صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب فَضِيلَةِ الْخيْلِ وَأَنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا باب: گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .زکریا نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے، انہوں نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک کے لیے خیر (اور برکت) وابستہ کر دی گئی ہے، یعنی اجر اور غنیمت۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْرُ مَعْقُوصٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ " ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَ ذَاكَ ؟ ، قَالَ : " الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .حضرت عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر گھوڑوں کی پیشانیوں میں بندھی ہوئی ہے۔‘‘ آپﷺ سے سوال کیا گیا، اے اللہ کے رسولﷺ! یہ کیسے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”قیامت تک اجر و غنیمت ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَاه إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، َأَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ :جریر نے حصین سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، البتہ جریر نے (عروہ بارقی کے بجائے) عروہ بن جعد (نسب کے ساتھ) کہا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،امام صاحب اپنے کئی اساتذہ کی دو سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں اجر و غنیمت کا ذکر نہیں ہے، عروہ بارقی کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا ذکر سفیان کی روایت میں ہے۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ .عیزار بن حریث نے عروہ بن جعد (بارقی) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی اور ”اجر اور غنیمت“ کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
جواب یہ ہے کہ قبیلے والے متعدد اشخاص تھے۔
وہ سب جھوٹ بولیں، یہ نہیں ہوسکتا تو حدیث موصول اور صحیح ہوگئی۔
گھوڑوں والی حدیث ميں ایک پیش گوئی ہے جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہی ہے۔
یہ بھی اس طرح باب سے متعلق ہے کہ اس میں آپ کی صداقت کی دلیل موجود ہے۔
1۔
اس مقام پر یہ اشکال ہے کہ امام بخاری ؒ کو حضرت عروہ بارقی ؓ کی کون سی حدیث مقصود ہے؟ اگرگھوڑوں کی حدیث مقصود ہے تو وہ بلاشبہ موصول ہے مگر اس کو عنوان سے کوئی مناسبت نہیں اور اگر بکری والی حدیث مقصود ہے تو عنوان کے مطابق تو ہے مگر وہ موصول نہیں کیونکہ شبیب کے قبیلے والے مجہول ہیں۔
اس کاجواب اس طرح دیا گیا ہے کہ قبیلے والے متعدد اشخاص تھے وہ سب جھوٹ بولیں یہ نہیں ہوسکتا،نیز جب یہ معلوم ہے کہ شبیب صرف عادل راوی سے روایت کرتا ہے تو یقین کیا جائے گا کہ انھوں نے قبیلے کے عادل راویوں ہی سے روایت لی ہے۔
بہرحال یہ روایت متصل ہے اور اس میں رسول اللہ ﷺ کے ایک معجزے کا بیان ہے کہ عروہ باقی کے لیے آپ کی دعا قبول ہوئی۔
اگر مٹی بھی خریدتے تو وہ بھی سونے کے بھاؤ فروخت ہوتی تھی اور انھیں اس سے کافی نفع ہوتا تھا۔
یہ نبوت کی دلیل ہے۔
2۔
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عروہ بارقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سودے کو نہ صرف برقراررکھا بلکہ اسے پسند فرمایا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کی خریدوفروخت کے معاملات میں برکت عطا فرمائے۔
3۔
معلوم ہوا کہ منافع کی شرح میں کوئی تعین نہیں ہے۔
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نےقیمت خرید کے برابر نفع وصول کیا۔
واللہ أعلم۔
4۔
گھوڑوں والی حدیث بھی عنوان کے عین مطابق ہے کہ آج جدید اسلحے کی فراوانی کے باوجود بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت باقی ہے۔
بہرحال دونوں احادیث متصل ہیں اور عنوان کے مطابق ہیں۔
واللہ المستعان۔
اس کا مطلب یہ کہ غنیمت کا مستحق ہر شخص نہیں ہے۔
گویا آیت میں جو اجمال تھا اس کی تفصیل و وضاحت سنت نے کردی ہے۔
1۔
اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کے لیے غنیمت کا مال حلال کردیاہے۔
اس سے پہلے کسی اُمت کے لیے غنیمت کا مال حلال نہ تھا، چنانچہ اس وقت مال غنیمت میدان جنگ میں جمع کردیا جاتا اورآسمان سےآگ آتی اور اسے جلاکر راکھ کردیتی، لیکن اس اُمت کے لیے غنیمت کا مال حلال قراردیا گیا ہے۔
2۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ میدان جنگ میں شریک ہونے والے گھوڑے باعث برکت ہیں کہ ان کی پیشانیوں سے مال غنیمت باندھ دیا گیا ہے جو مجاہدین کے لیے حلال ہے۔
اس کامطلب ہے کہ شرکت کرنے والوں کو غنیمت ضرور ملے گی، نیز اس کا حقدار ہرشخص نہیں بلکہ وہ مجاہد ہے جو جنگ میں شریک ہو، گویاذکر کردہ آیت میں جو اجمال تھا، اس حدیث نے اس کی وضاحت اور تشریح کردی ہے۔
ابن مدینی نے بھی اسی کو ٹھیک کہا ہے اور ابن ابی حاتم نے کہا کہ ابو الجعد کا نام سعد تھا۔
سلیمان کی روایت ابو نعیم کے مستخرج میں اور مسدد کی روایت ان کے مسند میں موصول ہے۔
«. . . حَدَّثَنَا عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ . . .»
". . . عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2852]
باب اور حدیث میں مناسبت: باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مسلمانوں کے امیر فاجر یا نیک پر استدلال فرمایا اور دلیل کے طور پر جو حدیث پیش فرمائی اس کا تعلق گھوڑوں کے ساتھ ہے، بظاہر باب اور حدیث میں مناسبت مشکل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «. . . . . ولم يقيد ذالك بما إذا كان الإمام عادلا فدل على أن لا فرق فى حصول هذا الفضل بين أن يكون الغذو مع الإمام العادل أو الجائر.» [فتح الباري، ج 6، ص: 70]
". . . . . اس وقت کے ساتھ اسے قید نہیں کیا جب کہ امام عادل ہو، یعنی اس فضیلت کا حصول امام کے عادل ہونے کے ساتھ خاص نہیں ہے، پس دلالت ہے اس حدیث میں کہ نہیں ہے فرق (اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے) چاہے امام عادل ہو یا ظالم۔"
ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول سے حدیث اور ترجمۃ الباب میں مناسبت قائم ہو جاتی ہے کہ جب تک گھوڑے ہوں گے اس پر جہاد ہوتا رہے گا، اور ان گھوڑوں کی پیشانیوں پر برکت ہو گی قیامت تک، یعنی قیامت تک جہاد جاری رہے گا، اور یہ عین ممکن ہے کہ قیامت تک کئی ایسے دور ہوں گے جو اچھے بھی ہوں گے اور برے بھی، اور ان ادوار میں امام عادل بھی ہو گا اور ظالم بھی۔
علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ [عمدة القاري، ج 14، ص: 214]
علامہ ابن التین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: «أنه وقع فى رواية أبى الحسن القابسي فى لفظ الترجمة "الجهاد ماض على البر والفاجر".» [فتح الباري، ج 6، ص: 71]
مقصد ترجمۃ الباب کا یہ ہے کہ جہاد ہر شخص پر قیامت تک کے لیے واجب اور ضروری ہے، خواہ نیک ہو یا فاجر۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوالحسن القابسی کی روایت میں ترجمۃ الباب کے الفاظ یوں وارد ہوئے ہیں: «الجهاد ماض على البر و الفاجر.»
کیونکہ یہ اعلاء کلمۃ اللہ اور دنیا و آخرت میں سربلندی کا ذریعہ ہے۔
اس لئے اسلامی مفاد کے پیش نظر ظالم حکمرانوں کی قیادت میں بھی جہاد کیا جاتا رہے گا۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے خیروبرکت کو قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانیوں سے وابستہ قراردیا ہے،پھر اس ضمن میں اجروغنیمت کابھی حوالہ دیاہے جو جہاد کا نتیجہ اور اس کی برکات ہیں۔
2۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بھی قیامت تک جاری رہےگا۔
پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت تک آنے والے سب حکمران نیکوکار نہیں ہوں گے بلکہ ان میں بدکار بھی ہوں گے تو جہاد کا ہرنیکوکار اور سیاہ کارحکمران کے ہمراہ جائز ہونا ثابت ہوا۔
3۔
چونکہ یہ دونوں احادیث امام بخاری ؒ کی شرط کے مطابق نہ تھیں، اس لیے عنوان میں ان کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
الغرض حکمران عادل ہو یا ظالم،نیکوکار ہو یا بدکار،جہاد ہرحکمران کے دور میں درست اور جاری رہے گا کیونکہ یہ اللہ کے دین کے غلبے اور دنیا و آخرت میں سربلندی کا ذریعہ ہے اور اشاعت اسلام کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر (بھلائی) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1694]
وضاحت:
1؎:
یہ وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کے لیے استعمال یا جہاد کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔
عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے (اور خیر سے مراد کیا ہے؟) ثواب اور مال غنیمت۔" [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3607]