صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ وَخِلاَفَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ: باب: غازی کی مدد کرنے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ ، قَالَ : ائْتِ فُلَانًا ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ ، قَالَ : " يَا فُلَانَةُ أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ ، وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَوَاللَّهِ لَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَكَ لَكِ فِيهِ " .ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ قبیلہ اسلم کے ایک نوجوان نے آ کر عرض کی: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور میرے پاس استطاعت نہیں کہ اس کا سامان باندھ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہو گیا ہے۔“ وہ نوجوان اس آدمی کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں: وہ سارا سامان مجھے دے دو جو تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا: اے فلاں بی بی! میں نے جو کچھ جہاد کے لیے تیار کیا تھا اسے دے دو اور اس میں سے کوئی چیز بچا کے نہ رکھو، اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہو گا کہ تم اس میں سے کچھ بچا کے رکھو اور اس میں سے تمہارے لیے برکت ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہو گیا، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو “، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا: جتنا سامان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2780]
1۔
چاہیے کہ جو چیز سامان یا مال اللہ کےلئے خاص کر دیا گیا ہو۔
اور انسان اسے اگر خود خرچ نہ کرسکے۔
تو کسی اور کے حوالے کردے۔
بالخصوص جہاد کا سامان اس کے خرچ کردینے میں برکت اور روک لینے میں بے برکتی ہے۔
ایسے مال میں اگر نذر اور وقف کی نیت کی گئی ہوتو خود خرچ کرنا یا کسی کو دے دینا واجب ہے۔
ورنہ مستحب۔