صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا“۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ " ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَهُمْ كَذَلِكَ . .سعید بن منصور، ابوربیع عتکی اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم رہتے ہوئے) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دستکش ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے۔“ قتیبہ کی حدیث میں: ”وہ اسی طرح ہوں گے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ظاهرين علي الحق: وہ حق پرقائم رہیں گے، یاحق کی بنا پر دوسروں پر غالب رہیں گے، بعض دفعہ قوت وطاقت اور بعض دفعہ دلیل وبراہین سے۔
(2)
خذلهم: ان کی مددوحمایت نہیں کرےگا، ان کی مخالفت کرے گا۔
(3)
حتي ياتي امرالله: یہاں تک کہ اللہ کہ حکم سے ہوا چلے گی جو ہرمومن کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ ہی زندہ بچیں گے اور یہ قیامت کے وقوع کے قریب چلے گی، اس لیے بعض روایتوں میں حتي تقوم الساعة، یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
فوائد ومسائل: ظاهرين علی الحق گروہ سے مراد، اہل علم اور محدثین اور مجاہدین کا گروہ ہے، اہل حدیث دین کا علمی دفاع کرتے رہتے ہیں اور مجاہدین عملی طور پر قوت و طاقت اور جہاد کے ذریعہ دفاع کرتے ہیں، اس لیے جو اہل علم اور مجاہدین اللہ کے دین کے لیے سینہ سپر ہیں، وہ علمی اور عملی جہاد کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے، وہی اس کا مصداق ہوں گے۔
اس نے امام احمد، یزید بن ہارون اور امام بخاری کے نزدیک اس سے مراد، اہل الحدیث اور اصحاب الحدیث ہیں۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں “ ۱؎، نیز فرمایا: ” میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2229]
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی:) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 10]
حدیث نمبر 6 اور 9 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔