صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب ذَمِّ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ: باب: جو شخص مر جائے بغیر جہاد کے بغیر نیت جہاد کے اس کی مذمت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ " ، قَالَ ابْنُ سَهْمٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم انطاکی نے کہا: ہمیں عبداللہ بن مبارک نے وہیب مکی سے خبر دی، انہوں نے عمر بن محمد بن منکدر سے، انہوں نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔“ ابن سہم نے کہا: عبداللہ بن مبارک کا قول ہے: ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ (حکم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا (جب جہاد کی سنگین ضرورت تھی۔ بہت بڑے ممالک اسلام میں داخل ہونے اور دشمنوں سے مامون ہو جانے کے بعد اب ہر کسی کی جہاد میں شمولیت کی اتنی شدید ضرورت نہیں رہی۔)
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3099]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2502]
مخلص مسلمان ہر حال میں اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ چاہتا ہے۔
اوراس کے لئے کوشاں رہتا ہے۔
جہاد کا شائق اور جہادی عمل کا موئد اور معاون ہوتا ہے۔
اگر کسی میں ایسی کوئی کیفیت نہیں تو وہ نام ہی کا مسلمان ہے۔
اور ایسے جذبات سے محرومی نفاق کا ایک حصہ اور بہت بڑی بد بختی ہے۔