صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب النَّهْيِ عَنْ الاِنْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلاَلٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا: باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ، قَالَتْ : " نَهَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَمَا ذَكَرَتِ الْحَنْتَمَ وَالْجَرَّ ، قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ أَأُحَدِّثُكَ مَا لَمْ أَسْمَعْ ؟ .منصور نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: میں نے اسود سے کہا: کیا تم نے ام المؤمنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کی تھی: ام المؤمنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نے) کہا: میں نے (اسود سے) پوچھا: انہوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: میں تم کو وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے سنی ہے۔ کیا میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے اور سبز مٹکوں سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي هُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .منصور، سلیمان اور حماد نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ ، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ ، " فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ " .ثمامہ بن حزن قشیری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے مجھے حدیث سنائی کہ (بنو) عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدو کے (بنے ہوئے) برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز مٹکے، چٹھو لاکھی برتن سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ الْمُزَفَّتِ الْمُقَيَّرَ .عبدالوہاب ثقفی نے کہا: ہمیں اسحاق بن سوید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی مگر انہوں نے روغن زفت ملے ہوئے برتن کی بجائے مقیر (روغن قار ملا برتن) بتایا۔ (دونوں سے ایک ہی چیز، نباتاتی تیل مراد ہے۔)
تشریح، فوائد و مسائل
جب ایک مدت بعد شراب کی حرمت دلوں میں جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی اور ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جن میں وہ نبیذ بناتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5641]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے مشروب سے منع فرماتے ہوئے سنا جو کدو کی تونبی، یا لاکھی برتن، یا روغنی برتن میں تیار کیا گیا ہو، سوائے زیتون کے تیل اور سر کے کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5639]