صحيح مسلم
كتاب الأضاحي— قربانی کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ: باب: ابتدائے اسلام میں ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .ابوسنان ضرار بن مرہ نے محارب بن دثار سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (پہلے) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، (اب) تم زیارت کر لیا کرو اور میں نے (پہلے) تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، (اب) تمہارا جب تک کے لیے جی چاہے قربانی کا گوشت رکھو۔ اور میں نے تم کو مشک کے علاوہ (ہر قسم کے برتن میں) نبیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پیو اور نشہ آور چیز نہ پیو۔“
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ .علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے پہلے تمہیں منع کیا تھا۔“ پھر ابن سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا " ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ ، قَالَ : لَكِنِّي أَرْفَعُهُ .حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہو جائے، تو تم میں سے جو شخص قربانی کرنا چاہے، وہ اپنے بالوں اور جسم کو نہ چھیڑے۔‘‘ سفیان سے پوچھا گیا، بعض راوی اس کو مرفوع بیان نہیں کرتے ہیں، انہوں نے کہا، لیکن میں مرفوع بیان کرتا ہوں۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيم ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا " .حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مرفوع روایت بیان کرتی ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”جب ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کا آغاز ہو جائے اور انسان کے پاس قربانی کی استطاعت ہو اور وہ قربانی کرنا چاہتا ہو تو وہ ہرگز اپنے بال نہ کاٹے اور نہ ناخن کاٹے۔‘‘
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .یحییٰ بن کثیر عنبری ابوغسان نے کہا: ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمر بن مسلم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو (نہ کاٹے) اپنے حال پر رہنے دے۔“
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمر یا عمرو بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ ، فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ " .معاذ عنبری نے کہا: ہمیں محمد بن عمر ولیثی نے عمر بن مسلم بن عمارہ بن اُکیمہ لیثی سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے کوئی ذبیحہ ہو تو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے، یہاں تک کہ قربانی کر لے (پھر بال اور ناخن کاٹے۔)“
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الْأَضْحَى ، فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ ، فَقَالَ : بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ ، فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي : هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ . حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ،عمرو بن مسلم بن عمار لیثی بیان کرتے ہیں کہ ہم عید الاضحیٰ سے کچھ دن پہلے حمام میں تھے، کچھ لوگوں نے بال صفا پوڈر استعمال کیا، تو حمام کے بعض مالکوں نے کہا، سعید بن المسیب اس کو ناپسند کرتے تھے، یا اس سے منع کرتے تھے، تو میں سعید بن المسیب کو ملا اور اس کا ان سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا، اے بھتیجے، یہ حدیث بھلا دی گئی ہے اور اس پر عمل چھوڑ دیا گیا ہے، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاِ، آگے مذکورہ بالا معاذ کی حدیث ہے۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .مصنف ایک اور استاد سے حضرت ام سلمہ ؓ کی مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1054]
وضاحت:
1؎:
اس میں قبروں کی زیارت کااستحباب ہی نہیں بلکہ اس کا حکم اورتاکید ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ابتداء اسلام میں اس کام سے روک دیاگیا تھا کیونکہ اس وقت یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے زمانۂ جاہلیت کے اثرسے وہاں کوئی غلط کام نہ کربیٹھیں پھرجب یہ خطرہ ختم ہوگیا اور مسلمان عقیدۂ توحید میں پختہ ہوگئے تو اس کی نہ صرف اجازت دیدی گئی بلکہ اس کی تاکیدکی گئی تاکہ موت کا تصورانسان کے دل ودماغ میں ہروقت رچابسارہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3235]
1۔
زیارت قبور ایک مشروع او ر مسنون عمل ہے۔
انسان جہاں کہیں مقیم ہو وہاں کے قبرستان کی زیارت کو اپنا معمول بنالے۔
مگر صرف اس مقصد کےلئے دور دراز کا سفر کرنا جائز نہیں۔
2۔
زیارت قبور کے مسنون آداب ہیں۔
یعنی قبرستان میں داخل ہونے کی دعا اور مسلمان اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت نہ کہ وہاں جا کر نماز پڑھنا۔
یا تلاوت قرآن کرنا۔
قبر کو مقام قبولیت سمجھنا یا صاحب قبر کے واسطے اور وسیلے سے دعا کرنا یا خود اسی کو اپنی حاجات پیش کرنا۔
یہ سب کام حرام ہیں۔
اور اسی طرح قبروں پر میلے ٹھیلے اور عرس وقوالی وغیرہ کا احادیث رسول اللہ ﷺ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں کوئی نام ونشان تک نہیں ملتا ہے۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ (پینے) سے منع کیا تھا، تو سارے برتنوں میں پیو (مگر) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا۔" [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2034]
(2) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی دور میں شرک عام تھا۔ بتوں اور قبروں کی پوجا کھلے عام تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو قبروں پر جانے سے روک دیا تاکہ شرک کی طرف ذہن متوجہ ہی نہ ہو۔ جب توحید عام ہوگئی اور ذہن پختہ ہوگئے، شرک کا امکان نہ رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے کی اجازت دے دی تاکہ موت یاد رہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اب پھر قبروں پر دعا و پکار ہوتی ہے۔ موت کی یاد کی بجائے شرک کی یاد تازہ ہوتی ہے، لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں ایسی قبروں پر جانا منع ہے جن کی پوجا ہوتی ہے اور جنھیں آج کی اصطلاح میں "مزار" کہا جاتا ہے۔
(3) "قربانی کا گوشت" ابتدا میں اکثر صحابہ فقیر تھے۔ خال خال لوگ قربانی کرسکتے تھے، زیادہ تر مسلمان غریب اور مسکین تھے، اس لیے آپ نے تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت رکھنے سے روک دیا تھا، پھر جب غنائم کی کثرت ہوگئی اور قربانیاں عام ہوگئیں اور لوگوں کو حاجت نہ رہی تو آپ نے اصلی حکم بحال فرما دیا کہ جب تک چاہو، کھاؤ، البتہ کسی سائل کو محروم نہ رکھا جائے اور نہ پڑوسی ہی محروم رہے۔
(4) "نبیذ" ابتدائی دور میں لوگ مے نوشی کے عادی تھے۔ تھوڑا بہت نشہ تو انھیں محسوس ہی نہ ہوتا تھا، اس لیے جب شراب حرام ہوئی تو آپ نے ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا جو شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے کیونکہ ان کی ساخت ایسی تھی کہ ان میں جلد نشہ پیدا ہوتا تھا، امکان تھا کہ اگر ان برتنوں میں نبیذ کی اجازت دی گئی تو اولاً شراب کی یاد باقی رہے گی، ثانیاً نبیذ میں نشہ پیدا ہو جائے گا اور انھیں پتا نہیں چلے گا، اس لیے شراب کے برتنوں سے مستقل روک دیا گیا لیکن جب شراب ذہنوں سے محو ہوگئی اور طبائع میں نشے کی اثرات نہ رہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلی حکم بحال فرما دیا کہ کسی بھی برتن میں نبیذ بنائی جا سکتی ہے کیونکہ برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتا۔ حرام کرنے والی چیز تو نشہ ہے، اگر نشہ پیدا نہ ہو تو کسی بھی برتن میں نبیذ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
(5) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم وقت یا مفتی اور قاضی کسی چیز کو جائز ہونے کے باوجود وقتی طور پر ممنوع کرسکتے ہیں جب کسی مفسدے اور خرابی کا حقیقی خطرہ ہو، مگر یہ پابندی عارضی ہوگی۔ جوں ہی خرابی کا خطرہ ختم ہو تو وہ چیز دوبارہ جائز ہو جائے گی۔ شرعاً جائز امر کو مستقل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا، ہاں جزوی یا عارضی طور پر پابندی ممکن ہے بشرطیکہ کوی ٹھوس وجہ موجود ہو۔
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (موجود) تھے، تو آپ نے فرمایا: " میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا (تو اب تم) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی، تار کول ملے ہوئے، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، (مگر اب) جس میں مناسب سمجھو بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو، اور میں نے تمہیں قبروں ک [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2035]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو۔" [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4435]
(2) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی طرف بھی واضح راہنمائی کرتی ہے کہ احکام میں نسخ ہوتا ہے جیسا کہ زیارتِ قبور کی ممانعت کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور قبرستان جانے کی رخصت دے دی گئی، اسی طرح پہلے چند مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروبات پینے سے روکا گیا تھا، پھر بعد میں اس ممانعت والے حکم کو مکمل طور پر منسوخ کر کے ان برتنوں میں مشروبات پینے کی اجازت دے دی گئی اور وہ اجازت تاحال باقی ہے۔ ہاں، البتہ نشہ آور مشروب، خواہ تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جائے یا زیادہ مقدار میں، ہر دو صورت میں اس کا پینا حرام اور ناجائز ہے اور یہ حرمت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کرو، میں نے تین دن سے زیادہ تک قربانی کے گوشت (جمع کرنے) سے منع کیا تھا، لیکن اب جب تک تمہارا جی چاہے رکھ چھوڑو، میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ (برتنوں) کی نبیذ سے منع کیا تھا، لیکن اب تم تمام قسم کے برتنوں میں پیو البتہ نشہ لانے والی چیز مت پیو۔" [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5655]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت سے تو اب تم (قبروں کی زیارت) کرو، اس کی زیارت سے تمہاری بہتری ہو گی، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم جب تک چاہو اس میں سے کھاؤ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں کے مشروب سے روکا تھا، لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پیو اور کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔" [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5656]
"سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب ان کی زیارت کرو۔ " [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 472]
«فَزُورُوهَا» «زيارة» سے امر کا صیغہ ہے۔ یہ اجازت ممانعت کے بعد تھی۔
«تُذَكَّرُ» «تذكير» سے ماخوذ ہے، یعنی یاد دہانی کراتی ہے۔
«تُزْهَّدُ» «تزهيد» سے ماخوذ ہے، یعنی دنیا سے بےرغبت و زاہد بنا دیتی ہے۔ زیارت قبور سے بس یہی مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت جائز ہے۔
➋ ابتداء میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا مگر پھر اس کی اجازت دے دی اور اس سے مقصد آخرت کی یاد اور میت کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرنا ہے۔
➌ قبروں پر نذر و نیاز اور عرس وغیرہ کا شریعت مطہرہ میں کوئی جواز نہیں۔