وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ " .مطرف نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے ماموں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی ایک (عام) بکری ہے (قربانی کی نہیں۔)“ انہوں (حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے کے) لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پالیا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعِدْ نُسُكًا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَقَالَ : " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ ، وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .ہشیم نے داود سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر دیا اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتا ہے۔ (اور اس کی چاہت باقی نہیں رہتی) اور میں نے اپنے بچوں، ہمسایوں اور گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اور (جانور) ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (تم اسی کی قربانی کر لو) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، قَالَ : فَقَالَ خَالِي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ .حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھنے سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔‘‘ تو میرے ماموں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! یہ ایک ایسا دن ہے، جس میں گوشت (دن کے آخری حصہ میں) ناپسندیدہ ہو جاتا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، فَقَالَ خَالِي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي ، فَقَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لِأَهْلِكَ " ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ ، قَالَ : " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ " .فراس نے عامر سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے۔“ میرے ماموں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ (ذبیحہ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے جلد ذبح کر لیا۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ " ، فَقَالَ : عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ : " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے زبید یمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن ہم جس کام سے آغاز کریں گے (وہ یہ ہے) کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر لوٹیں گے، اور قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے۔“ حضرت ابوبردہ بن دینار رضی اللہ عنہ (اس سے پہلے) ذبح کر چکے تھے انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتے بکرے سے بہتر ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ذبح کر دو، اور تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کافی نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .یہی روایت مصنف ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .منصور نے شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ ، فَقَالَ : " لَا يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، قَالَ رَجُلٌ : عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، قَالَ : " فَضَحِّ بِهَا وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .عاصم احول نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”کوئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔“ ایک شخص نے کہا: میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی (کھیری) بکری ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو، تمہارے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْدِلْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَظُنُّهُ قَالَ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .محمد بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے۔ شعبہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا:۔۔۔اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کی جگہ (ذبح) کر لو لیکن یہ تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔“
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ .وہب بن جریر اور ابوعامر عقدی نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”یہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے“ کے بارے میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تِلكَ شَاةُ لَحم: یہ گوشت کے لیے بکری ہے، یعنی یہ قربانی نہیں ہے، لیکن اس کو کھا سکتے ہو۔
(2)
جذعة: پانچ چھ ماہ کا جانور یا بکری اور بقول امام شافعی ایک سال کی بکری۔
جذعة: بکری جو دوسرے سال میں داخل ہو، گائے جو تیسرے میں داخل ہو، اونٹ جو پانچویں سال میں داخل ہو، بھیڑ بقول جمہور جو پورے سال کی ہو لیکن بقول بعض چھ ماہ آٹھ ماہ اور دس ماہ۔
(منة المنھم ج 3، ص319)
(1)
کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ قربانی، جب امام وقت ذبح کرے اس کے بعد عام لوگوں کو ذبح کرنی چاہیے لیکن یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ اگر امام نے قربانی نہ کرنی ہو یا امام غلطی سے نماز سے پہلے قربانی کر دے تو اس صورت میں کیا کرنا ہو گا، لہذا قربانی کرنے کا مدار نمازِ عید کو مقرر کرنا چاہیے کہ نماز سے پہلے قربانی جائز نہیں بلکہ نماز کے بعد ہونی چاہیے، خواہ امام قربانی کرے یا نہ کرے۔
(2)
قربانی کرنے کے وقت میں امام اور لوگ سب برابر ہیں، بہرحال قربانی کا وقت نماز عید کے بعد ہے پہلے نہیں اور اگر کوئی نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے تو اس کی قربانی نہیں ہو گی بلکہ اسے دوبارہ کرنی ہو گی جیسا کہ آئندہ احادیث میں اس کی وضاحت ہو گی۔
بغیر دانت نکالے بکری قربانی کے لائق نہیں ہوتی۔
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: قوله المسنة قال العلماءالمسنة ھی الثنیة من کل شيئ من الإبل والبقر والغنم فما فوقھا الخ۔
مسجد میں ہے کہ الثنیة جمعه ثنایا وھي أسنان مقدم الفم ثنتان من فوق وثنتان من أسفل۔
یعنی ثنیہ سامنے کے اوپر نیچے کے دانت کو کہتے ہیں۔
اس لحاظ سے حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ دانت والے جانوروں کی قربانی کرو اس سے لازم یہی نتیجہ نکلا کہ کھیرے کی قربانی نہ کرو اس لیے ایک روایت میں ہے: ینفی من الضحایا التي لم تسن۔
قربانی کے جانوروں میں سے وہ جانور نکال ڈالا جائے گا جس کے دانت نہ اگے ہوں گے۔
اگر مجبوری کی حالت میں مسنہ نہ ملے مشکل ودشوار ہو تو جذعۃ من الضان بھی کر سکتے ہیں جیسا کہ اسی حدیث کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا: إلاأن یعسر علیکم فتذبحوا جذعة من الضأن۔
لغات الحدیث میں لکھا ہے پانچویں برس میں جو اونٹ لگا ہواور دوسرے برس میں جو گائے بکری لگی ہو اور چوتھے برس میں جو گھوڑا لگا ہو۔
بعضوں نے کہا جو گائے تیسرے برس میں لگی ہو اور جو بھیڑ ایک برس کی ہو گئی جیسا کہ حدیث میں ہے۔
ضحینا من رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم بالجذع من الضأن والثني من المعز۔
ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برس کی بھیڑ اور دو برس کی (جو تیسرے میں لگی ہو)
بکری قربانی کی۔
اور تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ بکری ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکی ہو اور جذعہ اسے کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو گیا ہو۔
(1)
اس سے پہلی حدیث میں قبل از وقت ذبح کی گئی قربانی کو کھانے کا ذکر نہیں تھا جبکہ اس روایت میں اس سے ناشتہ کرنے کی صراحت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے صرف قربانی کے متعلق فرمایا کہ یہ غیر معتبر ہے، کیونکہ یہ قبل از وقت کی گئی ہے لیکن اسے تناول کرنے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔
اسی خاموشی سے امام بخاری ؒ نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ عید الاضحیٰ کے دن کھانے پینے کے متعلق کوئی پابندی نہیں ہے، اگرچہ حضرت ابو بردہ بن نیار ؓ سے یہ عمل محض عدم علم کی بنا پر ہوا لیکن آپ نے اسے برقرار رکھا، البتہ قابل اصلاح عمل کی اصلاح فرما دی کہ قربانی دوبارہ کی جائے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دین کسی کے پاکیزہ جذبات کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے منزل من اللہ ہونا ضروری ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ عنوان کا ثبوت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف قربانی دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا جو اس بات کے جائز ہونے کا ثبوت ہے کہ ذبح شدہ جانور کو پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔
لوگ عید سے پہلے کھانا جائز نہیں سمجھتے تھے، آپ نے نماز سے پہلے کھانے پر سکوت فرما کر گویا اس کے جواز کو برقرار رکھا۔
علامہ عینی ؒ نے امام بخاری ؒ کے استدلال کی بایں الفاظ وضاحت کی ہے کہ حضرت ابو بردہ بن نیار نے رسول اللہ ﷺ کے حضور عرض کیا کہ عید کا دن کھانے پینے کا دن ہے، نیز انہوں نے کہا کہ میں نے قبل از نماز ناشتہ بھی کر لیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل پر اسے کوئی ملامت نہیں فرمائی۔
اس سے پتہ چلا کہ نماز سے پہلے کھانا یا ناشتہ کرنا قابل ملامت نہیں ہے۔
(عمدة القاري: 188/5)
ھداھم اللہ آمین۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا وقت نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد ہے۔
اگر کوئی شخص غلطی سے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح کر لے تو دوسرا جانور میسر ہونے کی صورت میں اسے نماز عید کے بعد دوسرا جانور ذبح کرنا ہو گا، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے اپنی قربانی نماز عید سے پہلے ذبح کر لی، پھر انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ’’دوبارہ قربانی دو۔
‘‘ (مسند أحمد: 454/3)
لیکن افسوس ہے کہ اہل کوفہ کہتے ہیں کہ اگر کسی مقام پر نماز عید نہ پڑھی جاتی ہو وہاں سے اگر نماز فجر کے بعد قربانی ذبح کر کے لائی جائے تو جائز ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق ایسا حیلہ دین اسلام سے ٹکراتا ہے اور اس سے قربانی ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیدین کے موقع پر سب سے پہلے نماز ادا کی جائے پھر قربانی کی جائے، حالانکہ قربانی کا تعلق عیدالاضحیٰ سے ہے۔
اس کا جواب علامہ زین بن منیر ؒ نے بایں الفاظ دیا ہے کہ اس دن اصل کام تو نماز پڑھنا ہے اور خطبہ دینا، قربانی کرنا اور دیگر اذکار میں مصروف ہونا ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
نماز کی ادائیگی دونوں عیدوں میں قدر مشترک ہے، اس لیے باب دونوں عیدوں کے بارے میں باندھا۔
(فتح الباري: 575/2) (2)
امام بخاری ؒ نے نماز عید کا طریقہ نہیں بتایا۔
ممکن ہے کہ جن احادیث میں طریقہ بیان ہوا ہے وہ آپ کی شرائط کے مطابق نہ ہوں، چنانچہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے قولی اور عملی دونوں طریقے بیان ہوئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی جائیں اور قراءت ان تکبیرات کے بعد کی جائے، (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1151)
نیز حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔
(جامع الترمذي، العیدین، حدیث: 538)
نیز احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ کی قراءت کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 2028 (878)
بعض اوقات رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز میں ﴿ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ کی قراءت فرماتے تھے۔
(صحیح مسلم، صلاة العیدین، حدیث: 2059 (891)
ایک روایت میں ہے کہ ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک کلمہ کی مقدار کے برابر فاصلہ ہونا چاہیے۔
(مجمع الزوائد: 205/2)
لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
اس سے یہ نکلا کہ عید کی نماز صبح سویرے پڑھنا چاہیے کیونکہ جو کوئی دیر کر کے پڑھے گا اور وہ نماز سے پہلے دوسرے کام کرے گا تو پہلا کام اس کا اس دن نماز نہ ہوگا۔
یہ استنباط حضرت امام بخاری ؒ کی گہر ی بصیرت کی دلیل ہے۔
(رحمه اللہ)
اس صورت میں آپ نے خاص ان ہی ابو بردہ بن نیار نامی صحابی کے لیے جذعہ کی قربانی کی اجازت بخشی، ساتھ ہی یہ بھی فر مادیا کہ تیرے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہوگی۔
یہاں جذعہ سے ایک سال کی بکری مراد ہے لفظ جذعہ ایک سال کی بھیڑ بکری پر بولا جاتا ہے۔
حضرت علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں: الجذعة من الضأن ماله سنة تامة ھذا ھو الأشھر عن أھل اللغة وجمهور أھل العلم من غیر ھم۔
یعنی جذعہ وہ ہے جس کی عمر پر پورا ایک سال گزر چکا ہو۔
اہل سنت اور جمہور اہل علم سے یہی منقول ہے۔
بعض چھ اور آٹھ اور دس ماہ کی بکری پر بھی لفظ جذعہ بولتے ہیں۔
دیوبندی تراجم بخاری میں اس مقام پر جگہ جگہ جذعہ کا ترجمہ چار مہینے کی بکری کا کیا گیا ہے۔
تفہیم البخاری میں ایک جگہ نہیں بلکہ متعدد مقامات پر چار مہینے کی بکری لکھا ہوا موجود ہے۔
علامہ شوکانی کی تصریح بالا کے مطابق یہ غلط ہے۔
اسی لیے اہل حدیث تراجم بخاری میں ہر جگہ ایک سال کی بکری کے ساتھ ترجمہ کیا گیا ہے۔
لفظ جذعہ کا اطلاق مسلک حنفی میں بھی چھ ماہ کی بکری پر کیا گیاہے دیکھو تسہیل القاری، پ: 4 ص: 400 مگر چار ماہ کی بکری پر لفظ جذعہ یہ خود مسلک حنفی کے بھی خلاف ہے۔
قسطلانی شرح بخاری، ص: 117 مطبوعہ نول کشور میں ہے (جذعة من المعز ذات سنة)
یعنی جذعہ ایک سال کی بکری کو کہا جاتا ہے۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس دن کے آغاز میں صرف نماز کی تیاری ہو کسی اور چیز میں مصروف نہیں ہونا چاہیے۔
تیاری کے بعد نماز پڑھنے کے لیے جلدی روانہ ہونا چاہیے۔
یہ اہتمام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نماز عید کے لیے جلدی کی جائے۔
دوسری مصروفیات کی بنا پر اس میں تاخیر نہ کی جائے۔
(فتح الباري: 589/2) (2)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ نماز عید طلوع آفتاب سے پہلے نہیں پڑھی جا سکتی اور نہ عین طلوع کے وقت اسے پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کراہت کے اوقات ہیں۔
طلوع آفتاب کے بعد جب نوافل پڑھنے کا وقت ہوتا ہے تو نماز عید کے وقت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
شارح بخاری ابن بطال ؒ نے اس پر فقہاء کا اجماع نقل کیا ہے۔
(3)
نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ زوال آفتاب کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: ’’تمام لوگ کل صبح نماز عید پڑھنے کے لیے عیدگاہ پہنچیں۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1853)
اگر اس وقت نماز عید پڑھنے کی گنجائش ہوتی تو آپ اسے اگلے دن تک مؤخر نہ کرتے۔
اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے۔
نماز عید کے متعلق صحابہ و تابعین کا طرز عمل حسب ذیل ہے: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نماز فجر پڑھتے، پھر اسی حالت میں عیدگاہ چلے جاتے۔
حضرت سعید بن مسیب کا بھی یہی طرز عمل تھا۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ اپنے بیٹوں سمیت کپڑے وغیرہ پہن کر تیاری کر کے مسجد کی طرف چلے جاتے، نماز فجر پڑھ کر وہیں بیٹھے رہتے، جب آفتاب طلوع ہو جاتا تو چاشت کے دو نفل پڑھ کر عیدگاہ چلے جاتے۔
حضرت عروہ بن زبیر دن چڑھے عیدگاہ جاتے۔
حضرت امام مالک ؒ بھی عید پڑھنے کے لیے اپنے گھر سے دن چڑھے روانہ ہوتے تھے۔
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ جب سورج خوب روشن ہو جائے تو عیدگاہ جانا چاہیے، البتہ عیدالاضحیٰ اس سے کچھ وقت پہلے پڑھ لی جائے۔
(عمدة القاري: 182/5)
نماز عید کے متعلق ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج دو نیزوں کے برابر بلند ہو جاتا اور نماز عیدالاضحیٰ اس وقت پڑھتے جب سورج ایک نیزے کے برابر ہو جاتا۔
(التلخیص الحبیر: 172/2، رقم: 685)
لیکن اس کی سند میں معلیٰ بن ہلال نامی راوی کذاب ہے، اس لیے یہ روایت قابل حجت نہیں۔
(تمام المنة، ص: 347) (4)
ان روایات و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عید پڑھنے کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے اور وہ چاشت کا وقت ہے اور چاشت کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے پر ہو جاتا ہے، اس میں بلاوجہ تاخیر درست نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس تاخیر کا انکار کرتے تھے۔
عیدالاضحیٰ کے دن چونکہ قربانی کرنی ہوتی ہے، اس لیے اسے کچھ وقت پہلے پڑھنے میں چنداں حرج نہیں۔
آج کل چونکہ گھڑیوں کا دور ہے، اس لیے ہمیں دور حاضر کے مطابق گھڑیوں کا حساب لگانا ہو گا۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صبح کی اذان پانچ بجے ہو تو ساڑھے چھ بجے سورج طلوع ہو گا۔
چاشت کا وقت طلوع آفتاب کے تقریبا نصف گھنٹے بعد شروع ہو جاتا ہے۔
ضرورت کے پیش نظر اس میں چند منٹ تک مزید تاخیر کی جا سکتی ہے، اس لیے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کی تصریحات کے مطابق نماز عید کا وقت چاشت کے وقت ہوتا ہے، اس لیے جہاں پانچ بجے اذان فجر ہو گی وہاں نماز عید کا وقت سات، ساڑھے سات بجے شروع ہو جائے گا۔
ہمیں چاہیے کہ اس کی تیاری پہلے سے کر رکھیں۔
اگر طلوع آفتاب کے بعد تیاری کا آغاز کیا تو نماز عید کے لیے وقت فضیلت نہیں مل سکے گا، البتہ جواز کا وقت زوال آفتاب تک ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ ہدایات نماز سے قبل ارشاد فرمائیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نماز سے پہلے خطبہ دیا ہو گا، چنانچہ بقول ابن بطال امام نسائی ؒ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: (صلاة العيدين قبل الخطبة)
’’نماز سے پہلے خطبہ دینا‘‘ حالانکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے کیونکہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ دیتے ہوئے مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ عید کے دن پہلا کام نماز ادا کرنا ہے۔
عرب کے ہاں یہ اسلوب عام ہے کہ ماضی کی جگہ فعل مستقبل کو استعمال کر لیتے ہیں۔
اس موقف کی تائید ایک روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحیٰ کے دن بقیع (عیدگاہ)
کی طرف گئے، دو رکعت نماز عید ادا کی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس دن ہماری پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر گھر لوٹ کر قربانی کریں۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 976)
اس روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ الفاظ خطبے میں ارشاد فرمائے تھے۔
(2)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدالاضحیٰ کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیا کہ جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے جیسی قربانی کرے تو اس کا فریضہ پورا ہو گیا۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 955)
ان حقائق کی روشنی میں اس حدیث سے تقدیم خطبہ کا مسئلہ کشید کرنا محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 585/2)
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے۔
(1)
’’پھر ہماری طرف منہ کر کے کھڑے ہوئے‘‘ ان الفاظ سے امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان ثابت ہوتا ہے۔
(2)
ایک روایت میں ہے کہ نماز کے بعد لوگ صفوں میں بیٹھے رہتے اور رسول اللہ ﷺ ان کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 956)
ابن حبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جہاں نماز پڑھتے وہیں لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔
(فتح الباري: 579/2)
حافظ نے کہا کہ امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ لفظ سنت یہاں طریق کے معنی میں ہے مگر طریق واجب اور سنت دونوں کو شامل ہے۔
جب وجوب کی کوئی دلیل نہیں تو معلوم ہوا کہ طریق سے سنت اصطلاحی مراد ہے، وھو المطلوب۔
(1)
قربانی کی مشروعیت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے لیکن اسے واجب قرار دینا محل نظر ہے۔
(2)
اس حدیث میں سنت سے مراد اصطلاحی سنت نہیں جو واجب کے مقابلے میں ہوتی ہے بلکہ یہ طریقہ کے معنی میں ہے جو سنت اور واجب دونوں کو شامل ہے۔
جب وجوب کی کوئی دلیل نہیں تو معلوم ہوا کہ سنت سے مراد سنت فقہی ہے۔
بعض حضرات نے اس لفظ سے وجوب پر استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن یہ حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ مشروع قربانی کی شرط بیان کرنے کے لیے ہے کہ اسے نماز کے بعد ذبح کرو جیسا کہ اگر کوئی شخص سورج طلوع ہونے سے پہلے چاشت کی نماز پڑھ لے تو اسے کہا جائے گا کہ جب سورج طلوع ہو تو اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرو۔
(فتح الباري: 6/10)
واللہ أعلم
(1)
اللحم فيه مكروه: یعنی اس دن کسی سے گوشت مانگنا ناپسندیدہ ہے یا یہ ایسا دن ہے، جس میں گوشت بکثرت ہوتا ہے، اس لیے کوئی اس کا خواہش مند نہیں ہوتا، اس لیے میں نے سب سے پہلے قربانی کردی ہے، تاکہ عام قربانیوں کا گوشت ہونے سے پہلے پہلے، جبکہ اس کی طلب اور خواہش موجود ہے، اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلادوں اور بعض نسخوں میں مقروم ہے، وہ عام روایات يشتهي فيه اللحم (اس میں گوشت کی صبح صبح یعنی ابتدا میں طلب اور خواہش ہوتی ہے)
کے مطابق ہے، کیونکہ قرم گوشت کی خواہش کو کہتے ہیں۔
(2)
عناق لبن: دودھ پیتی بکری، جو بقول زہری ایک سال کی ہو اور بقول ابن اثیرایک سال سے کم ہو، لیکن خوب موٹی تازی ہونے کی وجہ سے گوشت کے لیے کی گئی، دو بکریوں سے بہتر ہے۔
مسنة: دودانتا، جس کے دودانت گر چکے ہوں اور بقول احناف ایک سال کا۔
قد نسكت عن ابن لي: یعنی میں نے اپنے گھر والوں کی طرف سے یا ان کے کھانے کے لیے ذبح کرلی ہے۔
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ” جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے۔“ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں (زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: ” پھر دوسری قربانی کرو “، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1508]
وضاحت:
1؎:
ان کا نام ابوبردہ بن نیار تھا۔
2؎:
یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے کیوں کہ تمہارے لیے اس وقت مجبوری ہے ورنہ قربانی میں مسنہ (دانتایعنی دودانت والا) ہی جائز ہے، بکری کا جذعہ وہ ہے جو سال پورا کرکے دوسرے سال میں قدم رکھ چکا ہواس کی بھی قربانی صرف ابوبردہ کے لیے جائز کی گئی تھی، اس حدیث سے معلوم ہواکہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا صحیح وقت صلاۃ عید کے بعد ہے، اگر کسی نے صلاۃ عید کی ادائیگی سے پہلے ہی جانور ذبح کردیا تو اس کی قربانی نہیں ہوئی، اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیے۔
3؎:
بھیڑ کے جذعہ (چھ ماہ) کی قربانی عام مسلمانوں کے لیے دانتا میسر نہ ہونے کی صورت میں جائز ہے، جب کہ بکری کے جذعہ (ایک سالہ) کی قربانی صرف ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے جائز کی گئی تھی۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی “، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2801]
مذکورہ بالا احادیث 2798 اور 2799 کو اسی پر محمول کرنا راحج ہے۔
کہ بھیڑ کا ایک سالہ جانور جو دو دانتا نہ ہو جائزہے۔
مگر بکری کی قسم سے جائز نہیں۔
جیسا کہ تفصیل میں گزر چکا ہے۔
دیکھئے (فوائد ومسائل حدیث 2797)
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: ” جس نے ہماری (طرح) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے (خود) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تو گوشت کی بکری ہوئی “ (اب قربانی کے طور پر دوسری کرو) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے (بھی) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1582]
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: ” اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے “، ابوبردہ ابن نیار (نماز سے پہلے ہی) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1564]
➋ حدیث میں جذعہ سے مراد بکرے کا جذع ہے۔ بھیڑ کا جذع عموماً ایک سال کا ہوتا ہے، جمہور کی یہی رائے ہے۔ بعض نے چھ ماہ کے بھیڑ کے بچے کو بھی جذعہ کہا ہے مگر جمہور کی رائے کے مقابلے میں یہ موقف مرجوح ہے۔ واللہ اعلم۔ اس مسئلے کی تفصیل کے لیے اسی کتاب کی کتاب الضحایا کو دیکھیے۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا: ” جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے قربانی میں جلدی کر دی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دوبارہ قربانی کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4399]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ احکام و مسائل میں مرجع صرف نبی ﷺ کی ذات مبارکہ ہے یہ حیثیت آپ ہی کی ہے کہ افراد امت میں سے کسی کو، کسی حکم کے ذریعے سے خاص کر دیں اور دوسرے لو گوں کو روک دیں جیسا کہ آپ نے حضرت براء بن عازب کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار کے ساتھ کیا۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ نماز عید کی ادائیگی سے پہلے قربانی کرنا قطعی طور پر ناجائز ہے، خواہ نیت نیکی اور ثوا ب کمانے ہی کی ہو جیسا کہ حضرت ابو بردہ ؓ کی نیت اپنے اہل و عیال اور محلے دار (غریب) ہمسایوں کو گوشت کھلانے کی تھی۔
(4) حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ امام کو چاہیے خطبہ عید میں قربانی سے متعلق احکام و مسائل بیان کرے۔
(5) یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ شارع ؑ کا ایک شخص کو خطاب تمام لوگوں کے لیے خطاب ہو تا ہے،لہٰذا دیگر لوگ بھی اس حکم کے مکلف اور پابند ہوتے ہیں حضرت ابو بردہ ؓ کو بکری کا بچہ ذبح کرنے کی اجازت دی تو ساتھ ہی یہ بھی بیا ن فرما دیا کہ تیرے بعد اورکسی کے لیے، قربانی میں، اس عمر کا بکری کا بچہ کفایت نہیں کرے گا۔ اگر نبی ﷺ یہ الفاظ نہ فرماتے تو پھر ہرشخص کے لیے یہ اجازت ہوتی۔
(6) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک نیتی سے کیا جانے والا صالح عمل بھی اس وقت تک اللہ کے ہاں صحیح اور قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک وہ شریعت مطہرہ کے مطابق سرانجام نہ د یا جائے۔
(7) اس حدیث میں یہ ذکر تو نہیں کہ امام سے پہلے قربانی نہیں کرنی چاہیے لیکن چونکہ اس دور میں نبی ﷺ نماز عید کے بعد سب لو گوں کے سامنے وہیں قر بانی کردیتے تھے۔ باقی لوگ بعد میں کرتے تھے، لہٰذ ا کہا جا سکتا ہے کہ امام کے بعد قربانی کرنی چاہیے لیکن اگر امام قربانی نہ کرے یا وہ عید گاہ میں خطبہ کے فورا بعد نہ کرے تو لوگوں پر کوئی ایسی پابندی نہیں کہ وہ لازما امام صاحب سے بعد ہی کریں، البتہ نماز عید سے پہلے قطعا نہیں ہونی چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ تو ایسے امام کی امامت عید ہی درست نہیں سمجھتے جو قربانی نہ کرے، نیز ان کے نزدیک امام کو قربانی عید گاہ میں سب سے پہلے کرنی چاہیے۔ خیر امام مالک رحمہ اللہ کی رائے اور اجتہاد ہے جس سے اتفاق ضروری نہیں۔
(8) ”اچھی قربانی ہوگی“ کیونکہ وہ بروقت ہوئی اور قبول ہوئی، بخلاف پہلی قربانی کے کہ وہ وقت سے پہلے ذبح ہونےکی وجہ سے قبولیت سے محرومی رہی۔
(9) ”کفایت نہیں کرے گا“ رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مقصود یہ تھا کہ تیرے جیسا لا چار شخص بھی مثلا: جو غلطی سے قربانی بے وقت ذبح کر چکا ہو یا اس کی قربانی کا جانور مر گیا ہو، یا گم ہو گیا ہو اور وہ مزید خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو بکری کا جذعہ ذبح نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ظاہر کا خیا ل رکھتے ہوئے اب کسی کو بھی، خواہ وہ معذور و مجبور ہی ہو، جذعہ (بکرا) قربان کرنے کی اجازت نہیں دی۔ واللہ أعلم