حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " .

حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے لیے بیعت کرنے کی خاطر حاضر ہوا، تو آپﷺ نے فرمایا: ”ہجرت، اصحاب ہجرت کو مل چکی ہے، لیکن اب اسلام، جہاد اور نیکی کے کام کے لیے بیعت ہو سکتی ہے۔‘‘

وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، قَالَ : " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا " ، قُلْتُ : فَبِأَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ ؟ ، قَالَ : " عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ ، بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ

علی بن مسہر نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی، کہا: مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہا: میں اپنے بھائی ابومعبدکے ساتھ فتح (مکہ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے، آپ نے فرمایا: ”ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت (کا مرحلہ) گزر گیا۔“ میں نے عرض کی: پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر۔“ ابوعثمان نے کہا: میری حضرت ابومعبدرضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : فَلَقِيتُ أَخَاهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ .

محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا، انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، ابومعبدرضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1863
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2963

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے لیے بیعت کرنے کی خاطر حاضر ہوا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت، اصحاب ہجرت کو مل چکی ہے، لیکن اب اسلام، جہاد اور نیکی کے کام کے لیے بیعت ہو سکتی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4826]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جس ہجرت میں فضیلت تھی اور جو مقصود اور لازمی تھی، وہ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آباد ہونا تھا، تاکہ مسلمانوں کی قوت ایک جگہ مجتمع ہو جائے اور مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل کر لیا جائے، اب جب مکہ دارالسلام بن گیا ہے، تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنا، امتیاز اور شرف کا باعث نہیں رہا، کیونکہ مکہ فتح ہو چکا اور اسلام کو غلبہ اور قوت و شوکت حاصل ہو گئی، اس لیے اس ہجرت کا شرف اور امتیاز مہاجرین کو حاصل ہو چکا ہے، اس لیے اب اگر کوئی ایسے علاقہ میں رہتا ہے، جہاں دین کا اظہار اور اس کے فرائض و واجبات کو ادا کرنا ممکن نہیں ہے اور وہ ہجرت کر سکتا ہے، تو اس کو ہجرت کرنا چاہیے، لیکن اگر اسلام کا اظہار اور فرائض و واجبات کی ادائیگی پر کوئی قدغن نہیں ہے یا ہجرت کرنا ممکن نہیں ہے، تو اس کے لیے ہجرت کرنا ضروری نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1863 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2963 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2963. حضرت مجاشع ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں اور میرا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2963]
حدیث حاشیہ: عہد رسالت میں ہجرت کا جو نشانہ تھا وہ فتح مکہ پر ختم ہوگیا۔
کیونکہ سارا عرب دارالاسلام بن گیا‘ بعد کے زمانوں میں مکی زندگی کا نقشہ سامنے آنے پر ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔
نیز اسلام اور جہاد بھی باقی ہے۔
لہٰذا ان سب پر بیعت لی جاسکتی ہے۔
بیعت سے مراد حلف اور اقرار ہے کہ اس پر ضرور قائم رہا جائے گا۔
خلاف ہرگز نہ ہوگا۔
بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جو بیان ہوں گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2963 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2963 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2963. حضرت مجاشع ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں اور میرا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2963]
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث کے مطابق صحابہ کرام ؓنے غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺکے ہاتھ پر جہاد کرنے کی بیعت کی کہ جب تک وہ زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے۔
اس بعیت کا مطلب یہ تھا کہ وہ میدان جنگ سے راہ فراراختیارنہیں کریں گے اگرچہ اس راستے میں ان کی جانیں ختم ہوجائیں۔
دوسری حدیث میں حضرت مجاشع ؓسے بیعت لینے کا ذکر ہے۔
وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے۔
اس وقت مکہ سے ہجرت کرنے کا موقع نہیں تھا کیونکہ وہ اب مکہ دارالسلام بن چکا تھا۔

رسول اللہ ﷺ ہجرت کے لیے بیعت ان لوگوں سے لیتے تھے جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے تھے، جو لوگ اس کے بعد مسلمان ہوئے ان سے ہجرت کی بیعت نہیں لی جاتی تھی بلکہ ان سے جہاد کی بیعت لی جاتی تھی کیونکہ جہاد قیامت تک کے لیے فرض ہے، البتہ جس ملک میں انسان کا ایمان خطرے میں ہو، وہاں سے ہجرت کرکے ایسے علاقے میں جانا ضروری ہے جہاں ایمان محفوظ ہو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2963 سے ماخوذ ہے۔