حدیث نمبر: 1949
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ، وَقَالَ : " لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لائی گئی، تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا، شاید یہ ان نسلوں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1949
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1472

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لائی گئی، تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ’’میں نہیں جانتا، شاید یہ ان نسلوں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5041]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کے مضمون سے یہ ثابت ہوتا ہے، آپ نے یہ بات آغاز میں فرمائی تھی، جب کہ آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مسخ کردہ لوگوں کی نسل نہیں چلتی، جب آپ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا، تو آپ نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1949 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1472 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا ۱؎، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1472]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس شرط کے ساتھ کہ پتھر نوکیلا ہو اور اس سے خون بہہ جائے ’’ما أنهر الدم' کا یہی مفہوم ہے کہ جس سے خون بہہ جائے اسے کھاؤ۔

2؎:
علماء کی یہ رائے درست ہے، کیوں کہ باب کی حدیث سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

3؎:
یعنی شعبی نے محمد بن صفوان اور جابر بن عبداللہ دونوں سے روایت کی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1472 سے ماخوذ ہے۔