حدیث نمبر: 1946
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ جميعا ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ : أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " ، قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي .

یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جنہیں سیف اللہ کہا جاتا ہے، انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے وہ ان (حضرت خالد) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں۔ انہوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، ایسا کم ہوتا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتایا جاتا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جاتا۔ (اس روز) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو وہاں موجود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انہیں کیا پیش کیا ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اللہ! یہ سانڈا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتا، میں خود کو اس سے کراہت کرتے ہوئے پاتا ہوں۔“ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اس کو (اپنی طرف) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فرمایا۔

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ أَبُو بَكْر ٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِث وَهِيَ خَالَتُهُ ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا .

صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوامامہ بن سہل سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، وہ ان کی خالہ تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گوشت پیش کیا گیا، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کوئی چیز تناول نہ فرماتے تھے۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے۔ پھر انہوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا اور انہیں (یزید) ابن اصم نے (بھی) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے (یہی) حدیث سنائی، انہوں نے ان (میمونہ رضی اللہ عنہا) کے ہاں پرورش پائی۔ (ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1946
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید جن کو سیف اللہ کا لقب دیا جاتا ہے، نے مجھے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا جو حضرت خالد اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خالہ ہیں، کے پاس گیا، تو آپ نے ان کے ہاں بھنی ہوئی ضب پائی، جو ان کی ہمشیرہ حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا نجد سے لائی تھی، تو انہوں نے ضب رسول اللہ صلی اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5035]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان جس علاقہ میں رہتا ہے، اس علاقہ کی خوراک کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے انسیت محسوس کرتا ہے، اگر اسے دوسرے علاقہ کی خوراک پیش کی جائے، جس سے اس کو کبھی پہلے واسطہ نہ پڑا ہو تو وہ اس سے کراہت محسوس کرتا ہے اور اس کی طبیعت اس کے کھانے پر آمادہ نہیں ہوتی، اس لیے اگر کسی کو نئی چیز پیش کی جائے، تو اس کو اس سے آگاہ کر دینا چاہیے اور جو کسی چیز سے نفرت محسوس کرتا ہو اس کو وہ چیز چپکے سے نہیں کھلانی چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1946 سے ماخوذ ہے۔