حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ .

ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے اپنے والد سے، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے، سنا: وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے (ہوتے) ہیں۔“ یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں تمہیں (الوداعی) سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1902
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1659

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ سے دشمن کے سامنے یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں۔‘‘ تو ایک پراگندہ حالت آدمی کھڑا ہو کر پوچھنے لگا، اے ابو موسیٰ (عبداللہ بن قیس کی کنیت ہے) کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ کر کہنے لگا، میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں پھر اپنی تلوار کی میان توڑ کر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4916]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر کوئی بہادر اور جری انسان، دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے اکیلا ہی اس کے اندر گھس جائے اور شہید ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر اکیلا ان کا کچھ بگاڑ نہ سکتا ہو، بلکہ پکڑے جانے کا اندیشہ ہو جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو، تو پھر ایسا کرنا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1902 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1659 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں۔`
ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں ۱؎، قوم میں سے ایک پراگندہ ہیئت والے شخص نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ وہ آدمی لوٹ کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میں تم سب کو سلام کرتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ دیا اور اس سے لڑائی کرتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1659]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد اور اس میں شریک ہونا جنت کی راہ پر چلنے اور اس میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1659 سے ماخوذ ہے۔