صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب النَّهْيِ عَنْ الاِنْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلاَلٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا: باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
(حديث موقوف) قَالَ : وَأَخْبَرَهُ قَالَ : وَأَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ " ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ .زھری ابو سلمہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تونبہ اور لاکھی برتن میں نبیذ نہ بناؤ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے، ہر قسم کے روغنی برتنوں (مٹکوں) سے بچو یا سبز مٹکوں سے بچو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ " ، قَالَ : قِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ ، قَالَ : الْجِرَارُ الْخُضْرُ .سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن زفت ملے ہوئے برتنوں، سبز گھڑوں اور کھوکھلی (کی ہوئی) لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا۔ (ابوصالح نے) کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حنتم کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: سبز گھڑے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمُ ، وَالْمَزَادَةُ الْمَجْبُوبَةُ وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ " .محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد سے فرمایا: ”میں تم کو کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، حنتم، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں، روغن قار ملے ہوئے برتنوں سے منع کرتا ہوں۔ حنتم وہ مشکیزے ہیں جن کے منہ کٹے ہوئے ہوں۔ لیکن اپنے مشکیزوں سے پیو اور ان کا منہ باندھ دیا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
مزفت: جسےتار کول ملا گیا ہو، اس لیے اس کو مقير بھی کہتے ہیں، زفت اور قار ایک ہی چیز ہے، لاکھ، تارکول، لک۔
(2)
حنتم: جمع حناتم: سبز مٹکے۔
(3)
نقير: اندر سے کھودا گیا تنا، چٹھو۔
الحنتم: کا یہاں دوسرا معنی منہ کٹا مشکیزہ بیان کیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل: شراب کی حرمت کے ابتدائی دور میں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا تھا، کیونکہ ان میں نبیذ میں اگر سکر پیدا ہو جائے تو اس کا پتہ نہیں چلتا تھا، لیکن اگر مشکیزہ میں نبیذ بنایا جائے اور اس میں سکر پیدا ہو جائے، تو وہ جوش مار کر مشکیزہ کو پھاڑ دیتا ہے اور جب تک سکر (نشہ)
پیدا نہ ہو، وہ پھٹتا نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3408]
فوائد ومسائل: اس سے مراد وہ مٹکا ہے۔
جس میں روغن کیاگیا ہو یا تارکول وغیرہ لگایا گیا ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5640]