مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1993
(حديث موقوف) قَالَ : وَأَخْبَرَهُ قَالَ : وَأَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ " ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ .

زھری ابو سلمہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تونبہ اور لاکھی برتن میں نبیذ نہ بناؤ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے، ہر قسم کے روغنی برتنوں (مٹکوں) سے بچو یا سبز مٹکوں سے بچو۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ " ، قَالَ : قِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ ، قَالَ : الْجِرَارُ الْخُضْرُ .

سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن زفت ملے ہوئے برتنوں، سبز گھڑوں اور کھوکھلی (کی ہوئی) لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا۔ (ابوصالح نے) کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حنتم کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: سبز گھڑے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمُ ، وَالْمَزَادَةُ الْمَجْبُوبَةُ وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ " .

محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد سے فرمایا: ”میں تم کو کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، حنتم، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں، روغن قار ملے ہوئے برتنوں سے منع کرتا ہوں۔ حنتم وہ مشکیزے ہیں جن کے منہ کٹے ہوئے ہوں۔ لیکن اپنے مشکیزوں سے پیو اور ان کا منہ باندھ دیا کرو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 1993
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1993 | سنن ابن ماجه: 3408 | سنن نسائي: 5593 | سنن نسائي: 5633 | سنن نسائي: 5638 | سنن نسائي: 5640 | سنن نسائي: 5650

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1993 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے لاکھ ملے برتن سبز مٹکے اور چٹھو، (اندر سے کھودی لکڑی) سے منع فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا، حنتم کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، سبز مٹکے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5169]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مزفت: جسےتار کول ملا گیا ہو، اس لیے اس کو مقير بھی کہتے ہیں، زفت اور قار ایک ہی چیز ہے، لاکھ، تارکول، لک۔
(2)
حنتم: جمع حناتم: سبز مٹکے۔
(3)
نقير: اندر سے کھودا گیا تنا، چٹھو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1993 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1993 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد سے فرمایا: ’’میں تمہیں، تونبہ، سبزہ مٹکے، چٹھو اور لاکھی برتن، منہ کٹے مشکیزے سے منع کرتا ہوں، لیکن اپنے چمڑے کے مشکیزہ میں پیو اور اس کا منہ باندھ لو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5170]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
الحنتم: کا یہاں دوسرا معنی منہ کٹا مشکیزہ بیان کیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل: شراب کی حرمت کے ابتدائی دور میں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا تھا، کیونکہ ان میں نبیذ میں اگر سکر پیدا ہو جائے تو اس کا پتہ نہیں چلتا تھا، لیکن اگر مشکیزہ میں نبیذ بنایا جائے اور اس میں سکر پیدا ہو جائے، تو وہ جوش مار کر مشکیزہ کو پھاڑ دیتا ہے اور جب تک سکر (نشہ)
پیدا نہ ہو، وہ پھٹتا نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1993 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3408 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3408]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: اس سے مراد وہ مٹکا ہے۔
جس میں روغن کیاگیا ہو یا تارکول وغیرہ لگایا گیا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3408 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5640 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5640]
اردو حاشہ: تفصیل د یکھیے، حدیث:5550.
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5640 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔