صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ: باب: قرآن شریف کافروں کے ملک لے جانا منع ہے جب یہ ڈر ہو کہ ان کے ہاتھ لگ جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سرزمین میں قرآن لے جانے سے منع فرمایا ہے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ " يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .لیث نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف کی بنا پر کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا، دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ ، فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوكُمْ بِهِ ،حماد نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا۔“ ایوب نے کہا: قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے (اسے آڑ بنا کر) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَالثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ جَمِيعًا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ فَإِنِّي أَخَافُ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں، ابن علیہ اور ثقفی کی روایت میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ میں ڈرتا ہوں۔‘‘ سفیان اور ضحاک کی روایت میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”مبادا وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
بعض دشمنان اسلام کی طرف سے ایسے واقعات اب بھی ہوتے رہتے ہیں۔
کہ اگر قرآن مجید ان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ بے حرمتی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘ حالانکہ یہ حرکت اخلاق و شرافت سے بہت ہی بعید ہے۔
جس کتاب کو دنیا کے کروڑوں لوگ اپنی مذہبی مقدس کتاب مانتے ہیں‘ اس کی اس طور بے حرمتی کرنا گویا دنیا کے کروڑوں انسانوں کا دل دکھانا ہے۔
ایسے گستاخ لوگ کسی نہ کسی شکل میں اپنی حرکتوں کی سزا بھگتتے رہتے ہیں۔
جیسا کہ مشاہدہ ہے۔
اسلام کی پاکیزہ تعلیم یہ ہے کہ کسی بھی آسمانی مذہبی کتاب کا احترام ضروری ہے جو اس کی حد کے اندر ہی ہونا چاہئے بشرطیکہ وہ کتاب آسمانی کتاب ہو۔
1۔
غالی قسم کے غیر مسلم لوگ قرآن مجید کے ساتھ بے حرمتی کا برتاؤ کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جائے رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی عظمت و توقیر اور اس کے احترام کے پیش نظر یہ حکم دیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کافروں کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اس کی بے حرمتی کریں۔
2۔
قرآن کریم کی یہ فتح مبین ہے کہ وہ اپنا لوہا منوا چکا ہے۔
اب دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں کسی نہ کسی صورت میں قرآن نہ پہنچ چکا ہو۔
قرآن کریم کی یہ عظمت کسی اور آسمانی کتاب کو حاصل نہیں ہے۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2610]
جہاں بھی یہ اندیشہ ہو کہ قرآن کریم کی ہتک کی جائےگی۔
اسے وہاں نہ لے جایا جائے۔
لیکن اگر کافر قرآن سمجھنا چاہتا ہو۔
اور اسے اسلام کی دعوت دینا مقصود ہو تو اس غرض سے اس کو دینا جائز ہے۔
جیسے کہ ہرقل کے نام خط لکھا گیا۔
اور اس میں قرآن مجید کی آیت (آل عمران:64) لکھی گئی تھی۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2880]
فوائدومسائل: (1)
دارالحرب میں قرآن مجید اور مقدس کتابیں لے جائیں تو ان کی حفاظت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے ورنہ ایسے موقع پر قرآن مجید ساتھ نہ لے جائیں۔
(2)
مسلمان کو قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور یاد ہونا چاہیے تاکہ خاص حالات سے محروم نہ رہے۔
(3)
غیر مسلموں کے جن علاقوں میں ایسا خطرہ نہ ہو ہاں قرآن مجید لے جانا چاہیے تاکہ تلاوت کی جا سکےاور غیر مسلموں کو تبلیغ کی جا سکے۔
(4)
جس غیر مسلم سے یہ خطرہ نہ ہوکہ قرآن مجید اور احادیث کی بے حرمتی کرے گا اسے ایسی کتابیں دینے میں حرج نہیں جن میں آیات واحادیث لکھی ہوئی ہوں تاکہ وہ اسلام سے متعارف ہو اور اسے ہدایت نصیب ہوجائے۔
«. . . 212- وبه: أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو. قال مالك: أراه مخافة أن يناله العدو. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسلام کے) دشمنوں کے علاقے میں قرآن لے کر سفر کر نے سے منع کیا ہے۔، امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس میں یہ خوف ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 570]
تفقه
➊ اگر بے حرمتی کا خوف ہو تو کافروں کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانا ممنوع ہے۔
➋ اگر بے حرمتی کا خوف نہ ہو تو کافروں کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانا منع نہیں ہے۔
➌ اگر کافروں تک اسلام کی دعوت پہنچانا مقصود ہو تو قرآن کا ترجمہ یا اصل انھیں تحفتاً یا عاریتاً دینا جائز ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 7، وصحيح مسلم 1773]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید لکھی ہوئی حالت میں مدوّن تھا۔
➎ حدیث کا وہی مفہوم معتبر ہے جو سلف صالحین سے ثابت ہے۔