حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا ، أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي ، أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : فَكَانَ يُقَالُ : ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً " .

منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سے آخر میں اس سے نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر (پھر) کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے لیے (وہاں) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے (یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے) آپ نے فرمایا: وہ شخص کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے (یا میری ہنسی اڑاتا ہے) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے؟“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا ، فَيُقَالُ لَهُ : انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کو یقیناً جانتا ہوں، جو دوزخیوں میں سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا۔ ایک شخص ہوگا جو سرین کے بل گھسٹ کر دوزخ سے نکلے گا، اس کو کہا جائے گا: چل کر جنت میں داخل ہو جا! آپ نے فرمایا: وہ جا کر جنت میں داخل ہوگا تو وہ لوگوں کو اس حال میں پائے گا، وہ اپنی اپنی جگہ لے چکے ہیں، اسے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جو تو گزار کر آیا ہے؟ وہ کہے گا ہاں! تو اسے کہا جائے گا: تمنا کر! وہ تمنا کرے گا تو اسے کہا جائے گا: جو تمنا تو نے کی ہے، اس کے ساتھ تیرے لیے دنیا سے دس گنا زائد ہے۔ تو وہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر میرے ساتھ مذاق کرتا ہے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں کھل گئیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 186
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6571) و في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء وغيرهم برقم (7511) مختصراً والترمذي في ((جامعه)) فى صفة جهنم، باب: ما جاء ان اللنار، نفسين، وما ذكر من يخرج من النار من اهل التوحيد . وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2595) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة الجنة برقم (4339) انظر ((التحفة)) برقم (9405)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 186

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک میں جانتا ہوں کہ جہنم سے سب سے آخر میں کون نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں کون داخل ہوگا؟ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ (آخر میں اسے) فرمائے گا جا! جنت میں داخل ہو جا! وہ جنت میں داخل ہو گا، تو وہ یہ سمجھے گا کہ جنت بھر چکی ہے۔ واپس آکر عرض کرے گا اے میرے رب! وہ تو بھر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:461]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
حَبْوًا: ہاتھوں اور پاؤں کے بل پر، ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل پر یا ہاتھوں اور سرین کے بل پر چلنا۔
(2)
نَوَاجِذُهُ: ناجذ کی جمع ہے، داڑھیں۔
(3)
مَنْزِلَةٌ: مقام و مرتبہ، درجہ۔
فوائد ومسائل:
یہ مختصرروایت ہے، اورجنتی آدمی کاتفصیلی مکالمہ حدیث 299/182 میں گزرچکاہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔