حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ " ، قَالَ ابْنُ سَهْمٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم انطاکی نے کہا: ہمیں عبداللہ بن مبارک نے وہیب مکی سے خبر دی، انہوں نے عمر بن محمد بن منکدر سے، انہوں نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔“ ابن سہم نے کہا: عبداللہ بن مبارک کا قول ہے: ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ (حکم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا (جب جہاد کی سنگین ضرورت تھی۔ بہت بڑے ممالک اسلام میں داخل ہونے اور دشمنوں سے مامون ہو جانے کے بعد اب ہر کسی کی جہاد میں شمولیت کی اتنی شدید ضرورت نہیں رہی۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1910
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3099 | سنن ابي داود: 2502

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اس حال میں فوت ہوا کہ نہ اس نے جنگ کی اور نہ اس نے اپنے دل سے اس کی بات کی تو وہ ایک قسم کے نفاق پر مرا‘‘ ابن سہم کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک نے کہا، ہمارے خیال میں اس کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ساتھ ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4931]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نفاق کی دو صورتیں ہیں، نفاق اعتقادی اور نفاق عملی، جو انسان جہاد میں حصہ نہیں لیتا اور نہ اس کے دل میں کبھی اس کی خواہش پیدا ہوئی، تو وہ منافقوں والا رویہ اختیار کرتا ہے، جو حیلوں بہانوں سے پیچھے رہ جاتے تھے اور اس کا تعلق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے نہیں ہے، ہر دور میں یہ بات ہے، آپ کے دور کے ساتھ خاص نفاق اعتقادی ہے، نفاق عملی ہر دور میں رہا ہے اور آج بھی موجود ہے، بلکہ بکثرت موجود ہے، اس لیے ہر مسلمان کے دل میں حقیقی جہاد کے لیے آرزو اور تڑپ ہونی چاہیے اور جہاد کلمۃ اللہ کی سربلندی کا نام ہے، محض غیرت و حمیت کا نام نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1910 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3099 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3099]
اردو حاشہ: اس سے جہاد کی اہمیت واضح ہوتی ہے، نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو کفر اور کفار کے خلاف دل میں بغض رکھنا اور یہ جذبہ رکھنا چاہیے کہ جب بھی جہاد کا مرحلہ پیش آیا تو میں جان ومال کی قربانی سے گریز نہیں کروں گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3099 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2502 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2502]
فوائد ومسائل:
مخلص مسلمان ہر حال میں اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ چاہتا ہے۔
اوراس کے لئے کوشاں رہتا ہے۔
جہاد کا شائق اور جہادی عمل کا موئد اور معاون ہوتا ہے۔
اگر کسی میں ایسی کوئی کیفیت نہیں تو وہ نام ہی کا مسلمان ہے۔
اور ایسے جذبات سے محرومی نفاق کا ایک حصہ اور بہت بڑی بد بختی ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2502 سے ماخوذ ہے۔