صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ: باب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ ،عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ (انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی)۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُد . َح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو (1300) تھے، (میرا قبیلہ) اسلم، مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4815]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
بیعت رضوان یا اصحاب شجرہ کی تعداد چودہ سو (1400)
تھی، جیسا کہ خیبر کے حصوں کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ ان کو گنا نہیں گیا تھا، اس لیے اندازہ لگاتے ہوئے، عام طور پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے چودہ سو کہا اور بعض دفعہ پندرہ سو کہہ دیا اور حضرت عبداللہ بن اپنے اندازہ کے مطابق تیرہ سو کہہ دیا، یہ اپنے اپنے اندازے کا اختلاف ہے، کیونکہ اندازے میں کمی و بیشی ہو جاتی ہے۔
بیعت رضوان یا اصحاب شجرہ کی تعداد چودہ سو (1400)
تھی، جیسا کہ خیبر کے حصوں کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ ان کو گنا نہیں گیا تھا، اس لیے اندازہ لگاتے ہوئے، عام طور پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے چودہ سو کہا اور بعض دفعہ پندرہ سو کہہ دیا اور حضرت عبداللہ بن اپنے اندازہ کے مطابق تیرہ سو کہہ دیا، یہ اپنے اپنے اندازے کا اختلاف ہے، کیونکہ اندازے میں کمی و بیشی ہو جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1857 سے ماخوذ ہے۔