مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب تم اپنا تیر (شکار پر) پھینکو اور شکار تم سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اس کو پا لو، تو اسے کھا لو، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہو۔‘‘

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .

معن بن عیسیٰ نے کہا: مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے، روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو۔“ (سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا۔)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ ، وَقَالَ فِي الْكَلْبِ : كُلْهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ .

محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابوثعلبہ بن خشنی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی، پھر ابن حاتم رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر اور ابوزاہریہ سے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اور کتے (کے شکار) کے بارے میں فرمایا: ”تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو، لیکن اگر اس سے بدبو آئے تو اس کو چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1931
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم اپنا تیر (شکار پر) پھینکو اور شکار تم سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اس کو پا لو، تو اسے کھا لو، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4985]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بدبودار چیز کھانا جب تک وہ نقصان کا باعث نہ ہو، محض طبی طور پر ناپسندیدہ ہونے کی بنا پر مکروہ تنزیہی ہے، اگر نقصان کی حد تک پہنچ جائے تو پھر جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1931 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1464 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟`
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ (شکار کے احکام بتائیے؟) آپ نے فرمایا: جب تم (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟) آپ نے فرمایا: تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ ، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1464]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر دوسرے برتن موجود ہوں تو یہود ونصاریٰ کے برتن دھولینے کے بعد بھی استعمال میں نہ لائے جائیں۔
(واللہ اعلم)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1464 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2861 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟`
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2861]
فوائد ومسائل:
حسب طلب وضرورت شکار کرنا اوراس کی تلاش میں جانا کوئی معیوب نہیں، معیوب یہ ہے کہ انسان اپنے دیگر دینی ودنیاوی فرائض سے غافل ہوجائے۔


کھانے پینے کی چیزوں کا ذائقہ اور بو اس انداز سے بگڑ جائے کہ نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔
تو استعمال نہیں کرنی چاہیں۔
ہاں اگر کوئی ضرر واضح نہ ہو تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2861 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2856 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شکار کرنے کا بیان۔`
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ۔‏‏‏‏ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2856]
فوائد ومسائل:
چونکہ کتا چھوڑتے ہوئے یا تیرکمان سے پھینکتے ہوئے بسم اللہ پڑھی جاتی ہے۔
تو جو اس طرح سے مر بھی جائے وہ حلال ہے۔
زندہ ملے تو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرلے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2856 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2855 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شکار کرنے کا بیان۔`
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو (یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2855]
فوائد ومسائل:
بن سدھائے ہوئے کتے کا مارا ہوا حلال نہیں۔
خواہ کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔
ہاں اگر اس کو ذبح کرنے کا موقع مل گیا تو ذبح کے بعد اس کا کھانا جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2855 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2852 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شکار کرنے کا بیان۔`
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے ۱؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2852]
فوائد ومسائل:
اصل مسئلہ وہی ہے۔
جو پیچھے کی صحیح احادیث میں گزرا ہے۔
کہ اگر کتے نے شکار میں سے کھایا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔
اس لئے بعض علماء نے اس حدیث کو منکر (صحیح احادیث کے خلاف) قرار دیا ہے۔
اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔
اور بعض حضرات اس حدیث کی وجہ سےشکا ر کے کتے کے کھانے کے باوجود اس کی حلت کے قائل ہیں۔
اور بعض نے اس کی یہ تاویل کی ہے۔
کہ شکاری کتے نے پہلے شکار کو پکڑ کر مار ڈالا پھر اس کو مالک کےلئے رکھ چھوڑا اور وہاں سے دور چلا گیا۔
پھر دوباہ واپس آکر کچھ کھا لے تو اس طرح اس کا کھا لینا مضر نہیں۔
مالک کے لئے اس شکار کا کھانا جائز ہے۔
کیونکہ اس نے پہلے تو مالک ہی کےلئے شکار کیا۔
اور اسی کے لئے اسے روکے رکھا اور کھایا اس نے بعد میں ہے اس لئے اس کھانے کا اعتبار نہیں ہوگا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2852 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔