صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ: باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ ، قَالَ : فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا ، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا " ، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْ وَالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " لَا ، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا " ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ " ، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ " ، قَالَ : يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : بَخٍ بَخٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا " ، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ، ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ ، قَالَ : فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جاسوس بنا کر روانہ فرمایا تاکہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کے حالات کا جائزہ لے، وہ واپس آیا تو میرے سوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا گھر میں کوئی نہ تھا، ثابت کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کو مستثنیٰ کیا تھا، اس نے آپ کو واقعہ سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور خطاب فرمایا، اس میں کہا، ”ہمیں ایک مطلوب ہے، تو جس کی سواری گھر میں ہے وہ ہمارے ساتھ سوار ہو جائے‘‘ تو کچھ لوگ آپ سے ان سواریوں کے بارے میں اجازت مانگنے لگے، جو مدینہ کے بالائی علاقہ میں تھیں، آپﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہی لوگ نکلیں جن کی سواریاں موجود ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی روانہ ہو گئے، حتی کہ مشرکوں سے بدر میں پہلے پہنچ گئے اور مشرک بھی آ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نہ بڑھے، حتیٰ کہ میں آگے ہوں‘‘ مشرکین قریب آ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو، جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے برابر ہے۔‘‘ عمیر بن حمام انصاری نے کہا، اے اللہ کے رسول! جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں‘‘ اس نے کہا، واہ، واہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تم واہ، واہ کلمہ تحسین کیوں کہہ رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! اس امید پر کہ میں بھی اس کے باشندوں میں داخل ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”تو اہل جنت میں سے ہے۔‘‘ تو اس نے اپنے ترکش سے چند کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگا، پھر کہا، اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ تو بہت طویل زندگی ہو گی اور وہ کھجوریں جو اس کے پاس تھیں، پھینک دیں، اور دشمن سے لڑنے لگا، حتیٰ کہ قتل کر دیا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
طلبه: مطلوبہ ضرورت۔
قرن: ترکش فوائد ومسائل: ابو سفیان ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے واپس آ رہا تھا، جس کے ساتھ صرف تیس چالیس آدمی تھے، آپ نے اس کے حالات سے آگاہی کے لیے جاسوس روانہ کیا، پھر اس کی رپورٹ پر مطلوبہ چیز سے آگاہ کیے بغیر نکلنے کا حکم دیا تاکہ خبر عام نہ ہو جائے اور فوری تعاقب کی بنا پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کچھ توقف نہیں کیا اور قافلہ کا تعاقب مطلوب تھا، اس لیے، اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اور تیاری نہیں کی اور حضرت عمیر نے جنتی ہونے کی پیش گوئی سن کر چند کھجوریں کھانے کے لیے وقت صرف کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور انہیں پھینک کر وہاں جانے کے لیے دشمن سے جا ٹکرائے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کہ آپ کو یہ پتہ تھا کون جنتی ہے اور کون دوزخی ہے، کیونکہ اس کا مدار وحی پر تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2618]
مسلمانوں میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا حرام ہے۔
الا یہ کہ امیر المومنین اصلاح احوال کےلئے ان کے بعض امور کی ٹوہ لگائےتو جائز ہے۔
تاہم دشمن کے احوال کی خبر لینے کے لئے یہ عمل سیاستاً واجب ہے۔