صحيح مسلم
كتاب الأضاحي— قربانی کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ: باب: ابتدائے اسلام میں ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ ، ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ : " أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ " ، فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ .معن بن عیسیٰ نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے قربانی کے جانوروں میں سے) قربانی کا ایک جانور ذبح کر کے فرمایا: ”ثوبان! اس کے گوشت کو درست کر لو (ساتھ لے جانے کے لیے تیار کر لو۔)“ پھر میں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔
وحَدَّثَنِي إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ " ، قَالَ : فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ .رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اس گوشت کو درست کر لو۔‘‘ میں نے اس کو ٹھیک کر کے رکھ دیا، آپﷺ اسے مدینہ پہنچنے تک کھاتے رہے۔
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .محمد بن مبارک نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ”حجۃ الوداع میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر میں) قربانی کی اور کہا: " ثوبان! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو (بناؤ) "، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2814]
1۔
یہ حکم عام ہے کہ کافر یا مجرم کو بھی اذیت دے کر قتل کرنا ناجائز ہے۔
البتہ کچھ صورتیں مخصوص ہیں۔
مثلا سولی چڑھانا۔
قصاص لینا یا شادی شدہ زانی کو پتھر مار مار کر قتل کرنا۔
لیکن بعد از قتل نعش کا مثلہ کرنا۔
(اس کے اعضاء کاٹنا) جائز نہیں۔
2۔
قابل قتل جانوروں کو قتل کرتے ہوئے تاک کرنشانہ مارنا چاہیے۔
تھوڑ ی تھوڑی چوٹ لگا کر انکے تڑپنے پھڑکنے سے لطف اندو ز ہونا حرام ہے۔
اسی طرح ذبیحہ جانوروں کے لئے چھری کو خوب تیز کیا جائے۔
اور مطلوبہ مقام پرچھری رکھی جائے۔
اور جانور کو اچھی طرح سے پکڑا جائے۔
یا باندھا جائے تاکہ ذبح کرنا آسان رہے۔