صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا: باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ : سَلْ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ ، قَالَ اللَّهُ : هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فَتَقُولَانِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ .حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبہ وہ آدمی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے جنت کی طرف پھیر دے گا، اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت نظر آئے گی، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے میں، اس کے سایہ میں رہوں گا۔“ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تجھے مجھ سے مانگنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے...۔“ آخر تک، اور اس میں اتنا اضافہ ہے ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا، فلاں فلاں چیز کا سوال کر! اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تجھے ملے گا اور اس سے دس گنا زائد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا، اور حور العین سے اس کی دونوں بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: شکر کے لائق وہ اللہ ہے جس نے تجھے ہمارے لیے زندہ کیا، اور ہمیں تیرے لیے زندگی دی۔ آپ نے فرمایا: تو وہ کہے گا: جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے، وہ کسی ایک کو نہیں دیا گیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
مَثَّلَ لَهُ: اس کے لیے شکل و صورت بنائے گا۔
(2)
أَمَانِيّ: أُمْنِيَةٌ کی جمع ہے، آرزو، خواہش، تمنا۔
فوائد ومسائل:
جنت ایک ایسی جگہ ہے، جہاں ہرانسان اپنےاپنےمقام ومرتبہ پرمطمئن ہوگا، اورسمجھےگا اللہ تعالیٰ کی سب سےزیادہ عنایات اورنعمتیں مجھےہی حاصل ہیں، کوئی ایک ان میں میرے برابرنہیں ہے۔
جبکہ دنیامیں هل من مزيد کی تمنا اورآرزوکبھی ختم نہیں ہوتی۔
إلا ماشاءالله!