حدیث نمبر: 1859
وحَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ ، قَالَ : " فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا ، فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ " .

سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں، میرا باپ ان لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے پاس بیعت کی تھی، اس نے بتایا، ہم اگلے سال حج کے لیے گئے، تو ہم سے اس کی جگہ اوجھل ہو گئی اور اب اگر تم لوگوں کو معلوم ہو گئی تو تم (شرکاء بیعت سے بھی) زیادہ جانتے ہو۔

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ ، قَالَ : فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ " .

سفیان نے طارق بن عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ بیعت رضوان کے سال وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر اگلے سال وہ لوگ اس درخت کو بھول چکے تھے۔

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا " .

قتادہ نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے وہ درخت دیکھا تھا، پھر میں اس کے بعد وہاں گیا تو میں اس درخت کو نہ پہچان سکا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1859
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4163 | صحيح مسلم: 1859

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1859 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سعید بن المسیب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، میں نے اس درخت کو دیکھا، پھر بعد میں اس کے پاس آیا تو اسے پہچان نہ سکا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4821]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: علماء نے لکھا ہے چونکہ اس درخت کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور خیر و برکت اور سکینہ کا نزول ہوا تھا، اگر یہ درخت متعین اور معلوم رہتا تو یہ خدشہ تھا کہ لوگ آہستہ آہستہ اس کی تعظیم و تکریم میں غلو کرتے کرتے اس کی عبادت کرنے لگ جاتے پھر اس کو نافع اور ضار خیال کرتے ہوئے میلہ گاہ بنا لیتے جیسا کہ بخاری شریف کی اس روایت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، طارق بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں حج کے لیے گیا اور کچھ لوگوں کو ایک جگہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے پوچھا، یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے کہا، یہ وہ درخت ہے، جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کی تھی، اس پر حضرت سعید بن المسیب نے بتایا، میرا باپ اس بیعت میں شریک تھا، اس کو تو اگلے سال ہی اس درخت کا پتہ نہ چل سکا، تو ان لوگوں کو کیسے پتہ چل گیا، گویا لوگوں نے ایک درخت کو وہ درخت سمجھ کر مسجد بنا لیا، اس طرح خطرہ پیدا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس درخت کو کٹوا دیا، تاکہ اس سے شرک و بدعت کا دروازہ نہ کھل جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1859 سے ماخوذ ہے۔