صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب النَّهْيِ عَنْ الاِنْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلاَلٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا: باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْثَرٍ وَشُعْبَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .عبثر، جریر اور شعبہ سب نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ یہ جریر کی روایت ہے۔ عبثر اور شعبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے برتن سے منع فرمایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3697 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3697]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3697]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اطباء کی اصطلاح میں آش جو (جو کا جوش دیا ہوا پانی) استعمال کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر اس میں کسی طرح نشے کے اثرات کا اندیشہ ہو تو حلال نہیں ہے۔
فائدہ: اطباء کی اصطلاح میں آش جو (جو کا جوش دیا ہوا پانی) استعمال کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر اس میں کسی طرح نشے کے اثرات کا اندیشہ ہو تو حلال نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3697 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5172 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
اردو حاشہ: کدو کا برتن اور تارکول لگا ہوا مٹکا بے مسام ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں نبیذ بنایا جائے تو اس میں جلدی نشہ پیدا ہوجاتا تھا، اسی لیے لوگوں نے جاہلیت میں یہ برتن شراب بنانے کے لیے مخصوص کررکھے تھے، لہٰذا آپ نے ابتدا میں ان برتنوں کے نبیذ سے بھی روک دیا تھا، بعد میں اجازت دے دی بشرطیکہ نشہ پیدا نہ ہو۔ (فصیل اپنے مقام پر گزر چکی ہے)۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5172 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5592 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، روغنی برتن، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5592]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، روغنی برتن، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5592]
اردو حاشہ: دیکھیے حدیث:5550۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5592 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5175 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5175]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5175]
اردو حاشہ: (1) ضحاک بن عثمان نے داؤد بن قیس کی متابعت اس طرح کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن حنین کے درمیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ ذکر کیا ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث: 5176 کی سند میں ہے۔ واللہ أعلم.
(2) ”میں نہیں کہتا“ مقصود یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے خطاب فرماتے ہوئے مفرد کے صیغے استعمال فرمائے تھے، لہٰذا میں بھی مفرد کے صیغے ہی استعمال کرتا ہوں، جمع کے نہیں ورنہ بیان شدہ چیزیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح سب مسلمانوں کے لیے حرام ہیں، گویا سونے اور ریشمی کپڑے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے۔
(3) ”کسم (کسمبھ)“ یہ سرخ رنگ کی ان اقسام میں شامل ہے جو مردوں کےلیے حرام ہیں۔ ہر رنگ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
(2) ”میں نہیں کہتا“ مقصود یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے خطاب فرماتے ہوئے مفرد کے صیغے استعمال فرمائے تھے، لہٰذا میں بھی مفرد کے صیغے ہی استعمال کرتا ہوں، جمع کے نہیں ورنہ بیان شدہ چیزیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح سب مسلمانوں کے لیے حرام ہیں، گویا سونے اور ریشمی کپڑے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے۔
(3) ”کسم (کسمبھ)“ یہ سرخ رنگ کی ان اقسام میں شامل ہے جو مردوں کےلیے حرام ہیں۔ ہر رنگ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5175 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5615 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«جعہ» جو سے بنے مشروب کو کہتے ہیں، اور «جعہ» کی نبیذ کی ممانعت کا بیان۔`
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5615]
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5615]
اردو حاشہ: یہ نہیں پہلے تھی بعد میں آپ نے اجازت فرما دی کہ برتن کسی چیز کو حلا ل یا حرام نہیں کرتا، البتہ نشے سے بچو۔ اس حدیث کی متعلقہ باب سے کوئی مناسبت نہیں الا یہ کہ سابقہ حدیث کا ٹکڑا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5615 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5595 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5595. سیدنا ابراہیم نخعی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا، کیا تم نے سیدہ عائشہ ؓ سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ سیدنا اسود نے کہا: ہاں۔ میں نے عرض کی: ام المومنین! نبی ﷺ نے کس کس برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ہم اہل خانہ کو کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ میں نے سیدنا اسود سے پوچھا کہ انہوں نے مٹکے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تم سے وہی کچھ بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے، کیا وہ بھی بیان کروں جو میں نے نہیں سنا؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:5595]
حدیث حاشیہ: بعض علماء نے انہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب شروع میں حرام ہو گئی تھی۔
جب ایک مدت بعد شراب کی حرمت دلوں میں جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی اور ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
جب ایک مدت بعد شراب کی حرمت دلوں میں جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی اور ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5595 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5641 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جن میں وہ نبیذ بناتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5641]
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جن میں وہ نبیذ بناتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5641]
اردو حاشہ: وفد عبد القیس کی یہ پہلی آمد ہے جو 3 ہجری کے آخر یا 4 ہجر ی کے شروع میں ہوئی کیونکہ اس میں قریش کی رکاوٹ کا ذکر ہے۔ دوسری آمد تو 9 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس وقت تک مکہ فتح ہو چکا تھا اور قریش کی اس رکاوٹ ختم ہو چکی تھی۔ پہلی آمد جنگ احد کے بعد قریبی دور میں ہوئی اور یہ دور شراب کی حرمت کا تازہ دور تھا۔ اس دور میں شراب کے ساتھ ساتھ شراب والے برتن بھی ممنوع فرما دیئے گئے تھے تاکہ شراب کی طر ف ذہن نہ جائے۔ بعد میں شراب اسلامی معاشرے میں بھولی بسری ہوگئی توان برتنو ں کے استعمال کی اجازت بھی دے دی گئی البتہ چونکہ یہ برتن مسام بند ہونے کی وجہ سے نشہ پیدا ہونےمیں ممد ہیں، لہٰذا نبیذ بنانےکے لیے ان سے احتراز بہتر ہے۔ تاہم جب تک نشہ پیدا نہ ہو، ان برتنوں کی نبیذ حرام نہیں ہوگی، کیو نکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کر سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5641 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5639 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کدو کی تونبی لاکھ کے برتن اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے مشروب سے منع فرماتے ہوئے سنا جو کدو کی تونبی، یا لاکھی برتن، یا روغنی برتن میں تیار کیا گیا ہو، سوائے زیتون کے تیل اور سر کے کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5639]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے مشروب سے منع فرماتے ہوئے سنا جو کدو کی تونبی، یا لاکھی برتن، یا روغنی برتن میں تیار کیا گیا ہو، سوائے زیتون کے تیل اور سر کے کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5639]
اردو حاشہ: ”علاوہ زیتون کے تیل کے“ یہ بات یاد رہے کہ تیل، خواہ زیتون کا ہو یا کسی اور چیز کا کسی بھی برتن میں ہو استعمال ہو سکتا ہے کیو نکہ تیل میں نشہ پید ا ہونے کا امکان نہیں۔ اسی طرح سرکہ وغیرہ کیونکہ نہی کی وجہ تو نشہ ہے جو اس میں پیدا نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5639 سے ماخوذ ہے۔