صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح یا شام کو چلنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے (جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .سفیان نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
الرباط بکسر الراء لموحدة الخفیفة ملازمة المکان الذي بین المسلمین والکفار لحراسة المسلمین منھم واستدل المصنف بالآیة اختیار لأشھر التفاسیر فعن الحسن البصري والقتادة اصبروا علی طاعة اللہ و صابروا أعداء اللہ في الجھاد ورابطوا في سبیل اللہ وعن محمد بن الکعب أصبروا علی الطاعة وصابروا لانتظار الوعد ورابطو العدو وتقوا اللہ فیما بینکم (فتح)
1۔
چوکی پہرے کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ کﷺ ا ارشاد گرامی ہے: ’’ایک دن رات پہرہ دینا ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔
اگرپہرہ دیتے ہوئے کوئی مجاہد شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل برابر جاری رہے گا اور اسے اس پر اجر دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے امن رہے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإمارة، حدیث 4938(1913)
2۔
سرحد پر دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا تاکہ دشمن مسلمانوں کے علاقے میں گھسنے نہ پائے اور اپنی سرحدوں کی نگرانی کرنا رباط کہلاتا ہے۔
یہ پہرہ دینا کے تمام سازوسامان سے بہتر ہے کیونکہ دنیا فانی ہے اس کا سامان ختم ہونے والاہے جبکہ پہرہ دینے کے ثمرات باقی رہنے والے ہیں اور جو چیز فنا ہونے والی ہے وہ باقی رہنے والی اشیاء سے کیونکر افضل ہوسکتی ہیں۔
قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی زندگی شاہد ہے کہ انہوں نے اسلام کو اور اس کے مقاصد عالیہ کو کما حقہ سمجھا تھا اور وہ اسی بنا پر سر پر کفن باندھے ہوئے پوری دنیا میں سرگرداں اور کوشاں ہوئے اور ایک ایسی تاریخ بنا گئے جو قیامت تک آنے والے اہل اسلام کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
1۔
ان احادیث سے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلانا مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مجاہد کو تھوڑا سا جہاد کرنے کے عوض آخرت میں اجرعظیم عطا فرماتاہے تو جو شخص جہاد میں اپنا مال صرف کرے اور اپنی جان لٹا دے اس کے اجر و ثواب کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔
2۔
لوگوں کے دلوں میں دنیا کے مال ومتاع کی بہت عظمت ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کی بے ثباتی ان الفاظ میں بیان فرمائی: اگر کسی کو پوری دنیا بھی مل جائے اور وہ دنیا کی ہر چیز کا مالک ہوجائے تو بھی جنت کی ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
3۔
رسول اللہ ﷺ کی مقدس تعلیم کا یہ اثر ہواکہ مسلمانوں نے اسلام اور اس کے مقاصد کو سمجھا،پھر وہ سر پرکفن باندھ کر پوری دنیا پر چھاگئے،اور ایسی تاریخ رقم کرگئے جو قیامت تک آنے والے اہل اسلام کے لیے مشعل راہ ہے۔
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔" [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1648]
وضاحت:
1؎:
کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیاگیا، کیوں کہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اترنے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے، گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتاہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہوگئی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔
اوردوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدارومسافت بتلاکر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے۔" [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3120]
اس حدیث سے جنت کی تھوڑی سی جگہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جب جنت کی ایک کوڑا رکھنے کی مقدار جگہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہے تو جنت کے ایک محل کا کیا مقام و مرتبہ ہوگا۔