حدیث نمبر: 1981
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ ثُمَّ يُشْرَبَ ، وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ " .

عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط (پانی ملا رس) بنایا جائے، پھر (اس میں خمیر اٹھنے کے بعد) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 1981
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5600

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5600 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5600. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں سیدنا ابو طلحہ، سیدنا ابو دجانہ اور سہل بن بیضا‬ ؓ ک‬و نیم پختہ اور پختہ کھجوروں کا آمیزہ پلا رہا تھا (جو نشہ آور تھا) کہ اچانک حرمت شراب کا حکم آ گیا۔ اسکے بعد میں نے اسے زمین پر پھینک دیا۔ میں ہی انہیں پلا رہا تھا کیونکہ میں ان سب سے کم عمر تھا۔ ہم اس قسم نبیذ کو اس وقت شراب ہی کہتے تھےعمرو بن حارث نے کہا کہ ہمیں قتادہ نے بیان کیا اور انہوں نے سیدنا انس ؓ سے سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5600]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں وضاحت ہے کہ تازہ اور خشک کھجور سے تیار کردہ نبیذ پینا جو نشہ آور ہو جائز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ حرمت شراب کے بعد اس نبیذ کو ضائع کر دیا گیا۔
اس قسم کے نبیذ کو اتنا جوش دیا جاتا کہ گٹھلی ختم ہو جاتی، پھر اس میں نشہ پیدا ہو جاتا۔
اس کی ممانعت ایک دوسری حدیث میں ہے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے کہ کھجور کو اس قدر پکائیں کہ اس کی گٹھلی ہی ختم ہو جائے۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3706) (2)
اگر دو پھلوں کے گودے اس طرح ملائے جائیں کہ ان میں شدت نہ آئے، اور نہ تخمیر ہی کا عمل پیدا ہو تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقیٰ کا نبیذ بنایا جاتا، پھر اس میں کھجور ڈال دی جاتی، یا کھجور سے نبیذ بنایا جاتا، پھر اس میں منقیٰ ڈال دیا جاتا تھا۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3707)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5600 سے ماخوذ ہے۔