صحيح مسلم
كتاب الأضاحي— قربانی کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلاَ تَوْكِيلٍ وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ: باب: قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے اسی طرح بسم اللہ و اللہ اکبر کہنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے بسم اللہ اور اللہ اکبر کہہ کر دو سینگوں والے گندم گوں مینڈھے قربانی کیے اور اپنا پاؤں (قدم) ان کے پہلو پر رکھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، قَالَ : وَسَمَّى وَكَبَّرَ " .وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا (اور) کہا: آپ نے اللہ کا نام لیا (بسم اللہ پڑھی) اور تکبیر کہی۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ .خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی: کہا: مجھے قتادہ نے بتایا کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس (پچھلی حدیث) کے مانند۔ (شعبہ نے) کہا: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا آپ نے (خود) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ کہا: ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَيَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ .سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انہوں نے یہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
املح: سیاہ وسفید، سفیدی مائل، بقول اصمعی خاکستری رنگ اور بقول ابن الاعرابی، خالص سفید، بقول سرخی مائل یعنی گندم گوں۔
(2)
اقرنين: سینگوں والے، بعض روایات میں موجوئين خصي کا اضافہ ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، قربانی کے جانور کو لٹا کر، بسم اللہ اور اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہیے اور قربانی کا جانور خوبصورت موٹا تازہ ہونا چاہیے اور آپ ﷺ نے جانور کی گردن پر پاؤں رکھا تاکہ وہ حرکت نہ کرے اور اس کو ذبح کرنا آسان ہو، اپنی موجودگی میں کسی دوسرے سے ذبح کروانا جائز ہے۔
«إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، بِسْمِ اللَّهِ، واللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ، وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَأُمَّتِهِ» اگر دوسرے کی قربانی کرنا ہے تو اس طرح کہے اللھم تقبل عن (فلان بن فلان)
کی جگہ ان کا نام لے۔
یہ دعا پڑھ کر تیز چھری سے جانور ذبح کر دیا جائے۔
(1)
ذبح کرنے سے پہلے چھری اچھی طرح تیز کرنی چاہیے اور جانور سے چھپا کر رکھنی چاہیے، پھر بسم اللہ اللہ أکبر پڑھ کر اسے ذبح کرنا چاہیے۔
(2)
قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے لیکن دوسرا شخص بھی کر سکتا ہے جیسے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کی طرف سے قربانی ذبح کی تھی۔
انہیں اس وقت معلوم ہوا جب گوشت ان کے پاس پہنچا۔
(سنن ابن ماجة، المناسك، حدیث: 2981)
(1)
حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو موٹے تازے صحت مند مینڈھے خرید کر لاتے۔
(مجمع الزوائد: 21/4)
واضح رہے کہ ان روایات میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ موٹے جانور دوسرے جانوروں سے افضل ہیں، تاہم اگر اس وجہ سے کہ موٹے تازے جانور میں گوشت زیادہ ہو گا اور اس سے غرباء کا زیادہ فائدہ ہو سکے گا یہ کہہ دیا جائے کہ موٹا جانور افضل ہے تو یقیناً قرین قیاس ہے۔
(2)
امام ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے جانور کا موٹا اور عمدہ ہونا مسنون ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے۔
‘‘ (الحج: 32)
اس کی تعظیم سے مراد اس کا موٹا ہونا اور اس کا احترام کرنا ہے کیونکہ یہ بڑے اجر اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
(المغني: 367/13)
(1)
بہتر ہے کہ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کیا جائے لیکن قربانی کے لیے یہ شرط نہیں ہے۔
اگر کوئی ذبح کرنے سے ناواقف ہے تو وہ کسی دوسرے کو، ذبح کے لیے اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے۔
(2)
ذبح کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر لٹایا جائے، پھر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں اس کی دائیں جانب رکھے تاکہ اسے دائیں ہاتھ سے چھری اور بائیں ہاتھ سے گردن پکڑنا آسان ہو۔
مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔
اگر کسی نے جہالت کی وجہ سے جانور کو دائیں کروٹ پر لٹایا تو اس کا ذبح اور جانور کا کھانا درست ہے۔
واللہ أعلم
اس کے متعلق پہلے وضاحت ہو چکی ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر لٹایا جائے، پھر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں اس کی گردن پر رکھے تاکہ دائیں ہاتھ میں چھری اور بائیں ہاتھ سے گردن پکڑنا آسان ہو۔
مسلمان اسی طرح جانور ذبح کرتے ہیں اور یہ طریقہ متواتر چلا آ رہا ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور (ذبح کرتے وقت) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1494]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے یہ مسائل ثابت ہوتے ہیں: (1)
قربانی کاجانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہیے، گو نیابت بھی جائز ہے۔
(2)
ذبح سے پہلے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیے
(3)
ذبح کرتے وقت اپنا پاؤں جانورکے گردن پررکھنا چاہئے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ «اللہ اکبر» اور «بسم اللہ» پڑھ رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان (کی گردن) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں۔ (شعبہ کہتے ہیں) میں قتادہ نے عرض کیا: کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4420]
(2) قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت تسمیہ (بسم اللہ) پڑھنا مشروع ہے۔ اسی طرح تمام جانور ذبح کرتے وقت تسمیہ پڑھنی چاہیے۔ اس پر اجماع ہے۔ تسمیہ کے ساتھ ساتھ تکبیر (اللهُ أكبَرُ) پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ دیگر روایات میں اس کی تصریح موجود ہے۔
(3) قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کی مشروعیت بھی معلوم ہوتی ہے، تاہم بوقت ضرورت کسی اور کو بھی وکیل بنایا جا سکتا ہے۔
(4) رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے ذبح فرمائے، اس سے ایک سے زیادہ جانور قربان کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
(5) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سینگوں والے خوبصورت جانور کی قربانی کرنا افضل ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا، تاہم بغیر سینگوں والے جانور کی قربانی بھی درست ہے۔
(6) جانور کو لٹانے کے بعد اس کے پہلو پر پاؤں رکھ لینا چاہیے تاکہ وہ قابومیں رہے۔ چھری قوت سے چل سکے اور وہ سر کو حرکت دے کر ذبح میں رکاوٹ نہ بنے، نیز اسے زیادہ تکلیف نہ ہو۔ یہ حکم قربانی سے خاص نہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4390]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ «بسم اللہ» پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ۱؎، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4421]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور «بسم اللہ واللہ اکبر» کہا اور اپنا (دایاں) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4392]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے، (ذبح کے وقت) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3120]
فوائد و مسائل:
(1)
عید الاضحی کے موقع پر صاحب استطاعت کو کم از کم ایک بکری مینڈھا، گائے یا اونٹ کے ایک حصے کی قربانی کرنا ضروری ہے۔
(2)
ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی بھی جائز بلکہ افضل ہے۔
(3)
گھر کے فرد کو اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانورذبح کرنا چاہیے تاہم کوئی دوسرا شخص بھی ذبح کرسکتا ہے۔
(4)
قربانی کا جانور عمدہ اور خوبصورت ہونا چاہیے۔
(5)
قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت درج ذیل حدیث میں مذکور دعا پڑھنا مسنون ہے جس کی تفصیل ابتداء میں گزرچکی ہے۔
(6)
ذبح کرتے وقت جانور کے جسم پر پاؤں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جانور قابو میں رہے۔
اور بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔