حدیث نمبر: 1937
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَقَالَ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنْ الْمَدِينَةِ ، فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا ؟ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا ، فَقُلْنَا : حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ " .

علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمیں ان لوگوں (یہودیوں) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے۔ ہم نے ان کو ذبح کر لیا، ہماری ہانڈیاں (ان کے پکتے ہوئے گوشت سے) ابل رہی تھیں کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا: ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ۔ میں نے پوچھا: آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا (قطعی یا غیر قطعی؟) انہوں نے کہا: (اس حوالے) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہم (باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے (انہیں ہمیشہ کے لیے) حرام کیا تھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے (خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)۔

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَر ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَر وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَانْتَحَرْنَاهَا ، فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا " ، قَالَ : فَقَالَ نَاسٌ : إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ، وَقَالَ آخَرُونَ : نَهَى عَنْهَا أَلْبَتَّةَ .

عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کا شکار ہو گئے۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کر دیا کہ ہانڈیاں الٹ دو، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ۔ اس وقت بعض لوگوں (صحابہ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر حرام کیا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1937
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
شیبانی بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے گھریلو گدھوں کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا؟ انہوں نے بتایا، ہمیں خیبر کے دن بھوک لگی، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم نے یہودیوں کے شہر سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ کر ذبح کر لیے، جن سے ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں، مگر اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کر دیا، ہانڈیوں کو الٹ دو اور گدھوں کا گوشت بالکل نہ کھاؤ، میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5010]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے قطعی طور پر ہمیشہ کے لیے منع فرمایا، لیکن اس کا پس منظر کیا تھا، اس کے بارے میں صحابہ کرام کی آراء مختلف ہیں اور اپنے اپنے اجتہاد پر مبنی ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1937 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3155 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3155. حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہمیں خیبر کی راتوں میں فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو گھریلو گدھے بھی (بطورغنیمت) ملے، چنانچہ ہم نے انھیں ذبح کرکے پکانا شروع کردیا۔ جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ ﷺ کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گدھوں کے گوشت سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے کہا کہ ہمارےخیال کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس لیے منع فرمایا کہ ان سے ابھی خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ نبی کریم ﷺ نے قطعی طور پر گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نےسعید بن جبیر سے پوچھا تو انھوں نے کہا: آپ ﷺ نے قطعی طور پر اسے حرام کردیاتھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3155]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مجاہدین کو مال غنیمت سے بقدر ضرورت کھانے پینے کی اجازت ہے البتہ گدھوں کے گوشت سے تو ان کی حرمت کی وجہ سے منع فرمایا۔
اس لیے نہیں کہ گوشت کے لیے قبل از وقت اجازت نہیں لی گئی تھی۔

راوی نے حضرت سعید بن جبیر ؓسے اس لیے پوچھا کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاص شاگرد تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گدھے کے گوشت کی حلت مروی ہے لیکن سعید بن جبیر ؓ کو دیگرصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کی حرمت کے متعلق تحقیق ہو گئی تھی اس لیے انھوں نے یقین کے ساتھ اس کی حرمت کا فتوی دیا۔
اب اس کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں بلکہ تمام اہل علم اس کی تحریم پر متفق ہیں۔

جن اشیاء کا تعلق غذا سے ہے یا جو چیزیں عادت کے طور پر غذا کا فائدہ دیتی ہیں۔
اسی طرح جانوروں کا گھاس اور چاره وغیرہ ان تمام اشیاء کا تقسیم سے پہلے امام وقت کی اجازت کے بغیر لینا جائز ہے جبکہ مقصود ذخیرہ اندوزیاور مالیت بنانا نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3155 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4344 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن ہم نے گاؤں سے باہر کچھ گدھے پکڑ کر پکائے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم لوگ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4344]
اردو حاشہ: (1) گھریلو گدھے حرام ہیں، نیز معلوم ہوا کہ جس جانور یا پرندے کا گوشت کھانا حرام ہے، اس جانور یا پرندے پر اللہ کا نام لے کر بھی ذبح کیا جائے تب بھی وہ حرام ہی رہتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو گدھوں کا گوشت پکانا شروع کیا ہوا تھا، انھیں اللہ کے نام پر ہی ذبح کیا گیا تھا۔
(2) اگر کوئی پلید چیز، کسی پاک چیز کے ساتھ لگ جائے تو اس کی نجاست صرف ایک بار دھونے سے زائل ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر شریعت ایک سے زیادہ بار دھونے کا مطالبہ کرے تو، پھر شریعت مطہرہ کا تقاضا پورا کرنا ضروری ہوگا۔
(3) اشیاء میں اصل اباحت (حلال اور جائز ہونا) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بلا تامل گدھے ذبح کر کے ان کا گوشت پکانا شروع کر دیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ بھی ان میں موجود تھے لیکن انھوں نے اس سلسلے میں آپ سے کوئی بات کی نہ مشورہ ہی لیا کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہی بات راسخ تھی کہ چیزیں دراصل حلال ہی ہوتی ہیں، البتہ حرمت کی دلیل ہوا کرتی ہے۔
(4) امیر، مسئول اور ذمہ دار شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت اور مامورین کے حالات معلوم کرے، ان کے مسائل اور ان کی مشکلات حل کرے۔ مزید برآں یہ کہ اگر ان میں کوئی غیر رعی معاملہ دیکھے تو خود اس کی اصلاح کرے یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے اس کی اصلاح کرائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ غیر شرعی معاملہ پر خاموشی کو لوگ جائز سمجھنا شروع کر دیں اور اس طرح ایک ناجائز کام محض غفلت سے جائز قرار پائے۔
(5) ہم نے الٹا دیں یعنی ہم نے وہ گوشت باہر پھینک دیا اور ضائع کر دیا۔ اس سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ گدھے بذات خود حرام نہیں مگر چونکہ لوگوں نے آپ کی اجازت اور تقسیم کے بغیر گدھے ذبح کر لیے تھے جبکہ ان میں سے خمس بھی نہیں دیا گیا تھا، اس لیے آپ نے بطور سزا ہانڈیاں الٹانے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اگر یہ بات ہوتی تو گوشت ضائع نہ کیا جاتا بلکہ اسے بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا۔ حلال چیز کو ضائع کرنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4344 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3192 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نیل گائے کے گوشت کا حکم۔`
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق (سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3192]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  گدھے کا گوشت حرام ہے۔

(2)
خیبر میں ان سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو اس حدیث میں مذکور ہے، تاہم اگلی حدیث میں اشارہ ہے کہ یہ حرمت وقتی نہیں، قطعی ہے۔

(3)
اگر غلطی سے حرام گوشت پکا لیا جائے تو معلوم ہونے پر اسے ضائع کردینا چاہیے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3192 سے ماخوذ ہے۔