صحيح مسلم
كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان— شکار کرنے، ذبح کیے جانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے
باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ: باب: گھوڑوں کا گوشت حلال ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ " .محمد بن علی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت عطا کی۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ ، " وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ " .محمد بن بکر نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں (گورخر زبیرا) اور گھوڑوں کا گوشت کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا۔
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ سے ابن جریج ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
‘‘ (شرح صحیح مسلم، ج 6، ص 105)
۔
اس سے پہلے لکھا ہے، قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں گھوڑے کا گوشت کھانا بلا کراہت جائز ہے، وجہ استدلال یہ ہے کہ گھوڑا پاک اور طیب جانور ہے، اس بنا پر فقہائے احناف نے بھی گھوڑے کا جوٹھا پاک قرار دیا ہے، (ص 104، ج 6)
۔
علامہ تقی نے لکھا ہے، امام ابوحنیفہ نے گھوڑے کو اس کے احترام اور آلات جہاد میں سے ہونے کے باعث مکروہ قرار دیا ہے، (تکملہ ج 3، ص 529)
۔
اور اب صورتحال یہ ہے کہ جدید اسلحہ کے سبب اب اس کو مرکزی اہمیت حاصل نہیں ہے، اس لیے یہ سبب اگر اس کو سبب مان لیا جائے تو ختم ہو چکا ہے، کہ بقول امام حصفکی امام صاحب نے اپنی موت سے تین دن قبل، حرمت کے قول سے رجوع کر لیا تھا۔
(تکملہ ج 3 ص 525۔
درمختار علی حاشیہ رد المختار ج 5 ص 265)
۔
1۔
حضرت جابر ؓ کی روایت میں گدھوں سے مراد گھریلو اور پالتو گدھے ہیں۔
یہ حرمت قطعی اور ہمیشہ کے لیے ہے، البتہ جنگلی گدھا اس حدیث میں شامل نہیں ہے جسے حمار وحشی(گورخر)
کہا جاتا ہے۔
وہ نہایت چست وچالاک ہوتا ہے اور نجاست بھی نہیں کھاتا، اس لیے اس کا کھانا اب بھی جائز ہے اور اسکی حلت پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
2۔
اس حدیث میں گھوڑے کی حلت کا ذکر ہے، بلاشبہ گھوڑا ایک حلال جانور ہے۔
اس واضح نص کے باوجود بھی کچھ فقہاء نے اسے حرام قراردیا ہے۔
حضرت اسماء ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے عہدمبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا تھا۔
(شرح صحیح مسلم للنووي: 255/9، 259)
بہرحال گھوڑا حلال ہے، اگر کسی کا دل نہ چاہے تو نہ کھائے لیکن اس کی حرمت کا فتوی جاری نہ کرے۔
اس کی تفصیل ہم آئندہ کتاب الاطعمہ میں بیان کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت کی تھی۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی روایت میں ہے «أذن» کے بجائے «رخص» کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1136»
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة خيبر، حديث:4219، ومسلم، الصيد والذبائح، باب إباحة أكل لحم الخيل، حديث:1941.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیبر کے روز گھریلو گدھوں کا گوشت کھانا حرام قرار دیا گیا۔
اس سے پہلے اس کی اجازت تھی۔
تو گویا احکام بتدریج نافذ کیے گئے ہیں۔
2. حرام کیے جانے کی وجہ جیسا کہ بخاری میں بھی آیا ہے کہ یہ ناپاک و پلید حیوان ہے۔
جمہور علماء‘ صحابہ و تابعین وغیرہ اسی طرف گئے ہیں۔
3. یہ بھی معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے۔
4. رخصت اور اذن کا لفظ غالباً اس لیے فرمایا کہ گھوڑوں کی کمی کی وجہ سے تنزیہی طور پر ممنوع قرار دیا تھا‘ پھر رخصت دے دی۔
زیدبن علی‘ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کے شاگردان رشید ابویوسف اور محمد اور امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور سلف و خلف رحمہم اللہ کے سب علماء اس کی حلت کے قائل ہیں لیکن امام مالک اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حرام ہے۔
مگر یہ اور اسی موضوع کی دوسری احادیث صریحاً ان کے خلاف ہیں۔