حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي ، فَقَالَ : اخْرُجْ فَانْظُرْ ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا ، فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ : قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ " ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان کی شراب صرف فضیخ یعنی گدری کھجور اور چھوہارے کا آمیزہ تھی، تو اچانک ایک منادی کرنے والے نے آواز بلند کی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نکل کر دیکھو، (کیا آواز ہے) میں نے نکل کر دیکھا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے، خبردار شراب حرام ہو چکی ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، مجھے بھی ابوطلحہ ؓ نے کہا، باہر نکل کر اس کو بہا دو، میں نے اسے بہا دیا، لوگوں نے یا بعض نے کہا، فلاں لوگ قتل کئے گئے، جبکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی، راوی کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، یہ بات حضرت انس کی حدیث میں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، ”جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے، انہیں گناہ نہیں ہو گا، جو وہ حرمت شراب سے پہلے پی چکے ہیں، جبکہ وہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہوں۔‘‘

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ ، فَقَالَ : مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ ؟ قُلْنَا : لَا قَالَ : فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ يَا أَنَسُ : أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ ، قَالَ : فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ " .

عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، فَقَالُوا : اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي ، رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذَلِكَ أَيْضًا .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں خاندان کے لوگوں کو اپنے چچوں کو کھڑا، ان کی فضیخ پلا رہا تھا، کیونکہ میں سب سے کم عمر تھا، کہ ایک آدمی آ کر کہنے لگا، واقعہ یہ ہے کہ خمر حرام کر دی گئی ہے، تو انہوں نے کہا، اس کو الٹ دو، اے انس! تو میں نے اسے الٹا دیا، سلیمان تیمی کہتے ہیں، میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، فضیخ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، کچی پکی اور تازہ کھجوروں کا آمیزہ، حضرت ابوبکر بن انس نے بتایا، ان دنوں ان کا خمر یہی تھا، سلیمان کہتے ہیں، مجھے ایک آدمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قول نقل کیا (ابوبکر والا)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ ، وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ .

محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہوا قبیلے (کے لوگوں) کو شراب پلا رہا تھا، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انہوں نے (معتمر) نے کہا: ابوبکر بن انس نے بتایا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ (خود بھی) موجود تھے اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا۔ (سلیمان نے کہا:) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا: اس نے (خود) انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَبَا دُجَانَةَ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ ، فَقَالَ : حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، قَالَ قَتَادَةُ : وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ " .

سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں انصاری کی ایک جماعت میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا: شراب کی حرمت نازل ہو گئی ہے، (یہ سنتے ہی) ہم نے اسی دن اسے (شراب کو) بہا دیا، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب تھی۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: شراب حرام کر دی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی، نیم پختہ اور خشک کھجور کی (بنی ہوئی) ہوتی تھی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَبَا دُجَانَةَ ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ .

معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو ایک مشکیزے سے شراب پلا رہا تھا، ملی جلی نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی شراب تھی، جس طرح سعید (بن ابی عروبہ) کی حدیث ہے۔

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأَبَا طَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ : قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا ، فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ابو عبیدہ بن جراح، ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فضیخ اور تمر کی شراب پلا رہا تھا، تو ان کے پاس ایک آنے والا آ کر کہنے لگا، شراب (خمر) حرام قرار دے دی گئی ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے انس! اٹھو اور اس مٹکہ کو توڑ دو، میں نے اٹھ کر اپنا ایک تراشیدہ پتھر اٹھایا اور اسے گھڑے کے نچلے حصہ میں مارا، حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 1980
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان کی شراب صرف فضیخ یعنی گدری کھجور اور چھوہارے کا آمیزہ تھی، تو اچانک ایک منادی کرنے والے نے آواز بلند کی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نکل کر دیکھو، (کیا آواز ہے) میں نے نکل کر دیکھا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے، خبردار شراب حرام ہو چکی ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، وہ مدینہ کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5131]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث سے ثابت ہوا، ہر نشہ آور چیز حرام ہے، کیونکہ ابو طلحہ اور ان کے ساتھی جو شراب پی رہے تھے، وہ بسر کچی پکی کھجور اور تمر پختہ کھجور یعنی چوہارہ کی آمیزہ فضیخ نامی تھی اور انہوں نے شراب کی حرمت کا اعلان سنتے ہی فورا بلا پس و پیش بہا دیا، اسی طرح سب لوگوں نے ہر قسم کی شراب گلیوں کی نذر کر دی، اس سے جمہور ائمہ، جن میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور محمد بن حسن داخل ہیں نے کہا ہے، تمام نشہ آور مشروبات، خمر ہیں، (المغني، ج 12، ص 495)
اور نشہ آور چیز کثیر ہو یا قلیل، حد سکر تک پہنچے یا نہ حرام ہے اور نجس ہے، پینے والے کو حد لگائی جائے گی۔
(2)
امام ربیعہ اور دادا کے نزدیک ہر نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن نجس نہیں ہے، (شرح المہذب، ج 2، ص 569-570، بحوالہ تکملہ، ج 3، ص 599)
۔
نیز امام ابو حنیفہ، ابو یوسف اور نخعی اور بعض اہل بصرہ کے نزدیک مشروبات کی تین اقسام ہیں۔
(1)
انگور کا شیرہ جب شدت اختیار کرتے ہوئے جوش مارنے لگے اور اس میں جھاگ اٹھے، امام ابو یوسف کے نزدیک جھاگ اڑانا ضروری نہیں ہے، یہ اصلی خمر ہے، اس کا قلیل و کثیر حرام ہے اور یہ نجس ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، اگر کوئی اس کا ایک قطرہ بھی پی لے گا، اس کو حد لگائی جائے گی۔
(2)
تین حرام مشروبات(ا)
انگور کا شیرہ جب پکایا جائے اور اس کا دو تہائی سے کم حصہ اڑ جائے۔
(ب)
نقيع التمر: جو سکر کہتے ہیں، یعنی کھجوروں کو تازہ پانی میں ڈالا جائے، اس میں نشہ پیدا ہو جائے۔
(ج)
نقيع الزبيب: وہ کچا پانی یعنی جسے پکایا نہ گیا ہو، اس میں منقہ ڈالا گیا ہو، کئی دن پڑا رہنے سے اس میں شدت اور جوش پیدا ہو جائے، بقول علامہ تقی یہ تینوں بھی امام ابو حنیفہ کے صحیح قول کے مطابق خمر ہیں، اس لیے حرام اور نجس ہیں، قلیل ہو یا کثیر اس کا پینا حرام ہے، لیکن اس کا شراب ہونا اصلی خمر کی طرح قطعی اور یقینی نہیں ہے، اس لیے جب تک نشہ پیدا نہ ہو، حد نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ اس کا شراب ہونا قطعی نہیں ہے، بلکہ شراب ہونے میں شبہ موجود ہے، امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا بیچنا جائز ہے، لیکن صاحبین کے نزدیک بیچنا جائز نہیں ہے۔
(3)
ان چار اقسام کے سوا جتنے نشہ آور مشروبات ہیں، وہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک پینا جائز ہے، (تکملہ ج 3 ص 599، 600) (ہدایہ)
لیکن ظاہر ہے احادیث صحیحہ کی رو سے جمہور کا موقف درست ہے، کیونکہ آپ کا صریح فرمان ہے، ’’ما اسكر كثيره فقليله حرام‘‘ جس شراب کی زیادہ مقدار نشہ آور ہے، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے، اس لیے بہت سے احناف نے حرام ہونے میں جمہور کا موقف قبول کیا ہے، مگر اصلی خمر کے سوا کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیا ہے اور حد اس وقت لگائی ہے، جب نشہ آور مقدار میں پیا جائے، (تکملہ ج 3 ص 608)
۔
ابن المنذر کہتے ہیں، اہل کوفہ جن احادیث سے استدلال کرتے ہیں، وہ سب معلول ہیں اور امام اثرم نے ان تمام احادیث اور اقوال صحابہ کا ضعف واضح کیا ہے۔
(المغني: ج 12، ص 497)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1980 سے ماخوذ ہے۔