مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1997
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " .

منصور بن حیان نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، سبز گھڑوں، روغن زفت ملے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی (کے برتنوں) سے منع فرمایا۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَر َ ؟ ، قَالَ : وَمَا يَقُولُ ؟ قُلْتُ : قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، فَقَالَ : " صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، فَقُلْتُ : وَأَيُّ شَيْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ ؟ ، فَقَالَ : كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ " .

یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے۔ تو انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کر دیا ہے۔ میں نے پوچھا: گھڑوں کی نبیذ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے۔ (اس میں بنائی گئی نبیذ)

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ ، فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ فَسَأَلْتُ مَاذَا قَالَ ؟ ، قَالُوا : " نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں لوگوں کو خطاب فرمایا تو میں آپﷺ کی طرف متوجہ ہوا اس سے پہلے کہ میں آپ تک پہنچوں تو میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے بتایا ”آپ نے تونبہ اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔‘‘

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْد . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ جَمِيعًا ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ إِلَّا مَالِكٌ وَأُسَامَةُ .

لیث بن سعد، ایوب، عبیداللہ، یحییٰ بن سعید، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ان سب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مالک اور اسامہ کے سوا ان میں سے کسی نے ”ایک غزوے کے دوران میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، قَالَ : فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ، قُلْتُ : أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ " .

ثابت سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے یہی کہا ہے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (قسم کے گھڑوں کی نبیذ) سے منع فرمایا تھا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے یہی کہا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَر : " أَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " ، قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ طَاوُسٌ : وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ .

طاؤس بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا، کیا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا ہے، انہوں نے کہا، ہاں، پھر طاؤس نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سے خود سنا ہے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ ، فَقَالَ " أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " ، قَالَ : نَعَمْ .

طاؤس بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور تونبے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " .

وہیب نے عبداللہ بن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں اور کدو کے (بنے ہوئے) برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : نَعَمْ .

طاؤس بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے، تونبے اور لاکھی برتن کے نبیذ سے منع فرمایا ہے، انہوں نے کہا، ہاں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ .

شعبہ نے محارب بن دثار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں اور کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ اور (محارب بن دثار نے) کہا: میں نے یہ (حدیث) ان سے ایک سے زیادہ بار سنی۔

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ وَالنَّقِيرِ .

شیبانی نے محارب بن دثار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ (شیبانی نے) کہا: اور میرا گمان ہے (محارب نے) کھوکھلی لکڑی کا بھی ذکر کیا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ، وَقَالَ : انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ " .

عقبہ بن حریث نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑے، کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: ”مشکیزوں میں نبیذ بناؤ۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ ، فَقُلْتُ : مَا الْحَنْتَمَةُ ؟ قَالَ : الْجَرَّةُ " .

جبلہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا۔ (جبلہ نے) کہا: میں نے پوچھا: حنتمہ کیا ہے؟ (ابن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: گھڑا۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي زَاذَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي بِمَا نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ بِلُغَتِكَ وَفَسِّرْهُ لِي بِلُغَتِنَا ، فَإِنَّ لَكُمْ لُغَةً سِوَى لُغَتِنَا ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَهِيَ الْجَرَّةُ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَهِيَ الْقَرْعَةُ ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ ، وَعَنِ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْسَحُ نَسْحًا وَتُنْقَرُ نَقْرًا ، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ " .

عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زاذان نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ پینے کی چیزوں کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کے متعلق مجھے (پہلے) اپنی زبان میں حدیث سنائیں پھر ہماری زبان میں اس کی وضاحت کریں کیونکہ آپ کی زبان ہماری زبان سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے اور وہ گھڑا ہے اور دباء سے اور وہ کدو ہے اور مزفت سے اور وہ روغن قار ملا ہوا برتن ہے اور نقیر سے اور وہ کھجور کا تنا ہے، اسے چھیلا جاتا ہے اور اس کو کریدا جاتا ہے، منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ .

یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَأَشَارَ إِلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ، " فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَالْمُزَفَّتِ وَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَهُ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُ .

عبدالخالق بن سلمہ نے کہا: میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو اس منبر کے پاس کہتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کیا: قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پینے کی چیزوں کے حوالے سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کدو سے بنے ہوئے برتن، اندر سے کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز گھڑے سے منع فرمایا۔ (عبدالخالق بن سلمہ نے کہا) میں نے عرض کی: ابومحمد! اور روغن زفت ملا ہوا برتن؟ ہم نے سمجھا تھا کہ وہ اس کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔ تو انہوں (سعید بن مسیب) نے کہا: میں نے اس دن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ (مزفت کا ذکر) نہیں سنا تھا۔ وہ اس کو (بھی) ناپسند کرتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 1997
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1997 | سنن ابي داود: 3690 | سنن نسائي: 5623 | سنن نسائي: 5624 | سنن نسائي: 5647 | مسند الحميدي: 724 | مسند الحميدي: 725

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3690 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔`
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3690]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اسلام سے پہلے لوگ جن برتنوں میں شراب بنایا کرتھے تھے۔
رسول اللہ ﷺنے ان میں نبیذ (پھلوں کھجوروں کشمش اوردیگر خشک یا تر پھلوں کا پانی کے ذریعے بنایا ہوا آمیزہ) جو بطور مشروب استعمال ہوتا تھا بنا کر پینے سے منع فرما دیا اس غرض سے عموما چار قسم کے برتن استعمال کئے جاتے ہیں۔


الدباء بڑے سائز کے کدو جب خشک ہوجاتے تو ان کے اندر کا گودا وغیرہ نکال کر سخت خول کو برتن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
افریقہ کے ملکوں میں آج بھی اس کا رواج ہے۔
وہاں ایسے کدو بھی پائے جاتے ہیں جو نیچے سے گول ہوتے ہیں۔
اور اوپر کی طرف ان کی بہت لمبی گردن ہوتی ہے۔
ان کو بھی اند ر سے خالی کرکےمشروب وغیرہ کے برتن کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بالکل صراحی کی شکل کا ہوتا ہے۔
فارسی شاعری میں اس لئے کدو کا لفظ شراب کے برتن یا صراحی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
اس کے باہر کی سطح سخت اور نم پروف جبکہ اندر کی سطح اسفنجی ہوتی ہے اور اس کو شراب کےلئے استعمال کیا جائے۔
تو دھونے کے باوجود اس کی اندرونی اسفنجی سطح میں خامرہ یعنی وہ مادہ جو نبیذ کے رس وغیرہ میں خمیر اٹھانے کا سبب بن جاتا ہے۔
موجود ہوتا ہے۔
اس لئے ایسے برتنوں میں پھلوں کا رس تیار کرنے یا رکھنے سے منع کردیا گیا ہے۔


حنتم شراب بنانے کی غرض سے مٹی کےبڑے بڑے برتنوں کو اس طرح بنایا جاتا تھا کہ کہ ان کی مٹی گوندھتے وقت اس میں خون اور بال ملا دیے جاتے۔
اس سے ان برتنوں کا رنگ سیاہی مائل سبز ہوجاتا تھا۔
غرض یہ ہوتی تھی کہ اس کی سطح سے ہوا کا گزر بند ہوجائے۔
اور تخمیرکا عمل تیز اورشدید ہوجائے۔
دیکھئے۔
(فتح الباري، کتاب الأشربة، باب ترخیص النبي ﷺ في الأوعیة)ایسے برتنوں کے اندرہوا کی بندش کو یقینی بنانے کےلئے کوئی روغن وغیرہ بھی لگا دیا جاتا تھا۔
یہ برتن اپنی ساخت میں گندے اورغلیظ ہونے کے علاوہ اندرونی سطح پر شراب کے خامروں کو چھپائے رکھتے تھے۔
جن کی وجہ سے اس میں بھی تیزی سے تخمیر کا عمل شروع ہوجاتا تھا۔


مزقت وہ برتن جس کے اندرروغن زفت ملایا گیا ہو۔
یہ تارکول سے ملتا جلتا معدنی روغن ہے۔
(لسان العرب) زفت ملنے کا مقصد بھی وہی تھا کہ ہوا کا گزر نہ ہو اور شراب سازی کےلئے عمل تخمیر جلد اور شدت سے شروع ہوجائے۔
یہ بھی دوسرے برتنوں کی طرح شراب کے خامروں کا حامل ہوتا تھا۔
اس کے علاہ روغن ملنے کی وجہ سے چیچیا اور ناصاف بھی ہوتا تھا۔


نقیر کھجور کے تنے کو اندر سے کھوکھلا کر تے، لیکن اس کی جڑٰیں اس طرح زمین میں رہنے دیتے ظاہر ہے کہ اس کا صحیح طور پردھونا ممکن نہ تھا۔
نیز اس کے اندرونی سطح پر شراب کے خامرے اور دوسری گندگی بھی موجود رہتی تھی۔
اس میں پھلوں وغیرہ کا مشروب (نبیذ بنایا جاتا۔
) تو وہ جلد شراب میں تبدیل ہوجاتا تھا۔
اس کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا۔
عرب ان برتنوں میں شراب کے علاوہ نبیز بھی بناتے تھے۔
اور اس میں بہت جلد ترشی آجاتی تھی۔
چونکہ یہ لوگ پہلے ان برتنوں کے مشروبات اورشراب کے عادی تھے تو انہیں معمولی نشے کا احساس بھی نہ ہوتا تھا۔
اس لئے حرمت شراب کی ابتداء میں ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا گیا۔
مگر بعد ازاں اجازت دے دی گئی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3690 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5624 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سبز روغنی گھڑے کا بیان۔`
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز لاکھی برتن کی نبیذ سے منع فرمایا۔ (شیبانی کہتے ہیں) میں نے کہا: اور سفید؟ (برتن سے) انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5624]
اردو حاشہ: سبز مٹکے سے مراد وہ مٹکا ہے جسے روغن لگا کر مسام بند کر دیے گئے ہوں۔ ایسے مٹکے میں نبیذ بنائی جائے تو جلدی نشہ پیدا ہو نے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع فرمایا گیا۔صحیح بخاری میں (حدیث:5596) میں لفظ لا کے ساتھ روایت منقول ہے، یعنی جوابا انھوں نے فرمایا کہ سفید مٹکے میں بھی جائز نہیں، جبکہ مذکورہ روایت میں لا کے ساتھ ادری کا بھی اضافہ ہے جو شیخ البانی ؒ کے نزدیک شاذ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5624 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔