صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ: باب: جہاد اور دشمن کو تاکتے رہنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ ، فَقَالَ : " رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پوچھا: لوگوں میں سے کون سا شخص افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد پھر کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ مومن افضل ہے جو کسی پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں رہتا ہے، اللہ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .معمر نے زہری سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا مومن جو اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ آدمی جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا رہتا ہے، اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، فَقَالَ : وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ رَجُلٌ .اوزاعی نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور آدمی جو کسی گھاٹی میں ہے کہا۔ پھر وہ آدمی نہیں کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
تنہائی اور عزلت میں اس کے شر سے سب لوگ بچے رہتے ہیں۔
اس حدیث سے اس نے دلیل لی جو عزلت اور گوشہ نشینی کو اختلاط سے بہتر جانتا ہے۔
جمہور کا مذہب ہے کہ اختلاط افضل ہے اور حق یہ ہے کہ یہ مختلف ہے باختلاف اشخاص اور احوال اور زمانہ اور موقع کے۔
جس شخص سے مسلمانوں کو دینی اور دنیاوی فائدے پہنچتے ہوں اور وہ لوگوں کو برائیوں پر صبر کرسکے‘ اس کے لئے اختلاط افضل ہے اور جس شخص سے اختلاط سے گناہ سرزد ہوتے ہوں اور اس کی صحبت سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہو‘ اس کے لیے عزلت افضل ہے۔
اوپر حدیث أي الناس أفضل کونسا آدمی بہتر ہے جواب میں جو کچھ آنحضرتﷺ نے فرمایا حقیقت میں ایسا مسلمان دوسرے سب مسلمانوں سے افضل ہوگا کیونکہ جان اور مال دنیا کی سب چیزوں میں آدمی کو بہت محبوب ہیں تو ان کا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا سب سے بڑھ کر ہوگا بعضوں نے کہا لوگوں سے عام مسلمان مراد ہیں ورنہ علماء اور صدیقین مجاہدین سے بھی افضل ہیں۔
میں (مولانا وحید الزمان مرحوم)
کہتا ہوں کفار اور ملحدین اور مخالفین دین سے بحث مباحثہ کرنا اور ان کے اعتراضات کا جو وہ اسلام پر کریں‘ جواب دینا اور ایسی کتابوں کا چھاپنا اور چھپوانا یہ بھی جہاد ہے (وحیدی)
اس نازک دور میں جبکہ عام لوگ قرآن و حدیث سے بے رغبتی کر رہے ہیں اور دن بدن جہالت و ضلالت کے غار میں گرتے چلے جا رہے ہیں‘ بخاری شریف جیسی اہم پاکیزہ کتاب کا باترجمہ و تشریح شائع کرنا بھی جہاد سے کم نہیں ہے اور میں اپنے انشراح صدر کے مطابق یہ کہنے کے لیے تیار ہوں کہ جو حضرات اس کارِ خیر میں حصہ لے کر اس کی تکمیل کا شرف حاصل کرنے والے ہیں یقیناً وہ اللہ کے دفتر میں اپنے مالوں سے مجاہدین فی سبیل اللہ کے دفتر میں لکھے جا رہے ہیں (راز)
پہاڑ کی گھاٹی کا ذکر اس لیے ہے کہ وہ عام طور پر لوگوں سے خالی ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنا اور تنہائی اختیار کرنا افضل ہے جبکہ ایک حدیث میں ہے: ’’وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ گھل مل کررہے اور ان کی تکلیفیں پہنچانے پر صبر کرے تو وہ اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں میں گھل مل کر نہیں رہتا اور نہ ان کے تکلیفیں پہنچانے پر صبر ہی کرتا ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، القیامة، حدیث: 2507)
اس کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ مذکورہ افضلیت،اشخاص،احوال اور اوقات کے اعتبار سے مختلف ہے کیونکہ جن لوگوں سے دوسروں کو دینی اور دنیاوی مفادات پہنچتے ہوں اور وہ لوگوں کی تکلیفوں پر صبر کرسکتے ہوں تو ان کے لیے مل جل کر رہنابہتر ہے اور جس شخص سے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی وجہ سے گناہ سرزد ہوتے ہوں اور اس کی صحبت سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہوتو اس کے لیے الگ تھلگ رہنا بہتر ہے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ برے لوگوں کی صحبت سے الگ رہنے والا راحت و سکون کا باعث ہے اور اس میں بہت سے فائدے ہیں، کم از کم انسان، لوگوں کے شر سے دور رہتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی زندگی میں کچھ وقت گوشہ نشینی (تنہائی)
بھی اختیار کرو۔
(2)
علامہ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: علیحدہ رہنے میں بہت بھلائی ہے کیونکہ انسان غیبت سے محفوظ رہتا ہے اور اس قسم کی برائی بھی نہیں دیکھتا جسے وہ دور کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
(فتح الباري: 402/11)
ہمارے رجحان کے مطابق گندے معاشرے میں جب بندۂ مومن کے ایمان و اخلاق کو خطرہ ہو تو گوشہ نشینی بہتر ہے۔
واللہ أعلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے “، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ” پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1660]
وضاحت:
1؎:
اس سے قطعاً یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیوں کہ بعض احادیث میں ’’وَيُؤتِى الزَّكَاة‘‘ کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہوگا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی۔
اوروہ دورشاید بہت قریب ہو۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ۱؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2485]
جہاد کے بعد مجاہدے کی فضیلت ہے۔
اور پہاڑ کی گھاٹی میں عبادت سے مقصود یہ ہے کہ آدمی دکھلاوے اور سنانے کی کیفیات سے بہت بعید ہو۔
یا دوران جہاد میں اپنی زمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عبادت بھی کرتا ہو یہ بیان ہے کہ جب معاشرے میں دین وایمان خطرے میں ہو او ر صحبت صالح میسر نہ ہو تو ان سے علیحدہ ہوجانے میں کوئی حرج نہیں۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے “، اس نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ” پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو، اور لوگوں کو (ان سے دور رہ کر) اپنے شر سے بچاتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3107]
(2) ”پہاڑی وادی“ یہ مخصوص حالات کی بات ہے وگرنہ عام حالات میں گوشہ نشینی اور مسلم معاشرے سے علیحدگی جائز نہیں۔ نماز باجماعت اور جمعہ فرض ہیں۔ بیماروں کی بیمار پرسی کرنا اور ضعیفوں کی مدد کرنا بھی مسلمانوں کے حقوق میں سے ہے۔ یہ سب کچھ معاشرے کے اندر رہ کرہی ممکن ہے۔ اکیلا شخص ان سب فرائض اور حقوق کا تارک ہوگا۔ وہ افضل کیسے ہوسکتا ہے؟ البتہ جب معاشرے میں رہ کر دین کے ضائع ہونے کا قوی امکان اور خطرہ موجود ہو تو گوشہ نشینی بہتر ہے، مگر موہوم خطرات کے پیش نظر جائز نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے انتہائی تکالیف برداشت کرکے بھی معاشرے کو نہیں چھوڑا بلکہ اصلاح کی کوشش کرتے رہے، نیز تبلیغ بھی تو ایک فریضہ ہے اور یہ معاشرے میں رہ کر ہی ممکن ہے، لہٰذا مندرجہ بالا حدیث انتہائی حالات کے ساتھ مخصوص ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا: ” کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ (قرآن) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ (قرآن) کی کسی چیز کا خیال نہیں [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3108]
(2) جس سے مشورہ طلب کیا جائے، اسے خالصتاً خیر خواہی سے مشورہ دینا چاہیے۔