مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1995
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ، قَالَتْ : " نَهَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَمَا ذَكَرَتِ الْحَنْتَمَ وَالْجَرَّ ، قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ أَأُحَدِّثُكَ مَا لَمْ أَسْمَعْ ؟ .

منصور نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: میں نے اسود سے کہا: کیا تم نے ام المؤمنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کی تھی: ام المؤمنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نے) کہا: میں نے (اسود سے) پوچھا: انہوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: میں تم کو وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے سنی ہے۔ کیا میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے اور سبز مٹکوں سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي هُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

منصور، سلیمان اور حماد نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ ، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ ، " فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ " .

ثمامہ بن حزن قشیری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے مجھے حدیث سنائی کہ (بنو) عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدو کے (بنے ہوئے) برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز مٹکے، چٹھو لاکھی برتن سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ الْمُزَفَّتِ الْمُقَيَّرَ .

عبدالوہاب ثقفی نے کہا: ہمیں اسحاق بن سوید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی مگر انہوں نے روغن زفت ملے ہوئے برتن کی بجائے مقیر (روغن قار ملا برتن) بتایا۔ (دونوں سے ایک ہی چیز، نباتاتی تیل مراد ہے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 1995
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5595 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5595. سیدنا ابراہیم نخعی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا، کیا تم نے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ سیدنا اسود نے کہا: ہاں۔ میں نے عرض کی: ام المومنین! نبی ﷺ نے کس کس برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ہم اہل خانہ کو کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ میں نے سیدنا اسود سے پوچھا کہ انہوں نے مٹکے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تم سے وہی کچھ بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے، کیا وہ بھی بیان کروں جو میں نے نہیں سنا؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:5595]
حدیث حاشیہ: بعض علماء نے انہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب شروع میں حرام ہو گئی تھی۔
جب ایک مدت بعد شراب کی حرمت دلوں میں جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی اور ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5595 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5641 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جن میں وہ نبیذ بناتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5641]
اردو حاشہ: وفد عبد القیس کی یہ پہلی آمد ہے جو 3 ہجری کے آخر یا 4 ہجر ی کے شروع میں ہوئی کیونکہ اس میں قریش کی رکاوٹ کا ذکر ہے۔ دوسری آمد تو 9 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس وقت تک مکہ فتح ہو چکا تھا اور قریش کی اس رکاوٹ ختم ہو چکی تھی۔ پہلی آمد جنگ احد کے بعد قریبی دور میں ہوئی اور یہ دور شراب کی حرمت کا تازہ دور تھا۔ اس دور میں شراب کے ساتھ ساتھ شراب والے برتن بھی ممنوع فرما دیئے گئے تھے تاکہ شراب کی طر ف ذہن نہ جائے۔ بعد میں شراب اسلامی معاشرے میں بھولی بسری ہوگئی توان برتنو ں کے استعمال کی اجازت بھی دے دی گئی البتہ چونکہ یہ برتن مسام بند ہونے کی وجہ سے نشہ پیدا ہونےمیں ممد ہیں، لہٰذا نبیذ بنانےکے لیے ان سے احتراز بہتر ہے۔ تاہم جب تک نشہ پیدا نہ ہو، ان برتنوں کی نبیذ حرام نہیں ہوگی، کیو نکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کر سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5641 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5639 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کدو کی تونبی لاکھ کے برتن اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے مشروب سے منع فرماتے ہوئے سنا جو کدو کی تونبی، یا لاکھی برتن، یا روغنی برتن میں تیار کیا گیا ہو، سوائے زیتون کے تیل اور سر کے کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5639]
اردو حاشہ: علاوہ زیتون کے تیل کے یہ بات یاد رہے کہ تیل، خواہ زیتون کا ہو یا کسی اور چیز کا کسی بھی برتن میں ہو استعمال ہو سکتا ہے کیو نکہ تیل میں نشہ پید ا ہونے کا امکان نہیں۔ اسی طرح سرکہ وغیرہ کیونکہ نہی کی وجہ تو نشہ ہے جو اس میں پیدا نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5639 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔