صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ وَبَيَانِ مَعْنَى: «لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ». باب: مکہ کی فتح کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " ،ولید بن مسلم نے کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابن شہاب زہری نے حدیث سنائی، کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ان سب کو حدیث سنائی، کہا: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ تو بہت مشکل ہے، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”پانیوں (چشموں، دریاؤں، سمندروں وغیرہ) کے پار (رہتے ہوئے) عمل کرتے رہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا۔“
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .یہی صورت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں کرے گا۔‘‘ اور یہ اضافہ ہے، آپﷺ نے پوچھا: ”کیا گھاٹ پر لے جانے کے دن محتاجوں کو ان کا دودھ دیتے ہو۔‘‘ اس نے کہا، جی ہاں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے آپ نے اس کی ہجرت کی اجازت نہ دی۔
دیہاتی لوگ چونکہ ہجرت پر صبر نہیں کر سکتے تھے اور ان میں مدینے کی سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہ تھی اس لیے آپ نے اسے ہجرت سے روکا جیسا کہ ایک دیہاتی کو مدینہ طیبہ میں بخار ہو گیا تھا تو وہ بیعت توڑ کر چلا گیا اس لیے آپ نے فرمایا: ’’تم ہجرت نہ کرو، بلکہ جب تم حقوق پورے ادا کرتے ہو تو تم پر اپنے وطن میں اقامت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
‘‘ اس حدیث میں ہجرت کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
یہاں تک کہ اونٹوں کی زکوٰۃ بھی باقاعدہ نکالتے رہتے ہو تو خواہ مخواہ ہجرت کا خیال کرنا ٹھیک نہیں۔
ہجرت کوئی معمولی کام نہیں ہے۔
گھر در وطن چھوڑنے کے بعد جو تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں ان کو ہجرت کرنے والے ہی جانتے ہیں۔
مسلمانان ہند کو اس حدیث سے سبق حاصل کرنا چاہیے، اللہ نیک سمجھ عطا کرے۔
آمین
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے اونٹوں سے زکاۃ کی مشروعیت بیان کی ہے۔
مقصد یہ ہے کہ جب انسان اپنے مال سے فریضہ ادا کرتا رہے اور اپنے آپ کو عبادت میں مصروف رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔
وہ جہاں چاہے رہے اس معاملے میں اس سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔
ایک روایت میں مزید تفصیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کی ادائیگی کے بعد اس سے دریافت کیا: ’’تو کسی کو ان اونٹوں میں سے عطیہ وغیرہ دیتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں! پھر آپ نے پوچھا: ’’پانی کے چشمے پر ان کا دودھ دوہ کر اسے غرباء میں تقسیم بھی کرتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں! اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’دریاؤں کے اس پار عمل کرتا رہ، اللہ تعالیٰ تیرے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الھبة وفضلھا، حدیث: 2633) (2)
اس کا مطلب قطعا یہ نہیں ہے کہ ہجرت منسوخ ہو چکی تھی بلکہ آپ جانتے تھے کہ یہ دیہاتی ہجرت جیسے کوہ گراں کا متحمل نہیں، اس لیے آپ نے مذکورہ ہدایات دیں۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ “ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2477]
1۔
(ھجرة) لغت میں چھوڑدینے کو کہتے ہیں۔
اور اصطلاحا یہ ہے کہ انسان اپنےدین اور ایمان کی حفاظت کی غرض سے دارلکفر۔
دارلفساد۔
اوردارالمعاصی۔
کوچھوڑ کر دارالسلام اور دارالصلاح کی سکونت اختیار کرلے۔
اور ہجرت کی جان یہ ہے کہ انسان اللہ عزوجل کے منع کردہ امور سے باز رہے۔
جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاری۔
الایمان حدیث 10)
2۔
ہجرت کے تقاضے انتہائی شدید ہیں۔
یہ کوئی آسان عمل نہیں ہے۔
3۔
(البحار) کا لفظ عربی زبان میں بستیوں اور شہروں پر بھی بولاجاتا ہے۔
4۔
اعمال کی بنیاد ایمان اور اخلاص پرہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ” تمہارا برا ہو۔ ہجرت کا معاملہ تو سخت ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ” کیا تم ان کی زکاۃ نکالتے ہو؟ “ کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ” جاؤ، پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4169]
(2) اونٹوں کی زکاۃ ادا کرنا فضیلت والا عمل ہے۔
(3) مذکورہ حدیث سے صحرا نشینوں اور اعرابیوں کے لیے نرمی کا پہلو نکلتا ہے کہ ان کی استطاعت کو مد نظر رکھ کر انہیں کسی چیز کا پابند کیا جائے۔ اسی لیے ان پر ہجرت فرض نہیں تھی جبکہ مکہ شہروالوں پر ہجرت فرض تھی۔