگوتے بھگوتے لوگ پھر شراب کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔
جب شراب کی حرمت دلوں پر جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی۔
ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
(وحیدی)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
یہ بھی اسی وقت کا ذکر ہے جبکہ شراب حرام کی گئی تھی اور شراب کے برتنوں کے استعمال سے بھی روک دیا گیا تھا۔
بعد میں یہ ممانعت اٹھا دی گئی تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5593 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔