صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لأُمَّتِهِ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .ہشام نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی مقبول) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی، جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے۔“
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ .مذکورہ بالا روایت (ہشام کے بجائے) شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ بیان کی۔
ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، قَالَ : قَالَ : أُعْطِيَ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .وکیع اور ابواسامہ نے مسعر سے حدیث سنائی، انہوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، اتنا فرق ہے کہ وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں: ”آپ نے فرمایا: ’(ہر نبی کو ایک دعا) عطا کی گئی ہے‘“ اور ابواسامہ کی روایت کے الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ .معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..... آگے کی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
الخ یعنی اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان ہے جو آپ کو تمام رسولوں پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لئے اپنے نفس پر ساری امت اوراپنے اہل بیت کے لئے ایثار فرمایا۔
نووی نے کہا کہ اس میں آ پ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا اظہار ہے اس میں ان پر بھی دلیل ہے کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر مرا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگر چہ وہ کبائر پراصرار کرتا ہوا مر جائے۔
(فتح الباري)
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن میری سفارش ہر اس شخص کے لیے قبول ہو گی جو میری امت سے اس حالت میں فوت ہوا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 491 (199) (2)
اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری اور فضیلت کا بیان ہے جو انہیں تمام انبیاء علیہم السلام پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لیے اپنی ذات پر تمام موحدین کو ترجیح دی۔
اس میں آپ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا بھی اظہار ہے۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر فوت ہوا ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں پر اصرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
(فتح الباري: 117/11)
واللہ اعلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2435]
وضاحت:
1؎:
یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی، باقی رفع درجات کے لیے انبیاء، اولیاء، اور دیگر متقی و پرہیز گار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4739]
1: گناہ گاروں کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی سفارش ہوگی اور انہیں معاف کردیا جائے گا، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی چاہیے، کیو نکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس گناہ گارکی شفاعت ہو گی اور کون اس سے محروم رہے گا یا کس کے بارے میں شفاعت ہوگی؟ کیونکہ یہ معاملہ سارے کا سارا االلہ رب العالمین کی اپنی مشیت پر ہے۔
اگر مشیت ہوئی تو فبہا ورنہ شدیدعقاب ہو گا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ) (النساء٤٨) يقيناالله تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانےکو نہیں بخشا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ارشاد ہے: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (النجم: ٢٦) اورآسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ نفع نہیں دے سکتی مگر بعداس کے کہ اللہ تعالی جس کے لئے چاہے اور پسند فرمائے تو اجازت دے دے اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی، مگر جسے رحمن اجازت دےاور اس کی بات کو پسند فرمائے اور یہ لوگ صرف اہل توحید ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔
2: اس خوشخبری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں کے ارتکاب میں جری ہو جائے بلکہ خوف کے پہلو کو غالب رکھنا چاہیے کیونکر میدان حشر کی تکلیف ناقابل برداشت ہو گی، جہنم تو اس سے بہت زیادہ سخت ہے۔
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ شفاعت قبول ہوتے ہوتے کتنی مدت لگ جائے۔