حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ لُحُومِ نُسُكِنَا بَعْدَ ثَلَاثٍ " .

سفیان نے کہا: ہمیں زہری نے ابوعبید سے روایت کی کہا: میں عید کے موقع پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ ہم تین دن (گزر جانے) کے بعد اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : فَصَلَّى لَنَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوا " .

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابن ازہر کے مولیٰ ابوعبید نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی کہا: اس کے بعد میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھی انہوں نے خطبے سے پہلے ہمیں نماز پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اس لیے (تین راتوں کے بعد یہ گوشت) نہ کھاؤ۔ ان تین دنوں میں کھا کر اور تقسیم کر کے ختم کر دو۔

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے زہری ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأضاحي / حدیث: 1969
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابوعبید بیان کرتے ہیں، میں نے عید میں حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ شرکت کی، تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:5097]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فقراء اور محتاجوں کی ضرورت کے پیش نظر تین دن سے زائد گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، تاکہ ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے دنوں میں، جب پھر اہل البوادی (جنگلی)
مدینہ میں آ گئے اور ان کی ضرورت و حاجت پوری کرنے کے لیے گوشت تقسیم کرنے کی ضرورت محسوس کی، تو یہ حدیث سنائی، ویسے علت کے ختم ہونے کی بنا پر یہ حدیث منسوخ ہے، جیسا کہ آگے تصریح آ رہی ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ گھر کے لیے، ایک حصہ دوست احباب اور پڑوسیوں کے لیے اور ایک فقراء و مساکین کے لیے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اس طرح منقول ہے، امام احمد کا یہی قول ہے اور دوسرا قول یہ ہے، آدھا گھر کے لیے اور آدھا تقسیم کے لیے اور احناف کے نزدیک جتنا زیادہ صدقہ کرے گا، وہی بہتر ہے، صحیح قول یہی ہے، اس میں کوئی پابندی نہیں ہے، جتنا صدقہ کرے گا، اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا، تفصیل کے لیے (المغني، ج 13، ص 379۔
380)
۔
امام احمد کے بقول حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما تک تین دن سے زائد رخصت نہیں پہنچی، اس لیے وہ نص پر قائم رہے۔
(المغني، ج 13، ص 381)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5097 سے ماخوذ ہے۔