صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ: باب: کھجور اور انگور کو ملا کر بھگونا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش اور کچی پکی کھجور اور چھوہاروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ یعنی ان کو ملا کر نبیذ بنانا جائز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا " .لیث نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور تازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَطَاءٌ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَبَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبیذ بنانے کے لیے رطب و بسر اور زبیب و تمر کو جمع نہ کرو۔‘‘
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا ، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا " .حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کشمش اور خشک کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے اور کچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
۔
(1)
رطب: تازہ کھجور۔
(2)
بسر: کچی پکی۔
رطب دونوں کو ملا کر نبید بنانے سے منع فرمایا۔
فوائد ومسائل: نبیذ یہ ہے کہ پانی میں ان اشیاء کو بھگو دیا جاتا ہے، کچھ وقت گزرنے کے بعد ان کی مٹھاس پانی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور یہ نشہ آور ہونے سے پہلے پہلے پیا جا سکتا ہے، الگ الگ بھگونے سے جلد نشہ نہیں پیدا ہوتا، اگر دو چیزوں کو ملا دیا جائے تو جلد نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «گدر» (ادھ پکی) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1876]
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ خلیط ہونے (دونوں کے مل جانے) سے اس میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے، باوجودیکہ اس کا رنگ نہیں بدلتا ہے، اس لیے پینے والا یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ابھی یہ نشہ آور نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3703]
فائدہ: نہایہ ابن اثیر میں بیان کردہ شرح کے مطابق جاہلی دور میں نشہ آور نبیذ بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ کشمش اور کھجور یا پختہ تازہ کھجور اور نیم پختہ کھجور کا گودا پانی میں ملاکر اسے ابالا جاتا۔
پھر اسے اتنی دیر کےلئے رکھ دیا جاتا تھا کہ اس میں شدت آجائے۔
لیث بن سعد سے مروی ہے کہ دو الگ الگ چیزیں ملنے سے بہت جلد شدت آجاتی تھی۔
اور مشروب نشہ آور ہوجاتا تھا۔
اس لئے اس طرح کی نبیذ سے منع کردیا گیا۔
حدیث نمبر 3706 میں بالوضاحت اسی عمل کو بیان بھی کیا گیا ہے۔
اس سے بھی روکا گیا ہے، البتہ اگر پھلوں کے گودے اس طرح سے ملائےجایئں کہ تخمیر کا عمل پیدا نہ ہو تو اس میں حرج نہیں۔
جیسا کہ حدیث نمبر 3707۔
3708 سے واضح ہوتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3395]
فوائد و مسائل:
(1)
پانی میں کھجوریں چھوہارے یا منقیٰ ڈال کر رکھ دیا جائے۔
تو رات بھر میں ان کی مٹھاس پانی میں حل ہو کرمیٹھا مشروب تیار ہوجاتا ہے۔
اسے نبیذ کہتے ہیں۔
یہ حلال مشروب ہے کیونکہ اس میں نشہ نہیں ہوتا۔
(2)
دو طرح کی چیزیں ملا کر نبیذ بنانے سے اس میں جلدی نشہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اس لئے اس سے پرہیز کرناچاہیے۔
(3)
جس جائز کام کے نتیجے میں ناجائز کام کاارتکاب ہوجانے کا خطرہ ہو اس جائز کام سے بھی پرہیز کرنا بہتر ہے۔
(4)
سردیوں میں زیادہ دیر تک بھگونے سے بھی نشہ پیدا ہونے کاخطرہ کم ہوتا ہے۔
جب کہ گرمی کے موسم میں جلدی حالت بدل جاتی ہے۔
اس کا اندازہ اس کے ذائقے سے ہوتا ہے۔
اگر مشروب میٹھا ہو تو پی لینا چاہیے۔
اور اگر ذائقہ تبدیل ہوکرتلخی اور کڑواہٹ محسوس ہوتو پھینک دینا چاہیے۔