صحيح مسلم
كتاب الأضاحي— قربانی کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلاَ تَوْكِيلٍ وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ: باب: قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے اسی طرح بسم اللہ و اللہ اکبر کہنا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ، فَقَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ : " هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ " ، فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ، ثُمَّ ذَبَحَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ثُمَّ ضَحَّى بِهِ .عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے۔ میں نے تیز کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ، اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آل کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
۔
اس طرح حنفیوں اور شافعیوں کے نزدیک دوسروں کو ثواب میں تو شریک کیا جا سکتا ہے، ان کی طرف سے قربانی نہیں ہو گی، یعنی احناف کے نزدیک قربانی صرف مالدار پر ہے، اس لیے زیر کفالت بچوں اور بیوی پر قربانی نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے، آپ نے کہیں یہ حکم دیا ہے کہ گھر کا ہر مالدار فرد قربانی دے، آپ نے اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ قربانی کریں۔
اور یہ کہنا کہ اگر ایک بکری ایک سے زائد کے لیے کافی ہے، تو پھر گائے، سات سے زائد کی طرف سے جائز ہونی چاہیے، درست نہیں ہے، کیونکہ گائے میں سات حصے ہوں گے، یہ مراد نہیں ہے کہ سات افراد کی طرف سے ہے، اس طرح یہ کہنا کہ اگر بکری ایک گھرانے کی طرف سے ہے تو اس کا معنی ہوا کہ ایک گھر کے پانچ افراد ہیں، تو ایک کی طرف سے پانچواں حصہ ہوا، کیونکہ حدیث کا مقصد تو یہ ہے کہ خاندان کے نگران اور قیم کی قربانی سب کی طرف سے ہے، ہر ایک پر الگ الگ قربانی نہیں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ چھری لاؤ “، پھر فرمایا: ” اسے پتھر پر تیز کرو “، تو میں نے چھری تیز کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: «بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» ” اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2792]
1۔
قربانی کا جانور صحت مند اور خوش نظر ہونا چاہیے۔
مذکورہ بالا صفات پائی جایئں۔
تو بہت ہی عمدہ ہے۔
2۔
چھری خوب تیز ہونی چاہیے۔
3۔
امت محمد ﷺ کی طرف سے قربانی آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربانی کرنی چاہیے۔
یا اس کی طرف سے جس نے وصیت کی ہو۔
4۔
اس حدیث سے دلیل لی گئی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔
کہ آپﷺ نے اپنی امت کی طرف سے قربانی کی تو ا س میں وہ لوگ بھی تھے۔
جو وفات پا چکے تھے۔
اور ایک کثیر تعداد وہ تھی۔
جو آپﷺ کی رحلت کے بعد پیدا ہوئی۔
لیکن اس سے استدلال صحیح نہیں۔
کیونکہ امت کی طرف سے قربانی کرنا نبی کریم ﷺ کی خصوصیت تھی۔
جس پر دوسروں کے لئے عمل کرنا جائز نہیں۔
جیسا کہ اس سے قبل (حدیث۔
2791 کے فوائد میں) وضاحت کی گئی ہے۔