صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا: باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً ، وَيَكْبُو مَرَّةً ، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً ، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا ؟ فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ " ، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ ؟ فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ ؟ قَالَ : هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، حِينَ قَالَ : أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ .حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا آدمی، تو وہ کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی اسے آگ جھلسے گی، جب وہ آگ سے نکل جائے گا، پلٹ کر اس کو دیکھے گا، اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات، جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔ اللہ نے مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے، جو پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی ایک کو عطا نہیں کی۔ تو اسے ایک درخت دکھائی دے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے سایہ حاصل کروں، اور اس کے (پھلوں کا) پانی پیوں۔ تو اللہ عز و جل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے اگر میں تیری درخواست پوری کر دوں، تو تو اور درخواست پیش کر دے۔ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور وہ اللہ سے اور سوال نہ کرنے کا معاہدہ کرے گا، اور اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا، جس پر صبر کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ تو وہ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا۔ تو وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی کو پیے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا، جو پہلے سے زیادہ حسین ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے آرام حاصل کر سکوں، اور اس کا پانی پیوں، میں تجھ سے کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ فرمائے گا: کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا، کہ میں اور سوال نہیں کروں گا اور فرمائے گا، ممکن ہے اگر میں تجھے اس کے قریب کردوں، تو تو اور سوال کردے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرے گا، کہ وہ اس کے سوا سوال نہیں کرے گا، اور اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی (چیز) نعمت دیکھ رہا ہے، جس کی (خواہش کیے) بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سایہ سے راحت حاصل کرے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کو جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت دکھائی دے گا، جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے آرام حاصل کروں، اور اس کا پانی پیوں، میں اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے میرے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا، کہ اور سوال نہیں کروں گا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں (معاہدہ کیا تھا) یہی سوال ہے اور سوال نہیں کروں گا۔ اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہے، جس کے سوال کیے بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ تو جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا، تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا، تو کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کون سی چیز تجھے مجھ سے سوال کرنے سے روک سکتی ہے؟ کیا تجھے یہ چیز راضی کر دے گی، کہ میں تجھے دنیا اور اس کے برابر دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو رب العالمین ہو کر میرا مذاق اڑاتا ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے، کہ میں کیوں ہنسا؟ تو سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بات پر رب العالمین کے ہنسنے کی بنا پر، کیا تو رب العالمین ہو کر میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: میں مذاق نہیں کرتا، میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
يَكْبُو مَرَّةً: وہ اوندھے منہ گرے گا۔
(2)
تَسْفَعُ: جھلس دے گی، اس پر اثر انداز ہو گی۔
(3)
يَعْذِرُ: ي پر زبر اور پیش دونوں آ سکتے ہیں، معزور قرار دینا، عذر قبول کرنا۔
(4)
يَصْرِينِي: صری سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے، کاٹنا یعنی: کونسی چیز تیرے سوال کو روکے گی، تجھے راضی کرے گی۔
فوائد ومسائل:
اس شخص کامکمل واقعہ تینوں حدیثوں کےمجموعہ سےسامنےآتاہے۔