صحيح مسلم
كتاب الأضاحي— قربانی کے احکام و مسائل
باب الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ: باب: فرع اور عتیرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِد ُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ " زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ .یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے روایت کی، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز محمد بن رافع اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا (واجب/جائز) ہے، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے۔“ ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
تمت بالخیر۔
خاتمہ الحمدللہ الذي بنعمته تتم الصالحات! حمد وصلٰوۃ کے بعد محض اللہ پاک کے فضل و کرم اور فدائیان اسلام کی پر خلوص دعاؤں کے نتیجہ میں آج اس پارے کی تسوید سے فراغت حاصل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ میری قلمی لغزشوں کو معاف فرمائے اور اس خدمت حدیث نبوی کو قبول فرما کر جملہ معاونین کرام و شائقین عظام اور برادران اسلام کے لیے ذریعہ برکات دارین بنائے۔
جو دور و نزدیک علاقوں سے تکمیل صحیح بخاری شریف مترجم اردو کے لیے پر خلوص عظام دعاؤں سے مجھ ناچیز کی ہمت افزائی فرما رہے ہیں۔
یا اللہ! جس طرح تو نے یہاں تک کی منزلیں میرے لیے آسان فرمائی ہیں اسی طرح بقایا آٹھ پاروں کی اشاعت بھی آسان فرمائیو اور مجھ کو توفیق دیجئے کہ تیری اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی عین رضا کے مطابق میں اس خدمت کو انجام دے سکوں۔
یا اللہ! میرے اساتذہ کرام و جملہ معاونین عظام اور آل اولاد کے حق میں یہ خدمت قبول فرما اور ہم سب کو قیامت کے دن دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع فرمائیو، آپ کے دست مبارک سے آب کوثر نصیب فرمائیو اور اس خدمت عظمیٰ کو ہم سب کے لیے باعث نجات بنائیو۔
ربنا تقبل منا إنك أنت السمیع العلیم۔
وتب علینا إنك أنت التواب الرحیم۔
برحمتك یا أرحم الراحمین وصل علیٰ حبیبك خیر المر سلین و علیٰ آله و أصحابه أجمعین آمین یا رب العالمین۔
راقم محمد داؤد راز ولد عبداللہ السلفی مسجد اہلحدیث نمبر 1421 اجمیری گیٹ دہلی نمبر 6 بھارت (ربیع الاول سنہ 1395ھ)
(1)
دور جاہلیت میں اسے رجبیہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ اسے رجب میں ذبح کرتے تھے۔
اسلام نے اس رسم کو ختم کر دیا کیونکہ واضح طور پر اس میں شرک کے جراثیم پائے جاتے تھے۔
لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے مشروع قرار دیا ہے جب اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے جیسا کہ منیٰ میں کھڑے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم دور جاہلیت میں رجب کے مہینے میں عتیرہ ذبح کرتے تھے، آپ اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرو اور اللہ کے نام سے لوگوں کو کھلاؤ۔
‘‘ (سنن النسائي، الفرع و العتیرة، حدیث: 4234) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق صدقہ و خیرات قربانی ہر وقت جائز ہے مگر ذوالحجہ کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کی پابندی سے کوئی قربانی یا خیرات کرنا درست نہیں جیسا کہ میت کی طرف سے صدقہ و خیرات جائز ہے لیکن قل خوانی، تیجہ، ساتواں، دسواں یا چہلم کے نام سے صدقہ و خیرات کرنا بدعت ہے۔
اس قسم کی تخصیص کا شریعت میں جواز نہیں ہے۔
واللہ أعلم
رجب کے آخری عشرہ میں بعض جگہ بڑے ہی اہتمام سے یہ کونڈے بھرنے کا تہوار منایا جاتا ہے۔
بعض لوگ اسے کھڑے پیر کی نیاز بتلاتے اور اسے کھڑے ہی کھڑے کھاتے ہیں۔
یہ جملہ محدثات بدعات ضلالہ ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایسی خرافات سے بچنے کی ہدایت بخشے، آمین۔
(1)
ابو داود میں مزید وضاحت ہے کہ اونٹنی کے پہلے بچے کو بتوں کے نام پر ذبح کر کے اسے خود کھا جاتے اور اس کی جلد درختوں پر پھینک دیتے۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2833)
ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرع کو حق قرار دیا ہے جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔
(سنن النسائي، الفرع و العتیرة، حدیث: 4230)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرع جائز ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کیا جائے۔
(فتح الباري: 739/9) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق جاہلیت کی یہ رسم دور اسلام میں اسی طرح قائم رہی مگر مسلمان اسے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے لگے، پھر اس رسم کو موقوف اور منسوخ کر دیا گیا۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فرع اور عتیرہ واجب نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4227]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ «فرعہ» ہے اور نہ «عتیرہ» “ (یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے)، ہشام کہتے ہیں: «فرعہ» : جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ۱؎ اور «عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3168]
فوائد و مسائل:
(1)
جاہلیت میں بتوں کے نام کی مختلف قربانیاں دی جاتی تھیں۔
ان میں سے ایک فرعہ بھی ہے۔
لیکن جب قربانی کا حکم ہوا تو اس خاص صفت کا اہتمام کرتے ہوئے قربانی دینا منسوخ ہوگیا، البتہ اللہ کے نام پر حسب توفیق جانور ذبح کرکے مسکینوں کو کھلانا ایک نیکی ہے جو منسوخ نہیں، یہ بات یاد رہےکہ شریعت میں ثابت قربانی (عید الاضحی اور عقیقہ)
کے علاوہ کسی اور دن کو خاص کرکے قربانی یا صدقہ دینا درست نہیں۔
(2)
عتیرہ کی قربانی رجب کے مہینے میں دی جاتی تھی۔
اب وہ بھی منسوخ ہے لیکن دن اور جگہ کی تعین کے بغیراللہ کے نام پر حسب توفیق جانور ذبح کرنا منسوخ نہیں بلکہ مستحب ہے، صرف وجوب منسوخ ہے۔
مزید دیکھیے، حدیث: 3125 کے فوائد و مسائل۔
اس حدیث میں زمانہ جاہلیت کے دو کاموں کا ذکر ہے، اور اسلام نے ان دونوں سے منع کیا ہے: ایک فرع، اس کا مطلب ہے: کفار جانور کے پہلے بچے کو بتوں کے نام پر چھوڑ تے تھے، اور یہ منع ہے، آج بھی بعض لوگ جانوروں کا پہلا بچہ کسی مزار کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں، جو کہ حرام کام ہے
دوسرا عتیر ہ، (وہ بکری جس کو ماہ رجب میں گھر والے تمام لوگوں کی طرف سے ذبح کریں) اور اس سے بھی منع کیا گیا ہے، آج کل بعض لوگ رجب کے مہینے میں کونڈوں اور کئی خاص دعوتوں کا انتظام کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔