حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَعْجَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ ، رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ ، فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ " ،

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے بعجہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی نے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، اس کی پیٹھ پر اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو یا پھر وہ آدمی جو بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ان چوٹیوں میں سے کسی ایک چھوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہو، نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور یقینی انجام (موت) تک اپنے رب کی عبادت کرے، اچھائی کے معاملات کے سوا لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھے۔“

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَيَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، وَقَالَ : فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ خِلَافَ رِوَايَةِ يَحْيَى ،

قتیبہ بن سعید نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے، انہوں نے اور یعقوب بن عبدالرحمٰن دونوں نے اسی سند کے ساتھ ابوحازم سے اسی کے مانند روایت بیان کی (بعجہ کا مکمل نام لیتے ہوئے) بعجہ بن عبداللہ بن بدر کہا۔ اور یحییٰ کی روایت کے برعکس (ان وادیوں میں سے ایک وادی کے بجائے) ”ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں“ کہا۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ بَعْجَةَ ، وَقَالَ : فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ .

یہی روایت، امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے ابو حازم کی حدیث کے ہم معنی بیان کرتے ہیں، اس میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”پہاڑی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1889
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3977

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں سے بہترین زندگی اس آدمی کی ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رکھے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر لڑ رہا ہے، جب وہ دشمن کی آواز سنتا ہے، یا گھبراہٹ محسوس کرتا ہے، اس پر اڑ کر پہنچ جاتا ہے، قتل اور موت اس کے محل میں تلاش کرتا ہے، یا وہ انسان جو کچھ بکریوں کے ساتھ پہاڑی چوٹیوں میں سے کسی چوٹی پر ہے یا ان وادیوں میں سے کسی وادی کے اندر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4889]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مَعَاشِ: زندگی۔
(2)
هَيْعَةً: دشمن کی آمد پر خطرہ کی آواز۔
(3)
فَزْعَةً: دشمن کےحملہ کےخطرہ کےسبب گھبراہٹ طاری ہونا۔
(4)
يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ: وہ شہادت کی تلاش میں اس جگہ پہنچتا ہے، جو قتل اور موت کی جگہ ہے، یعنی جہاں موت آسکتی ہے اور شہادت کی آرزو پوری ہو سکتی ہے۔
(5)
شَعَفَةٍ ج الشَّعَفِ: پہاڑکی چوٹی۔
(6)
الْيَقِينُ: موت۔
(7)
طَارَ عَليه: اس پر تیزی سے اس کا رخ کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4889 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3977 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3977]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جہاد کی زندگی سب سے اعلی زندگی ہے۔

(2)
مجاہد کا مقصد اللہ کے دشمنوں سے جنگ کرنا اور کافروں سے مسلمانوں کی سر زمین کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
اسے عہدے، تمغے، انعام یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی۔

(3)
شہادت کی تمنا کرنا اور جہاد میں اس لیے حصہ لینا کہ شہادت کی موت نصیب ہو ایک بہت بڑی خوبی ہے۔

(4)
فتنوں کے زمانے میں اپنا دین بچانے کے لیے عام آبادی سے الگ تھلگ رہائش اختیار کرنا جائز ہے لیکن یہ تنہائی اس طرح کی نہیں ہونی چاہیے جس طرح کی عیسائی راہب یا ہندو جوگی اختیار کرتے ہیں کہ انسانوں سے بالکل کٹ جاتےہیں بلکہ اس کا مقصد لوگوں کے برے کاموں میں شریک ہونے سے بچنا ہے، نیکی کے کاموں میں حسب طاقت شریک رہنا چاہیے۔

(5)
نماز اور زکاۃ سب سے اہم عبادتیں ہیں ان سے کسی بھی حال میں غفلت جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3977 سے ماخوذ ہے۔