صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: باب: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي ، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا ، مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ ، حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً ، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو ، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں نکلنے والے کو ضمانت دی، جبکہ صرف اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اس پر یقین رکھتے ہوئے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے، وہ میری ضمانت میں ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، یا اپنے جس گھر میں نکلا، اس میں اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس لاؤں گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگے گا، قیامت کے دن وہ زخم اس حالت میں آئے گا، جس میں وہ لگتے وقت تھا، اس کا رنگ خون والا رنگ ہو گا اور مہک کستوری کی طرح ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ مسلمانوں کے لیے دشواری ہو گی، تو میں کسی دستہ سے کبھی پیچھے نہ بیٹھتا، جب وہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان سب کو سواری مہیا کر سکوں اور ان کے پاس اپنے طور پر سواری حاصل کرنے کی مقدرت نہیں اور مجھ سے پیچھے رہنا ان کے لیے دشواری کا باعث ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، میں چاہتا ہوں، میں اللہ کی راہ میں جنگ لڑتے شہید ہو جاؤں (پھر زندگی ملے) پھر غزوہ میں حصہ لیتے شہید ہو جاؤں (پھر زندگی ملے) پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں۔‘‘
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت مصنف اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ ، إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اسے اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ (شہید ہو گیا تو) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ (جہاد کے لیے) نکلا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " .عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا، رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا ، إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّد ٍ فِي يَدِهِ ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً ، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً ، فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي " .ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے، قیامت کے دن پھر اسی طرح اپنی اسی حالت میں ہو گا جس طرح زخم لگتے وقت تھا، اس سے خون ٹپک رہا ہو گا، اس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ بیٹھا رہتا، لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان (مسلمانوں) کو سواریاں مہیا کروں، نہ ان کے پاس اتنی وسعت ہے کہ وہ سواریاں مہیا کر کے میرے پیچھے آئیں، ان کے دل اس پر (بھی) راضی نہیں ہوتے کہ وہ میرے پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَر َ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَى بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر مجھے خطرہ نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا، تو میں کسی دستہ سے پیچھے نہ رہتا‘‘ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا اور اس سند سے یہ منقول ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں چاہتا ہوں، میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں‘‘ جیسا کہ اوپر ابو زرعہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کر آئے ہیں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ . نَحْوَ حَدِيثِهِمْیحییٰ بن سعید نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ (خدشہ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل میں ڈالوں گا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں۔“ ان سب کی حدیث کی مانند۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَى قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے“ سے لے کر ”میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا“ تک۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
تَضَمَّنَ الله اور تَكَفَّلَ الله کا معنی ہے کہ اللہ اس کا ضامن اور کفیل ہے۔
(2)
فَهُوَ عَلي ضَامِن: وہ میری ذمہ داری اور ضمان میں ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر انسان جہاد میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے، رسول نے جو جہاد کے فضائل بتائے ہیں، ان کو دل کی گہرائی سے تسلیم کرتے ہوئے نکلتا ہے، تو شہادت کی صورت میں وہ جنتی ٹھہرتا ہے اور واپسی کی صورت میں محض اجر یا غنیمت دونوں سے حصہ پاتا ہے اور اگر اسے زخم لگتا ہے، تو وہ قیامت کے دن زخمی حالت میں اٹھے گا، اس کے زخم سے خوب بہہ رہا ہو گا، جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور شہادت اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بار بار حاصل ہونے کی تمنا اور آرزو کی، حالانکہ دنیوی مشکلات اور مصائب سے گھبرا کر موت کی خواہش کرنا جائز نہیں ہے، مقصد یہ ہے کہ شہادت کی آرزو کی صورت میں انسان اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دین کی سربلندی اور دشمن سے مسلمانوں کے دفاع اور تحفظ کا باعث بنتا ہے، دشمن کی کامیابی کا خواہاں نہیں ہوتا ہے۔
حضرت امام بخاری کو یہی ثابت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کےعلاوہ بھی کلام کرتا ہے یہ جہمیہ معتزلہ منکرین حدیث کی تردید ہے۔
1۔
اللہ تعالیٰ کی ضمانت یہ ہے کہ شہادت کی صورت میں اسے جنت میں داخل کرے گا اور سلامتی سے واپسی کی صورت میں اجرو غنیمت دے کر واپس کرے گا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا محض احسان و کرم ہے کہ مجاہد شہادت یا سلامتی سے خالی نہیں اگر شہید ہو گیا تو جنت کا حق دار اگر سلامتی سے واپس ہوا تو ثواب یا دونوں کا مستحق۔
بہر حال کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے اعزاز و احترام سے محروم نہیں ہو گا بشرطیکہ اس کے گھر سے نکلنے کا مقصد جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق ہو۔
2۔
واضح رہے کہ جہاد کی تین قسمیں ہیں۔
کفار و مشرکین سے جہاد۔
شیطان سے جہاد۔
اپنے نفس سے جہاد۔
درج ذیل آیت کریمہ جہاد کی تینوں قسموں کو شامل ہے۔
’’اور اللہ کی راہ میں)
جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔
‘‘ (الحج: 22۔
78)
اللہ تعالیٰ کے کلمات تصدیق سے مراد شرعی احکام پر ایمان لانا اور ان کے مطابق عمل کرنا ہے نیز تقدیر کے معاملات پر ایمان لانا بھی ضروری ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے انھی الفاظ سے اپنا مقصود ثابت کیا ہے کہ کلمات کونیہ قدریہ جن کا وجود کائنات کے وجود سے پہلے ہے اور کلمات قرآن کریم کے علاوہ ہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن کے علاوہ بھی کلام کرتا ہے اور ان کلمات کا کائنات سے تعلق حادث ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
جس کی دل سےتصدیق کرنا ’زبان سے اس کا اقرار کرنا اورعمل سےاس کا ثبوت دینا ضروری ہے۔
1۔
اس حدیث میں کلمے سے مراد کلمہ طیبہ ہے جس کی تصدیق کرنا ایمان کی اولین بنیاد ہے دل سے تصدیق کرنا زبان سے اقرارکرنا اور عمل سے اس کا ثبوت دینا انتہائی ضروری ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے صفت کلام ثابت کی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات غیر محدود اور غیر مخلوق ہیں۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا ایسے ہی اس کے کلمات اور اس کی صفات کا احاطہ کرنا بھی نا ممکن ہے۔
اس کے کلمات خواہ دینیہ شرعیہ ہوں یا کونیہ قدریہ ہوں دونوں قسمیں ہی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور غیر مخلوق ہیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کائنات کی ہر چیز مخلوق ہے لیکن قرآن کریم مخلوق نہیں۔
اللہ کا کلام اس کی مخلوق سے کہیں بڑھ کر عظیم القدر ہے کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرے تو کلمہ کن کہنے سے چیز وجود میں آجاتی ہے جس چیز سے کوئی چیز وجود میں آئے وہ یقیناً بہت بڑی اور عظیم الشان ہو گی اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس لیے وہ بھی غیر مخلوق ہے۔
(خلق أفعال العباد ص: 34)
بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ آیات اور پیش کردہ احادیث سے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات غیر محدود اور لا متناہی ہیں۔
اور کلام الٰہی غیر مخلوق ہے کیونکہ ان کلمات سے مخلوق کو معرض دجود میں لایا جاتا ہے۔
اگر یہ بھی مخلوق ہوں تو مخلوق سے مخلوق کو پیدا کرنا لازم آتا ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 36]
حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ نے پچھلے ابواب میں نفاق کی نشانیوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ایمان کی نشانیوں کو شروع فرما رہے ہیں۔ چنانچہ لیلۃ القدر کا قیام جو خالصاً اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ بتلایا گیا کہ وہ بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اس سے حضرت امام کا مقصد ثابت ہوا کہ اعمال صالحہ ایمان میں داخل ہیں اور ان کی کمی و بیشی پر ایمان کی کمی و بیشی منحصر ہے۔ پس مرجیہ و کرامیہ جو عقائد رکھتے ہیں وہ سراسر باطل ہیں۔ لیلۃ القدر تقدیر سے ہے یعنی اس سال میں جو حوادث پیش آنے والے ہیں ان کی تقدیرات کا علم فرشتوں کو دیا جاتا ہے، «قدر» کے معنی حرمت کے بھی ہیں اور اس رات کی عزت قرآن مجید ہی سے ظاہر ہے، شب قدر رمضان شریف کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے جو ہر سال ادلتی بدلتی رہتی ہے۔
قیام رمضان اور قیام لیلۃ القدر من الدین کے درمیان حضرت امام نے ”جہاد“ کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی ایمان کا ایک جز و اعظم ہے۔ حضرت امام نے اپنی گہری نظر کی بنا پر جہاں اشارہ فرمایا ہے کہ جہاد مع النفس ہو (یعنی نفس کے ساتھ جہاد ہو) جیسا کہ رمضان شریف کے روزے اور قیام لیلۃ القدر وغیرہ ہیں۔ یہ بھی ایمان میں داخل ہیں۔ اور جہاد بالکفار ہو تو یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔ نیز اس طرف بھی اشارہ کرنا ہے کہ جہاد اگر رمضان شریف میں واقع ہو تو اور زیادہ ثواب ہے۔ پھر اگر شہادت فی سبیل اللہ بھی نصیب ہو جائے تو نور علی نو رہے۔
حدیث سے جہاد کا مفہوم ظاہر ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ صرف وہی ہے جس کا خروج خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ تصدیق رسل سے مراد ان جملہ بشارتوں پر ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا ہے جو اللہ کے رسولوں نے جہاد فی سبیل اللہ سے متعلق بیان فرمائی ہیں۔ مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے اللہ پاک نے دو ذمہ داریاں لی ہیں۔ اگر اسے درجہ شہادت مل گیا تو وہ سیدھا جنت میں داخل ہوا، حوروں کی گود میں پہنچا اور حساب و کتاب سب سے مستثنیٰ ہو گیا۔ وہ جنت کے میوے کھاتا ہے اور معلق قندیلوں میں بسیرا کرتا ہے اور اگر وہ سلامتی کے ساتھ گھر واپس آ گیا تو وہ پورے پورے ثواب کے ساتھ اور ممکن ہے کہ مال غنیمت کے ساتھ بھی واپس ہوا ہو۔
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شہادت کی تمنا فرمائی۔ جس سے آپ امت کو مرتبہ شہادت بتلانا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے میں جنت کا سودا کر لیا ہے جو بہترین سودا ہے۔
حدیث شریف میں جہاد کو قیامت تک جاری رہنے کی خبر دی گئی ہے۔ ہاں طریقہ کار حالات کے تحت بدلتا رہے گا۔ آج کل قلبی جہاد بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
1۔
اس سے پہلے شب قدر کا بیان تھا اور آئندہ باب قیام رمضان سے متعلق ہے دونوں ابواب میں گہری مناسبت تھی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے درمیان میں جہاد کا باب قائم کر دیا یہ اس لیے کہ جہاد دو قسم کا ہوتا ہے: ایک جہاد مع النفس اور دوسرا جہاد مع الکفار، پھر جہاد مع الکفار، جہاد مع النفس پر موقوف ہے۔
پہلے اپنے نفس سے جہاد کر کے اسے احکام شریعت کے تابع بنا لیا جائے۔
اس کے بعد جہاد مع الکفار ہوگا۔
قیام لیلۃ القدر میں جہاد مع النفس تھا، اس مناسبت سے جہاد مع الکفار کا ذکر کیا ہے۔
2۔
مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی ذمے داری لی ہے۔
اگر شہادت مل گئی تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
اگر شہادت کا منصب نہ مل سکا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔
(1)
غنیمت ملنے کی صورت میں دنیا کا متاع اور آخرت کا اجر ملے گا۔
(2)
اگر غنیمت نہ مل سکی تو اجر تام کے ساتھ واپس ہو گا۔
اجر اور غنیمت دونوں جمع ہو سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ مجاہد فی سبیل اللہ دونوں سے محروم رہے ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ اگر مجاہد فی سبیل اللہ کو غنیمت ملی تو اسے دو ثلث اجر مل گیا۔
باقی ایک ثلث قیامت کے دن کے لیے محفوظ ہے۔
اگر غنیمت نہیں ملی تو پورا اجر محفوظ رہے گا۔
(سنن أبي داود، الجهاد، حدیث: 2497)
3۔
رمضان کے ابواب کے درمیان باب جہاد کو بیان کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ جہاد اگر رمضان میں ہو تو ثواب میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہےاگر شہادت مل جائے تو ﴿نُورٌ عَلَى نُورٍ﴾4۔
اس سے معلوم ہوا کہ اعمال کو ایمان سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس میں کمی بیشی بھی ممکن ہے کیونکہ اللہ پر ایمان ہی جہاد کے لیے نکلنے کا باعث ہے، اس لیے یہ نکلنا دراصل ایمان باللہ ہی ہے کیونکہ سبب کا نام دینا عرب کے ہاں معروف ومتداول ہے۔
(شرح الکرماني: 158/1)
اس پر بھی اس حدیث میں کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔
ایسے مجاہدین بھی ہوتے ہیں جو محض حصول دنیا و نام و نمود کے لئے جہاد کرتے ہیں۔
جن کے لئے کوئی اجر و ثواب نہیں ہے۔
بلکہ قیامت کے دن ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا کہ تمہارے جہاد کرنے کا مقصدصرف اتنا ہی تھا کہ تم کو دنیا میں بہادر کہہ کر پکارا جائے۔
تمہارا یہ مقصد دنیا میں تم کو حاصل ہو گیا۔
اب آخرت میں دوزخ کے سوا تمہارے لئے اور کچھ نہیں ہے۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مال غنیمت صرف جہاد کرنے والوں کے لیے ہے، نیز حقیقی مجاہد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جو صرف اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے گھر نکل کر میدان کار زار میں شریک ہو۔
اس کے برعکس کچھ ایسے مجاہدین بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا اور نمود ونمائش کے لے جہاد کرتے ہیں۔
ایسے مجاہدین کے لیے کوئی اجروثواب نہیں ہے بلکہ قیامت کے دن انھیں برسرعام ذلیل ورسوا کیا جائے گا پھر انھیں دوزخ میں دھکیل دیاجائے گا۔
ان سے کہا جائے گا: تمہارا مقصد صرف اتنا تھا کہ تمھیں دنیا میں بہاد کہہ کرپکاراجائے۔
تمہارا یہ مقصد دنیا میں پورا ہوگیا اب آخرت میں تمہارے لیے دوزخ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہا گیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل (اجر و ثواب میں) جہاد کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: ” تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے “، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہر مرتبہ کہتے: ” تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے “، تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اور روزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا (یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1619]
وضاحت:
1؎:
یعنی جس طرح اللہ کی عبادت میں ہرآن اور ہر گھڑی مشغول رہنے والے روزے دار اور نمازی کا ثواب برابر جاری رہتا ہے، اسی طرح اللہ کی راہ کے مجاہد کا کوئی وقت ثواب سے خالی نہیں جاتا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اس شخص کی جو اس کے راستے میں نکلا ہو اور اس کا یہ نکلنا جہاد کے مقصد سے، اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو وہ ضامن ہے اس کا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے وطن لوٹا دے جہاں سے وہ نکلا تھا اس اجر یا مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو جو بھی ملا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5033]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3124]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2753]
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح ہر نیک عمل کی قبولیت کے لیے خلوص نیت شرط ہے۔
اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے بھی خلوص نیت شرط ہے۔
(2)
جہاد تمام رسولوں پر ایمان کا ثبوت ہے۔
کیونکہ اس کا حکم تمام شریعتوں میں موجود رہا ہے البتہ بعض انبیاء ؑ نے اس کی شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سےجہاد بالسیف نہیں کیا۔
(3)
خلوص کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا ثواب ہر صورت میں ملتا ہے خواہ مجاہد غنیمت حاصل کر کے خیریت سے گھر پہنچ جائے یا کافروں سے لڑتا ہوا شہید ہوکر جنت میں پہنچ جائے۔
(4)
بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے۔
اس صورت میں پیچھے رہنے والے گناہ گار نہیں ہوتے۔
اگر کوئی حکمت پیش نظر ہو تو افضل کام چھوڑ کر دوسرا جائز کام کیا جاسکتا ہے۔
(5)
کسی جماعت کے سربراہ یا قوم کے قائد کو متبعین کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے بشرطیکہ ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو۔
(6)
بات میں تاکید پیدا کرنے کے لیے اللہ کی قسم کھانا جائز ہے۔
(7)
قسم میں اللہ کے نام کے بجائےاس کی کسی صفت کا ذکر کرنا بھی جائز ہے
(8)
ناممکن کام کی تمنا جائز ہےجب کہ وہ نیکی سے تعلق رکھتا ہو۔
(9)
شہادت کا مقام اتنا عظیم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہیدوں سے افضل ہونے کے باوجود یہ تمنا رکھتے تھےکہ انھیں شہادت کا مقام بھی حاصل ہو۔
«. . . 346- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”تكفل الله لمن جاهد فى سبيله، لا يخرجه من بيته إلا الجهاد فى سبيله وتصديق كلمته، بأن يدخله الجنة أو يرده إلى مسكنه الذى خرج منه مع ما نال من أجر أو غنيمة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے (اور اس کا مطمح نظر) جہاد فی سبیل اللہ، (اعلائے) کلمتہ اللہ (اور اس) کی تصدیق کے سوا کچھ نہیں تو اللہ اسے جنت کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ اسے اس میں داخل کرے گا یا اجر یا غنیمت عطا کرنے کے بعد اسے گھر واپس بھیج دے گا۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/0/0: 553]
[وأخرجه البخاري 7463، من حديث مالك به ورواه مسلم 104/1876، من حديث ابي الزناد به]
تفقه:
➊ ہر عمل کے لئے نیت کا خالص ہونا ضروری ہے ورنہ سارے اعمال باطل اور رائیگاں ہو جائیں گے۔
➋ جہاد کے لئے عقیدے کا صحیح ہونا ضروری ہے جیسا کہ ”اس کے کلمے کی تصدیق کے لئے نکلتا ہے“ سے ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ صحیح حدیث کا انکار کرنے والے لوگ ہر قسم کے جہاد سے محروم و بدنصیب ہیں۔
➌ جہاد اسلام کا عظیم الشان رکن بلکہ اسلام کی چوٹی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد اور مجاہدین سے بڑی محبت کرتے تھے، امیر کو لشکر سے پیچھے رہنے سے ناگزیر وجوہات کے علاوہ کوئی چیز آڑے نہیں آنی چاہیے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے گھر سے جہاد کی نیت سے نکلنے والے کی فضیلت کا بیان ہے کہ اگر وہ شہید ہو جائے تو سیدھا جنت میں جائے گا، اور اگر وہ غازی بن کر واپس گھر چلا جائے تو تب بھی وہ اجر و ثواب ساتھ لے کر لوٹے گا، یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ضروری نہیں کہ ہر غازی مال غنیمت لے کر ہی واپس لوٹے، بسا اوقات مال غنیمت بھی نہیں ملتا، اللہ تعالیٰ ہمیں میدان قتال میں شہادت نصیب فرمائے، آمین۔
یاد رہے کہ ہر وہ کام جو اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے ہو، وہ جہاد ہوتا ہے، ہاں قتال جہاد کی ایک قسم ہے۔
اس حدیث سے شہید کی زبردست فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ روز قیامت اس کا خون تازہ بہہ رہا ہوگا، اور اس سے کستوری جیسی خوشبو آ رہی ہو گی، سبحان اللہ۔