صحيح مسلم
كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان— شکار کرنے، ذبح کیے جانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے
باب النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ: باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے۔
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَفَرٍ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَتَرَامَوْنَهَا ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا " .حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کچھ لوگوں کے پاس گزرے، انہوں نے ایک مرغی گاڑ کر اپنے تیروں کا نشانہ بنایا ہوا تھا، (اس پر تیر اندازی کر رہے تھے) تو جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا تو اس سے منتشر ہو گئے، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے پوچھا، یہ حرکت کس نے کی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَر بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ لَعَنِ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .ہشیم نے کہا: ہمیں ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: (ایک بار) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قریش کے چند جوان کے قریب سے گزرے جو ایک پرندے کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے اور انہوں نے پرندے والے سے ہر چوکنے والے نشانے کے عوض کچھ دینے کا طے کیا ہوا تھا۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کام کس کا ہے؟ جو شخص اس طرح کرے اللہ کی اس پر لعنت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو کسی ذی روح کو تختہء مشق بنائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اللہ تعالیٰ خود رحم کرنے والا ہے اور دوسروں کو رحم کرنے کا حکم دیتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو، چنانچہ ذبح کرنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 5055 (1955) (2)
کسی بھی جانور کو باندھ کر مارنا اسے اذیت پہنچانا ہے جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔