صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ وَخِلاَفَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ: باب: غازی کی مدد کرنے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وقَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو تیار کیا، تو اس نے بھی جہاد کیا اور اس نے غازی کے گھر کا اچھائی کے ساتھ خیال رکھا اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا۔‘‘
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا " .حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد میں حصہ لینے والے کو سامان جنگ فراہم کیا، اس نے یقینا غزوہ میں حصہ لیا اور جس نے جہاد کرنے والے کے گھر والوں میں اس کی نیابت کی اس نے بھی واقعی جہاد میں حصہ لیا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
مطلب یہ ہے کہ جتنا ثواب غازی کو ملے گا اتنا ثواب ہی اسے مکمل طور پر تیار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دے گا۔
غازی کو تیار کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اس کے لیے دوران سفر کی جملہ ضروریات مہیا کرے اور لڑائی کے لیے ضروری سامان کا بندوبست کرے۔
اس کےگھر میں خلیفہ بننے کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بال بچوں کی دیکھ بھال کرے،انھیں ضروریات زندگی فراہم کرے اور اس کی بیوی سے خیانت نہ کرے۔
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا، یا اس کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1629]
نوٹ:
(سند میں ’’محمد بن ابی لیلیٰ‘‘ ضعیف ہیں، مگرپچھلی سند صحیح ہے)
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے (گویا کہ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی (گویا کہ) جنگ میں شریک ہوا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3182]
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1746]
فوائد و مسائل:
(1)
روزے دار کا روزہ افطا ر کرانا ایک عظیم نیکی ہے
(2)
روزہ افطار کرانے کے لئے حسب توفیق کوئی بھی چیز پیش کی جا سکتی ہے پیٹ بھر کھلانا ضروری نہیں۔
اگر کھلائے تو اس کا الگ سے ثوا ب ہو گا
(3)
افطا ر کرانا نیکی میں تعاون ہے اور نیکی کے ہر کام میں تعا ون اس نیکی میں شر کت ہے خواہ بظا ہر معمولی ہو
(4)
روزہ کھلوانے والے کو ثواب، روزہ رکھنے والے کے حصے میں سے نہیں ملتا اسی طرح کسی نیکی کے کام میں اگر تعاون پر آمادہ ہو تو اس سے تعاون قبول کرنا چاہیے کیونکہ اس سے کام انجام دینے والے کا درجہ کم نہیں ہو جاتا۔
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2759]
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کے کسی کام میں تعاون کرنا اس نیکی میں شریک ہونے کے برابر ہے۔
(2)
جہاد میں مالی تعاون بھی جہاد ہے۔
(3)
جس نیکی میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں ان سب کو پورا ثواب ملتا ہے۔
کسی کے حصے کا ثواب کم کرکے دوسرے کو نہیں دیا جاتا۔
(4)
نیکی کی توفیق بھی اللہ تعالی کا احسان ہے اور اس پر ثواب ملنا اللہ تعالی کا مزید احسان ہے۔