صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى: باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ ، وَقَالَ آخَرُ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ ، وَقَالَ : " لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 19 الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا ،حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے کہا، مجھے اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی عمل نہ کروں تو کوئی پرواہ نہیں ہے، دوسرے شخص نے کہا، اگر میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کی آبادی کے سوا کوئی عمل نہ کروں تو کوئی پرواہ نہیں ہے، تیسرے نے کہا، جو کچھ تم نے کہا، جہاد اس سے افضل ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو اور یہ جمعہ کا دن تھا، لیکن جب میں جمعہ پڑھ لوں گا، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جس میں تم اختلاف کر رہے ہو، اس کے بارے میں دریافت کروں گا، تو آپﷺ نے مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا، اس شخص کے عمل کے برابر قرار دیا ہے، جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا‘‘۔۔۔
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ .یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے۔